منو بھائی کی پیدائش
٭6 فروری 1933ء اردو اور پنجابی کے مشہور ادیب اور شاعر منو بھائی کی تاریخ پیدائش ہے۔
منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی ہے اور وہ وزیرآباد گجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1956ء میں انہوں نے روزنامہ تعمیر راولپنڈی سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا بعدازاں وہ امروز اور مساوات سے بھی منسلک رہے۔ 1982ء میں وہ روزنامہ جنگ لاہور کے اسٹاف میں شامل ہوئے اور اب بھی اسی اخبار سے منسلک ہیں جہاں ان کا کالم گریبان باقاعدگی سے اشاعت پذیر ہوتا ہے۔
منو بھائی نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی متعدد ڈرامہ سیریل اور ڈرامہ سیریز تخلیق کیے جن میں جزیدہ، عجائب گھر، پلیٹ فارم، جھوک سیال، سونا چاندی اور ابابیل کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی کئی کتابیں بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہیں جن میں جنگل اداس ہے،گریبان اوراجے قیامت نئیں آئی کے نام شامل ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
تنویر نقوی کی پیدائش
٭ اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کا اصل نام سید خورشید علی تھا اور وہ 6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا اور ان کے بڑے بھائی بھی نوا نقوی کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ تنویر نقوی نے 15 سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور 21 سال کی عمر میں1940 ء میں ان کا پہلا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا اس سے قبل 1938ء میں وہ ہدایت کار نذیر کی فلم شاعر سے فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کرچکے تھے۔
سنہرے سپنے کی اشاعت کے بعد ہدایت کار اے آر کاردار نے انہیں بمبئی آنے کی دعوت دی جہاں ان کا قیام تقریباً آٹھ برس رہا اس دوران انہوں نے قریباً ڈیڑھ درجن فلموں کے نغمات تحریر کیے جن میں انمول گھڑی اور لیلیٰ مجنوں کے نغمات بے حد مقبول ہوئے خصوصاً انمول گھڑی کا نغمہ آواز دے کہاں ہے تو آج بھی روز اول کی طرح پسند کیا جاتا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں تنویر نقوی پاکستان آگئے جہاں انہوں نے اپنے بے مثل گیتوں سے دھوم مچا دی تنویر نقوی کے مقبول نغمات کی فہرست بے حد طویل ہے جن میں زندگی ہے یا کسی کا انتظار (فلم سلمیٰ)‘ جان بہاراں‘ رشک چمن (فلم عذرا)‘ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں (فلم انارکلی)‘ رم جھم رم جھم پڑے پھوار (فلم کوئل)‘ زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نا (فلم ہم سفر)‘ رقص میں ہے سارا جہاں (فلم ایاز) اے دل تری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں ہے (فلم تاج محل) اور 1965ء کی جنگ میں نشرہونے والا نغمہ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو سرفہرست ہیں۔
تنویر نقوی نے اپنے خوبصورت گیتوں پر تین مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیا انہوں نے یہ ایوارڈ جن نغمات پر حاصل کیے ان میں فلم کوئل کا نغمہ دل کا دیا جلایا‘ شام ڈھلے کا نغمہ‘ مرلی بجائے جا گیت سنائے جا اور فلمی دوستی کا نغمہ چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے شامل تھے۔
تنویر نقوی نے کئی فلموں کے لیے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں جن میں فلم نور اسلام کی نعت شاہ مدینہ‘ یثرب کے والی اور فلم ایاز کی نعت بلغ العلیٰ بکمالہٖ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
تنویر نقوی دو شادیاں کی تھیں ان کی پہلی بیوی فلمی ادکارہ مایا دیوی تھیں جب کہ دوسری بیوی ملکہ ترنم نورجہاں کی بڑی بہن عیدن تھیں۔
٭ تنویر نقوی کا انتقال یکم نومبر 1972ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
استاد علی حیدر جوشی کی وفات
٭6 فروری 2004ء کو پشتو کے معروف شاعر اور ادیب استاد علی حیدر جوشی تخت بہائی میں وفات پاگئے۔
استاد علی حیدر جوشی 29 مئی 1914ء کو سمیلہ (اسماعلیہ) ضلع صوابی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پشتو ادب کو فروغ دینے میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تصانیف کی تعداد 25 کے لگ بھگ ہے جن میں یکہ یوسف، پیغام جنت، دیدار حسین، دیدار مینہ، ادم روح، انجام غرور، گل سرحد، حکایات لاجواب، عجیبہ گل، پزدے غم، دیوان حیدری، آخری توبہ، غل اوساز، رحم داد خان اور دیوان جوشی کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے سرحد کے مشہور لوک داستان یوسف خان شیربانو کو بھی نظم کیا اور اسی نام سے پشتو کی پہلی فلم بھی بنائی۔
استاد علی حیدر جوشی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اور انہیں فخر مردان اور فخر تخت بہائی کے اعزازات بھی دیئے گئے تھے۔ علی حیدر جوشی سمیلہ (اسماعلیہ) ضلع صوابی میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
سرظفر اللہ خان کی پیدائش
٭6 فروری 1893ء پاکستان کے نامور ماہر قانون اور سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی تاریخ پیدائش ہے۔
سر ظفر اللہ خان سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔
قیام پاکستان سے پہلے وائسرائے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی اور جنرل اسمبلی کے صدر اور عالمی عدالت انصاف کے جج کے منصب پر فائز رہے۔ ان کی خودنوشت سوانح عمری تحدیث نعمت کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔
یکم ستمبر 1985ء کو سر ظفر اللہ خان لاہور میں وفات پاگئے اور ربوہ ضلع جھنگ میں آسودۂ خاک ہوئے۔