|
لنکا میں جو بھی دیکھا وہ باون گز کا؟ از۔۔۔شمس جیلانی
06.02.2016, 03:01am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔شمس جیلانی
اگر آپ تاریخ میں جائیں تو نظر آئے گاکہ پاکستان کی ا نتظامیہ کوجمہوریت کے منہ لگنے پر والے دوتمانچوں نے ختم کردیا۔ ورنہ ہر چیز کی طرح انتظامیہ بھی انگریز وراثت میں دے گئے تھے ،جو بخوبی ابتدائی دور میں کام کرتی رہی۔ پہلا تمانچہ ایوب خان کا لایا ہوا انقلاب تھا، جس کی بھینٹ79 وہ مایہ ناز سابق آئی سی ایس آفیسر چڑھے جنہوں نے پاکستان آپٹ کرکے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیا تھا ؟ان ہی میں وہ مایہ ناز دماغ بھی شامل تھا جس نے جھنگ جیسے بیابان علاقہ کو گلِ گلزار بنادیا اور جب پی آئی اے کی تاسیس ہو ئی تو اس کوہی یہ کام سونپا گیا اور اسی نے پی آئی اے کو دنیا کی کامیاب ترین ایر لائن بنادیا جس کانام تھا ظفر الحسن لاری۔ اب آپ پوچھیں گے کہ انہیں نکا لا کیوں گیا ؟ جواب یہ ہے کہ بھائی کی خطا پر جن کا نام تھا جسٹس ظہیر الحسن لاری اور جرم یہ تھا کہ وہ سندھ ہائی کورٹ کی اس بنچ میں شامل تھے جس نے پہلے “ قتل جمہوریت پر اسوقت کے گور نر جنرل غلام محمد کا ہاتھ پکڑلیا تھا جو دراصل جنرل ایوب خان کاہی ہاتھ تھا؟ کیونکہ ایوب خان کو کئی سیئنیر فوجی آفیسروں پر سبقت دیکر لانے والے وزیر اعظم جناب لیاقت علی خان تھے۔ اس کے بعد کئی وزرائے اعظم سے استعفٰی دلانے کاکام انہیں سے ہی لیا جاتا رہا جس نے ذرا آنکھیں دکھائیں، بس گورنر جنرل کے سامنے پیشی کے وقت ایوب خان کا وہاں موجود ہونا کافی ہوتا تھا۔ پھر آپ پوچھیں گے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ چونکہ وہ فوج کو دوحصوں میں بانٹنا چاہتے تھے۔ پٹھان فوج، اور پنجابی فوج؟کیونکہ وہ نواب رستم علی خان آف کنج پورہ کے صاحبزادے تھے اور اپنا شجرہ کابل سے ملانا چاہتے تھے۔ بس اب آگےسوال مت پوچھیے گا؟ ورنہ پہلے “ طمانچے“ اور مسلسل کیوں میں مضمون ختم ہوجائے گا؟ لہذا اب دوسرے اس تھپڑ پر آتے ہیں جس نے انتظامیہ کا رہاسا حلیہ ہی بگاڑ دیا۔ وہ تھپڑ تھا پاکستان کے دو تکڑے ہونے کے بعد“ سول مارشلا ءایڈمنسٹریٹر جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا جنہوں نے 313سی ایس پی آفیسر س کو "کرپٹ "کہکر نکا لدیا 24میجر جنرلز کو " فوج کے وڈیرے کہکر نکالدیا کہ ان کے گاؤں کے گاؤں فوج میں ہیں “ حالانکہ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی صرف تھی کہ بلکہ غلطی ان کے بذرگوں کی تھی کہ وہ ان گاؤوں میں کیوں پیدا ہوئے جو “ سولجرز لینڈ“ کہلاتی ہے جبکہ اسے یہ نام اور مقام اپنی خصوصیات کی بنا پرانگریزوں نے دیا تھا۔ آجکل وطن عزیز کی حالت پھر بڑی خراب ہے۔ کیونکہ موجودہ حکومت نے ایک سیاسی یتم خانے کو حالات سے مجبور ہوکر ڈھانے پر کمر کس لی ہے جوکہ بھٹو صاحب ہی عالم وجود میں لائے تھے اور جہاں ابھی تک جیالوں کی اکثریت ہے۔ اللہ بھٹو صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے کہ جہاں وہ ہمیں ایک نیا کلچر دے گئے جسے “ ہم اعلیٰ سطح پر کرپشن کلچر کا نام دے سکتے ہیں “ حلانکہ اس سے پہلے بھی یہ بیماری تھی تو سہی مگر اس حدتک نہ تھی کہ اس کو “کلچر“ کا نام دیدیا جاتا۔ بھٹو صاحب اقتدار میں کیا آئے کہ انہوں نے تمام وزیروں کو حکم دیدیا کہ وہ گاؤں گاؤں گھومیں اور عوام کی شکایات سنیں ! بس پھر کیا تھا۔ ہر طرف دربار سج گئے اور بہت سی نئی ترقیاتی اسکیمیں بن گئیں۔ وزیروں کام صرف یہ رہ گیا کہ وہ پلاٹ اور ملازمتیں بانٹیں۔ وسائل کی کمی نہ تھی نئی رہائشی اسکیمیں بن رہی تھیں ۔ اور سارے ملک میں جس کو بھی صنعت کہا جاسکتا تھا یا نہیں کہاجاسکتا ؟ وہ بلا تفریق سب ایک دم قومیالی گئیں۔ جن میں اسکول اور بنک ، آٹا پیسنے کی چکیاں اور چاول چھڑنے کی مشینیں جو لاکھوں کی تعدا د میں تھیں۔ جبکہ نئی صنعتوں میں سب سے بڑی صنعت اسٹیل مل تھی جو روس کے تعاون سے ان کے دور میں بنائی گئی۔ اور اس میں جب بھرتی شروع ہوئی تو ترجیح پی پی پی کے کارکنوں کو ملی کیونکہ یہ روایت پاکستان میں شروع دن سے چلی آرہی تھی جو مسلم لیگ کے کارکنوں سے شروع ہوئی تھی کہ پاکستان بنے کے بعد مسلم لیگ کے کارکنوں کو راشن ڈپو دیدیے تھے، پھر بات اور بڑھی کہ تاگہ (یارن) اسوقت جاپان سے آتا تھا اس کے پرمٹ مسلم لیگیوں کو ملنے لگے جس صوبائی وزیر صنعت نے پہلی مرتبہ پرمٹ دینا شروع کیے، کہیں تو اس کا نام بتادوں؟ مگر وراثت چل رہی ہے لہذا جانے دیں ؟ البتہ اتا پتا بتادیتا ہوں ، نام آپ خود بوجھ لیں ان کا تعلق سکھر سے تھا ۔ چونکہ روایت موجود تھی لہذا کسی کی مذمت نہیں کی جاسکتی؟ اس طرح انہیں نے ایکسپورٹ امپورٹ کی ٹریننگ مل گئی۔ اور بعد میں آنے والی حکومتیں اسی سنت پر عمل کرتی رہیں جو کہ ہنوز جاری ہے۔ اب قومیانے کی کہانی سنیے وہ آگے بڑھاتے ہیں؟ جبکہ چھوٹی صنعتیں جنہیں صنعتیں کہنا صنعتوں کی توہین تھا۔ جیسے کہ آٹا پیسنے اور چاول نکالنے کی چھوٹی چھوٹی مشینیں جو کو گاؤں اورشہروں میں لاکھوں کے حساب سے تھیں ؟ جلد ہی مالکان کو واپس کردی گئیں کہ آٹے اور چاول کی قلت ہوگئی تھی، ملک میں کھانے کے لالے پڑگئے تھے ۔ پھر ذرا بات اور آگے بڑھی اور ملیں بھی واپس ہونا شروع ہوئیں جیسے کاٹن جنگ فیکٹریز ، پھر اور پھراور کیونکہ ان میں سے اکثر میں جہاں کولھے سے کولھا چھلتا تھا،اب وہاں آدمی چلتا دکھائی نہیں دیتا تھا ؟ چونکہ اسے انقلاب کا نام دیا گیا تھا۔ لہذا اس انقلاب سے کوئی بچ نہیں سکا؟اور نئی صنعتوں کے ساتھ ساتھ پرانی قومی کارپوریشنوں کو اپنے پسندیدہ لوگوں سے بھر دیا گیا۔ اس سے پی آئی اے بھی نہیں بچ سکی اور وہ ادارہ جو ذہیں ترین سی ایس پی جناب ظفر الحسن لاری کی ذہانت اور ان تھک محنت سے قائم ہوکر دنیا کی نمبر ایک ایر لائنوں کی صف میں پہونچ گئی تھی۔ اب سفارشی انتظامیہ کی وجہہ سے روز بروز نیچے آتی چلی گئی کیونکہ وہ اب سیاسی یتیم خانہ کا درجہ حاصل کر چکی تھی؟ اسی نئی سنت کوبعد میں آنے والی ہر حکومت نے اپنا یا جس کی وجہ سے لیبر یونیز اتنی طاقتور ہوگئیں، کہ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بہت کچھ دیکھا ۔ یہ عام رواج ہو گیا تھا کہ جو یونین کے کرتا دھرتا ہوتے وہ حاضری سے قطعی مستسثنیٰ ہوتے اور یہ منیجر کی ذمہ داری تھی کہ ان کے گھروں پر تنخواہیں پہونچا ئیں ! ایسے ہی ایک بنک کے منیجر کی عزت افزائی نہ پہونچانے کے جرم میں ہم نے اپنے سامنے ہوتے دیکھی۔ جب سے یہ صنعتیں مسئلہ بنی ہوئی تھیں ۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دو خاندانوں کی حکومتیں باری باری آتی جاتی رہیں ،ان میں ایک صنعتی گروہ کے نمائندے تھے وہ آتے تو جانے والوں ساری اسکیمیں ختم کردیتے اور ملازمین چھٹی کردیتے ؟اور جب دوسرے آتے توا ن کے لوگوں کو فارغ کرکے اپنے والوں کے سالوں کے واجبات ادا کردیتےاور ہر چیز اپنانے کی کوشش کرتے۔ جبکہ دوسر ا گروہ زراعت سے متعلق تھا وہ تیرہ روپیہ من سے گندم ایک ہزار تک لےآ یا؟ بھر بھی پیٹ نہیں بھرا تو وہ صنعت کار بھی بن گیا؟ یہ کھیل ابھی تک جاری ہے؟ ملک بری طرح مقروض ہوچکا ہے اور IMF کی شرط یہ ہے کہ قرضہ جب ملے گا کہ یتیم خانے بند کرو؟ جبکہ یہاں یہ حا لت یہ ہے کہ امارت ایر لائن جو دنیاکی سب سے بہتریں ایر لائن شمار ہوتی ہے فی جہاز اس کا اسٹاف 120 ہے جبکہ پی آئی اے کا 780 ہے. ایسے میں بڑتال والے کہاں مان سکتے ہیں اور کوئی سرمایہ دار جانتے ہوئے سفید ہاتھی کو کیسے خریدے گا؟ ہڑتال دوران گولی بھی چل گئی؟ وہ کس نے چلائی معلوم نہیں کہ کراچی میں کسی کو بھی مارنے اور کسی کےجھگڑے میں کودنے کے لیےکرائے کے لوگ مل جاتے ہیں ؟ ادھر حکومت ریکارڈ بھی گولی چلانے اچھا نہیں ہے جبکہ محاورہ یہ ہے کہ بد اچھا بدنام برا؟ ایسی صورت میں ہر بات ممکن ہے؟ یہ بھی ممکن ہے کہانکا کام ہو جو کہ کہہ چکے ہیں کہ صرف ہم ہی کو لڑنا آتا ہے؟ جبکہ یونین بھی انہیں کی ہے۔ اب ساری ہزب اختلاف حکومت کے خلاف ہےاور ان کی حمایت میں سڑکوں پر ہے آگے اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا ہوگا؟ بس دعا کیجئے کہ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے کہ اس کے ساتھ مخلص کوئی نہیں ہے۔
|