گذشتہ ہفتے ہم سن پا نچ ہجری کے وا قعات بیا ن کر تے ہو ئے حضرت عمروبن عا ص وغیرہ کے اسلام لانے تک پہو نچے تھے۔ آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔ حضرت اُم ِ حبیبہ (رض) کاحضور (ص) سے عقد۔ بیہقی (رح) مستند حوا لو ں کے سا تھ خو د حضرت اُم ِ حبیبہ (رض) سے روایت بیا ن کر تے ہیں کہ وہ پہلے عبد اللہ بن حجش کی زو جیت میں تھیں تو وہ بھی انکے سا تھ ہی حبشہ گئیں۔ جب عمرو بن عا ص نجا شی کو ہموار کر نے کے لیے گئے تو وہ وہیں تھیں ۔اور لو گ تو وا پس چلے آئے۔ مگر ان کے شو ہر وہیں رہ پڑے اور انہو ں نے عیسایت قبو ل کر لی۔ لیکن ان کا کچھ عر صے کے بعد ہی انتقا ل ہو گیا اور وہ اپنی چند کنیزو ں کے سا تھ وہاں تنہا رہ گئیں ۔ جب حضو ر (ص) کو اس صو رت حا ل کا علم ہوا تو حضور (ص) نے ایک مرتبہ پھر اپنی عظمت کا ثبو ت دیا اور اپنے بد ترین دشمن ابو سفیان کی بیٹی کو اس مشکل وقت میں اپنی زو جیت میں لینے کی پیشکش کی اور با قا عدہ پیا م بھیجا ۔جس کوحضرت اُم المو نین اُمِ حبیبہ (رض) نے قبو ل فر ما لیا۔اور اس طرح بنو امیہ سے یہ نیا رشتہ بھی استوار ہو گیا کیو نکہ وہ معا ویہ کی بہن تھیں جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے لہذابقول ابن ِ کثیر (رح) کے وہ حا لت ِ کفر میں ہی مسلما نو ں کے ما مو ں بن گئے یہاں بعض مور خین نے اس آیت کی شا ن ِ نزول یہ ہی وا قعہ بتلا یا ہے جس میں اللہ تعا لیٰ فر ما تے ہیں کہ : ً عسی ٰاللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عا دیتم منھم مود ة ً
( بہ محا ورہ ترجمہ) با ہمی دشمنی رکھنے وا لو ں میں رشتہ اخوت اور معوّدت قا ئم ہو گیا ً (واللہ عا لم )
جب حضرت ام ِحبیبہ (رض) نے پیغا م قبو ل فر ما لیا تو شا ہ نجاشی (رح) نے جو کہ مسلما ن ہو چکے تھے(جیسا کہ عمرو بن عا ص کے واقعہ میں آپ پڑھ چکے ہیں ) انہوں نے بطو ر وکیل حضور (ص) کی نیا بت کی اور حضور (ص) کا وکیل بن کر ایجا ب اور قبو ل کیئے ۔ ام المو نین حضرت حبیبہ (رض) کی طرف سے خالد بن سعید وکیل مقرر ہو ئے ۔اور گوا ہو ں میں حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب اور چند دو سرے مسلما ن بھی شا مل ہوئے۔ اس طر ح یہ عقد ة النکا ح انجا م پذیر ہوا یو ں تو کچھ نقدی وغیرہ حضور (ص) نے بھی بطو ر مہر روا نہ فر ما ئی تھی۔ مگر اس کے علا وہ شا ہ ِ حبشہ نجا شی نے اپنی طرف سے چا ر ہزار دینا ر اور بہت سا دوسرا قیمتی جہیز دیا اور سنت ِ انبیا ءکا حوا لہ دیتے ہو ئے ایک دعوت کا اہتما م بھی کیا ۔اس کے بعد وہ اپنے جہیز اور کنیزو ں کے سا تھ مدینے شریف تشریف لے آئیں۔ ان کا انتقال ابو عبید بن قا سم کے مطا بق سن چا لیس ہجری میں ہوا ۔ بعض مور خین نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کا عقد حضو ر (ص) سے فتح مکہ کے بعد ہوا ۔جو کہ درست نہیں ہے۔ ان کو شا ید اس سے مغا لطہ ہوا کہ چو نکہ ابو سفیا ن اور معا ویہ فتح مکہ کے بعد ایما ن لا ئے تھے۔ توعقد اس کے بعد ہوا ہو گا اور اس کے علاوہ سب نے عبد اللہ بن حجش اور حضرت ام ِ حبیبہ (رض) کو اس اولین دستہ میں بتا یا ہے ۔ جو کہ حضور (رض) کے حکم پر ہجرت کر کے حبشہ گیا تھا ۔ کچھ مورخین نے نکاح کو سن چا ر ہجری میں لکھا ہے لیکن بیہقی (رح) دلا ئل کے سا تھ اسے سن پا نچ ہجری میں ہی بتا تے ہیں لہذا ہم نے بھی اس کو سن پا نچ ہجری کے واقعا ت میں رکھا۔ واللہ عا لم ۔
حضرت زینب سے عقد:اسی سا ل حضرت زینب بنت حجش آپ کی زو جیت میں آئیں۔بہیقی (رح)کہتے ہیں کہ نکا ح غزوہ بنو قریظہ کے بعد وقو ع پذیر ہوا۔ ام المو نین حضرت زینب (رض) حضو ر (رض) کی پھو پھی زاد تھیں ۔ان کی والدہ کا نا م میمو نہ بنت عبد المطلب تھا۔ ان کی پہلی شا دی آپ کے منہ بو لے بیٹے حضرت زید (رض)بن اسا مہ سے ،جو کہ پہلے آپ کے غلام تھے ہوئی تھی۔ جن کو بعد میں آزاد فر ما کرحضور (رض) نے ا پنابیٹا بنا لیا تھا۔ جو کہ خود حضور (ص) کے ہا تھو ں ہی انجام پا ئی ۔ جس میں حضور (ص) نے دس دینا ر نقد جہیز میں اوردوسرا کچھ سا ما نِ ضرورت ، کھجو ریں وغیرہ عنا یت فر ما ئی تھیں ۔ مگر ان میں ہمیشہ ان بن ہی رہتی تھی۔ اور حضرت زید (رض) ان کی اکثر شکا یت حضور (ص) سے فر ما تے رہتے تھے ایک دن جب انہو ں نے شکا یت کی تو حضور (ص)نے کتا ب اللہ کی آیت کی رو شنی میں فر ما یا کہ ”جا ؤ اپنی بیوی کی چھو ٹی چھو ٹی باتوں سے در گذر کرو اور آپس میں عا دلا نہ طو ر پر دو نو ں مل جل کررہو“۔ لیکن جو طبیعتوں میں فرق تھا وہ وہ حا ئل رہا اور یہ رشتہ زیا دہ دیر نہ نبھ سکا۔ آخرتقریبا ً ایک سال کے اندر ہی طلا ق ہو گئی۔ در اصل اس میں اللہ سبحا نہ تعا لی ٰ کی یہ مصلحت کا ر فر ما تھی کہ وہ دنیا کو یہ سبق دینا چا ہتے تھے کہ اصل رشتے صرف اصل ہو تے ہیں اور ”منہ بو لا“ اسلام میں کو ئی چیز نہیں ہے ۔منہ بولے پر اگر کسی اور رشتے سے وہ محرم نہ ہوتو نا محرم کے تما م قوا نین کا نفاذ ہو گا ۔دوسرے یہ بھی بتا نا تھا کہ کفو میں رشتے کر نے کو اسلام نے کیوں تر جیح دی۔ اس سے پہلے قریش میں یہ قبیح رسم چلی آرہی تھی کہ وہ منہ “ بو لو ں“ کو بھی وہی اہمیت دیتے تھے جو کہ اصل رشتو ں کو تھی۔ لیکن اسلا م نے اس تما م تصور کو ہی بیخ و بن سے اکھا ڑ پھینکا اور دوسری آیت میں یہ حکم بھی دیدیا کہ منہ بو لے بیٹوں کو ان کے “با پو ں “ کے نا م سے پکا را جا ئے۔ دوسری طرف مردوں کو یہ حکم دیا کے منہ سے کہنے سے کو ئی بیو ی کسی شو ہر پر حرا م نہیں ہو جا تی۔ یہ بھی ان میں ایک رسم چلی آرہی تھی کہ اگر کسی مرد کو طلاق دیناہو تی، تو کہدیتے کہ “ تو میری ما ں جیسی ہے یا میری ماں کے برا بر ہے “ اور اس طرح طلا ق وا قع ہو جا تی۔ اس کو بھی اسلا م نے نہیں ما نا۔ بلکہ طلا ق کاقر آن نے ایک پو را طریقہ کا ر وضع کر دیا ۔ اور اس فعل کی شدید مذ مت بھی کی کہ ایسی بیہو دہ با تیں زبا ن سے نہ نکا لی جا ئیں۔ ورنہ کفا رہ ادا کر نا پڑ یگا ۔مور خین نے لکھا ہے کہ حضرت زینب (رض) اس پر فخر کر تی تھیں کہ اللہ تعا لیٰ نے ان کا نکاح خو د پڑھایا۔ جبکہ دو سری امہا ت المو نین (رض) کے نکاح زمین پر ہو ئے ۔اس کی وجہ وہی تھی کہ حضور (ص)متذبذب تھے جبکہ ان کی دلجو ئی کا تقاضہ یہ ہی تھا کہ انہو ں نے حضور (ص) کے کہنے سے ان جو ڑ شا دی کر لی تھی ۔لہذا اس کا بدلہ یہ ہی ہو سکتا تھا کہ حضور (ص)ان کو اپنی زو جیت میں لے لیں مگر یہا ں دنیا کے وہ رسم و روا ج مانع تھے جس میں منہ بو لے بیٹے کی بیو ی بھی محر م کادرجہ رکھتی تھی ۔جبکہ سو تیلی ما ں کو قریش محرم نہیں گردا نتے تھے اور وہ ملکیت میں سوتیلے بیٹے کو جا ئز تھی۔ اس کو بھی ایک اور آیت میں اسلام نے ممنو ع کر دیا اور جہا لت کی یہ تما م فر سودہ رسمیں ختم کر کے عورت کو وہ مقا م دلا یا جو کہ دوسری قو مو ں کو کہیں جا کر پچھلی صدی میں ملا اور کچھ کو تو ابھی تک بھی حا صل نہیں،جیسے شدت پسند و ں عیسا ئیو ں میں خلع کا حق۔ ہما رے اپنے اورپرا ئے عو رت کے اسلام میں مو جو دہ مقا م پر تو معترض ہیں جس پر اب پھر مذہب سے زیادہ رواج قابض ہو گیاہے۔ مگر ان مراعات کو بیا ن کرتے ہو ئے شرما تے ہیں جو کہ اسلام نے چو دہ سو سا ل پہلے عو رت کو دیں تھیں۔ ہاں! تو ہم حضرت زینب (رض)کے نکا ح کی بات کر رہے تھے کہ انکا عقد حضور (ص) سے عا لم ِ با لا میں ہوا اور خود رب العا لمین کے حکم پر معرض ِ وجود میں آیا۔ قرآ ن کی وہ آیت جو کہ نکاح کے با رے میں ہے اور دوسری مشہور آیت نا زل ہو ئی کہ” ما کان محمد ابا ا حد من رجالکم و لٰکن رسو ل اللہ و خا تم ا لنبیین ط “ ( ترجمہ) محمد مردوں میں سے کسی کے با پ نہیں ہیں البتہ وہ اللہ کے رسو ل ہیں اور خا تم ا لنبیین ہیں ۔ ( واضح رہے کے اس آیت کے نزول سے پہلے ہی حضور (ص) کے صا حبزدگا ن کا وصا ل ہو چکا تھا اور اس وقت صرف بیٹیاں ہی حیات تھیں“۔ دوسرااعزاز انہیں یہ حاصل ہوا کہ آیت ِ حجاب نا زل ہوئی۔ اس دن ایسا ہوا کہ حضو ر (ص) نے دعوت ِ ولیمہ دی تھی لہذا صحا بہ کرا م آتے اور کھا نا کھا کر جا تے رہے ۔جس کا انتظا م حضرت زینب (رض) کے مختصر سے حجرے میں تھا ۔لیکن کچھ لوگ با تیں کرنے وہا ں بیٹھ گئے۔ جو لو گ حج پر تشریف لے گئے ہیں۔ وہ واقف ہیں کہ حضو ر (ص) کسی محل میں نہیں بلکہ ایک اوسط درجے سے بھی کم رقبے کے مکا ن میں رہتے تھے جس میں تما م امہا ت المو نین (رض) کے حجرے بھی تھے اور پشت کی طر ف حضرت علی کرم اللہ وجہ کا مکا ن بھی ہے جس کے سامنے اصحا بِ صفہ والا حصہ ہے۔ چونکہ جگہ تنگ تھی اور وہ بہت ہی شر میلی خا تو ن تھیں۔ لہذا یہ ان کے لیے زحمت کا با عث تھاکے وہ دلہنو ں کی طر ح منہ ڈ ھا نپے مستقل بیٹھی رہیں ۔ تب آیت ِ حجاب نا زل ہو ئی جس میں لو گو ں کو نبی (ص)کے گھر زیا دہ دیر تک بیٹھنے اور گپ شپ کر نے سے منع کیا گیا ۔اس طر ح اس میں امت کو بھی سبق مل گیا۔ اور اسلام کے معا شرتی آداب میں ان کی شادی اس دفعہ کے اضا فے کا با عث ہو ئی۔لہذا وہ ان تما م با تو ں کی وجہ سے جتنا بھی فخر فر ما تیں وہ کم تھا کہ اس طر ح کے اعزا زات سے بہ یک وقت کسی دو سری ام المو نین کونہیں نوا زا گیا۔ باقی آئندہ