14.10.2026, 11:01pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ء کو لاہور میں وفات پاگئے
07.02.2016, 03:02am , اتوار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی


صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی وفات

اردو، فارسی اور پنجابی کے نامور شاعر، ادیب، نقاد اور عالم صوفی غلام مصطفی تبسم 4 اگست 1899ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ امرتسر اور لاہور سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہ لاہور کے تعلیمی اداروں سے بطور استاد وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر، لیل و نہار کے مدیر اور کئی دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں سے منسلک رہے۔
صوفی تبسم اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، شاعر، استاد، شارح، مترجم، نقاد اور ادیب ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں، پہلے اصغر پھر تبسم تخلص کیا۔ ان کی اردو اور فارسی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے۔ انہوں نے بچوں کی شاعری کے حوالے سے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کا تخلیق کردہ کردار ٹوٹ بٹوٹ انہیں بچوں کے ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
انہیں حکومت ایران نے نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔
 صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------

اجمل خٹک کی وفات

٭پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک 15 ستمبر 1926ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی بھی کاٹی۔ 1990ء سے 1993ء کے دوران وہ قومی اسمبلی اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔
اجمل خٹک پشتو اور اردو کے اہم اہل قلم میں بھی شمار ہوتے تھے۔ان کا مجموعہ کلام جلاوطن کی شاعری کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پرانہیں 2007ء کا کمال فن ایوارڈ بھی عطا کیا تھا۔
 اجمل خٹک 7 فروری 2010ء کو نوشہرہ میں وفات پاگئے اور  اکوڑہ خٹک میں آسودۂ خاک ہوئے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

میر محمد معصوم شاہ بکھری کی پیدائش


٭سندھ کے ایک مشہور عالم مؤرخ اور ادیب میر محمد معصوم شاہ بکھری کی تاریخ پیدائش  7  فروری 1528ء مطابق 7 رمضان 944ہجری ہے۔
میر محمد معصوم شاہ بکھری تعلیم کے حصول کے اکبر اعظم کے دربار سے وابستہ ہوگئے جہاں ان کی ملاقات عبدالرحیم خان خاناں سے ہوئی۔ اکبر اعظم نے آپ کو ایران میں سلطنت مغلیہ کا سفیر مقرر کیا جبکہ جہانگیر نے آپ کو امین الملک کا خطاب عطا کیا۔ میر محمد معصوم شاہ بکھری ایک بلند پایہ مؤرخ اور شاعر تھے۔ شاعری میں وہ نامی تخلص کرتے تھے۔ انہوں نے سندھ کی ایک تاریخ ، تاریخ معصومی کے نام سے تحریر کی جو آج بھی سندھ کی ایک سند تاریخ تسلیم کی جاتی ہے۔ آپ نے سکھر کی مشہور عمارت میر معصوم شاہ بکھری کا مینار بھی تعمیر کروایا۔ اس مینار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کی بلندی بھی 84 فٹ ہے بنیادوں پر اس کا قطر بھی 84 فٹ ہے اور اس کی سیڑھیوں کی تعداد بھی 84 ہے۔ اس مینار کی بنیاد میر محمد شاہ معصوم شاہ بکھری نے رکھی تھی لیکن اس کی تکمیل اس کے بیٹے میر بزرگ نے کروائی۔
میر محمد معصوم شاہ بکھری نے 14 اپریل 1606ء مطابق 6 ذی الحجہ 1014 ہجری کو وفات پائی۔ آپ کا مزار آپ کے نام سے موسوم مینار سے ملحقہ قبرستان میں واقع ہے۔

:دیگر مضامین
(06.02.2016) ٭6 فروری اردو اور پنجابی کے ادیب اور شاعر منو بھائی کی تاریخ پیدائش ہے
(05.02.2016) ٭5 فروری 2008ء کو نامور خطاط سید نفیس الحسینی نفیس رقم وفات پاگئے
(04.02.2016) ٭4 فروری 2004ء کومشہور مغنیہ ملکہ پکھراج لاہور میں وفات پاگئیں 
(03.02.2016) ٭3 فروری 1951ء کو لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی نے وفات پائی۔
(02.02.2016)  نامور مزاح نگارشوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء  ہے۔
(01.02.2016) ٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے
(31.01.2016) ٭31 جنوری پاکستان کے نامور فلمی موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور میں وفات پاگئے۔
(30.01.2016) ریڈیو پاکستان ایک اور ساتھی سے محروم ہو گیا۔ اختر مرزا انتقال کر گئے
(30.01.2016) سرور بارہ بنکوی 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی یو پی۔بھارت میں پیدا ہوئے
(29.01.2016) ٭29 جنوری نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش ہے
(28.01.2016) ٭28 جنوری 2010ء کونامور شاعرعبدالعزیز خالد لاہور میں وفات پاگئے
(27.01.2016) ٭27 جنوری کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی شاکر علی انتقال کرگئے۔
(26.01.2016)  ریڈیو پاکستان کی سابقہ ڈپٹی کنٹرولر نسرین انجم بھٹی انتقال کر گئیں
(26.01.2016) ٭26 جنوری 2006ء کو خان عبدالولی خان  پشاور میں انتقال کرگئے۔
(25.01.2016) ٭25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ کے مقام پروسیم اکرم کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا
(24.01.2016) ٭ 24 جنوری 2010ء کو  ارشاد احمد حقانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(23.01.2016) ٭23 جنوری 1963ء کو محمد علی بوگرا ڈھاکا میں وفات پاگئے۔
(22.01.2016) ٭  22 جنوری اردو کے نامور انشا پرداز محمد حسین آزاد کی وفات ہے
(21.01.2016) ٭21 جنوری۔ اردو کے ممتاز مزاح گو شاعر دلاور فگار کراچی میں وفات پاگئے۔
(20.01.2016) غلام اسحاق خان20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں