16.10.2026, 03:06am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭8 فروری ۔ پشاور میں حیات محمد خان شیرپاو بم دھماکے  میں ہلاک ہو گئے
08.02.2016, 03:02am , سوموار (GMT+1)


حیات محمد خان شیرپائو کا قتل

٭8 فروری 1975ء کو پشاور یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کی ایک تقریب میں صوبہ سرحد کے سینئر وزیر حیات محمد خان شیرپائو ایک بم کے دھماکے نتیجے میں ہلاک کردیے گئے۔
حیات محمد شیر پائو‘ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بااعتماد ساتھی تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بنیادی ارکان میں سے ایک تھے۔ دسمبر 1967ء میں وہ پیپلز پارٹی‘ صوبہ سرحد کے صدر منتخب ہوئے اس حیثیت میں انہوں نے صوبہ سرحد میں پیپلز پارٹی کی تنظیم میں بڑا فعال کردار ادا کیاتھا۔
دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں وہ سرحد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مرکز پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد صوبہ سرحد کے گورنر مقرر ہوئے۔ 2 مئی 1972ء کو وہ مرکزی کابینہ میں شامل ہوئے اور تقریباً دو برس کابینہ میں شامل رہے۔ 4 جون 1974ء کو انہیں سرحد کی صوبائی کابینہ میں سینئر وزیر کے طور پر شامل کرلیا گیا۔
جیساکہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے‘ 8 فروری 1975ء کو ایک بم دھماکے میں انہیں ہلاک کردیا گیا‘ اس حادثے کے وقت وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو‘ امریکا کے دورے پر تھے‘ وہ وہاں سے فوراً لوٹے اور انہوں نے فوری طور پر صوبہ سرحد میں حزب اختلاف کے رہنمائوں کو گرفتار کرکے نیشنل عوامی پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------


میران بخش کی وفات


٭8 فروری 1991ء کو پاکستان کے ایک معروف ٹیسٹ کرکٹر میران بخش راولپنڈی میں وفات پاگئے۔
میران بخش 20 اپریل 1907ء کو راولپنڈی ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے یوں تو صرف دو ٹیسٹ میچ کھیلے مگر وہ کرکٹ کی تاریخ میں اس اعتبار سے ایک یادگار کھلاری بن گئے کہ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 47 سال 284 دن کی عمر میں کھیلا تھا اور یوں وہ اپنا اولین ٹیسٹ کھیلنے والے دنیا کے معمر ترین کھلاڑی بن گئے۔
یہ ٹیسٹ میچ 29 جنوری 1955ء سے یکم فروری 1955ء تک لاہور کے باغ جناح اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا۔ میران بخش نے اس ٹیسٹ میچ میں ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے ایک رن اسکور کیا اور دو کھلاڑیوں کو کلین بولڈ کیا۔ اس سے اگلے ٹیسٹ میچ میں جو پشاور میں کھیلا گیا، انہوں نے نہ کوئی رن اسکور کیا اور نہ ہی کسی کھلاڑی کو آئوٹ کیا، یوں ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹنگ میں ان کا اوسط اسکور ایک رن قرار پایا جبکہ بائولنگ میں ان کا اوسط 57.5 رنز رہا۔
میران بخش پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے 21 ویں کھلاڑی تھے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------



 اداکارہ سورن لتا کی وفات

٭ سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم سچائی بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم پھیرے ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔ پھیرے کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم لارے اور اردو فلم انوکھی داستان ریلیز ہوئیں۔ 1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم بھیگی پلکیں تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیرریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔
سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
 برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا 8 فروری 2008ء کو لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------


بیگم خورشید مرزا کی وفات

٭4 مارچ 1918ء بھارت کی سابق فلمی اداکارہ اور پاکستان ٹیلی وژن کی ممتاز فنکارہ بیگم خورشید مرزا کی تاریخ پیدائش ہے۔
بیگم خورشید مرزا کا اصل نام خورشید جہاں تھا اور ان کا تعلق علی گڑھ کے ایک ممتاز گھرانے سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبداللہ نے علی گڑھ میں مسلم گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی اور ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشید جہاں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بانیوں میں شامل تھیں۔ ان کی دیگر بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ خورشید جہاں کی شادی، سترہ برس کی عمر میں ایک پولیس آفیسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی۔ خورشید جہاں کے بھائی محسن عبداللہ بمبئی میں دیویکارانی اور ہمانسورائے کے فلمی ادارے بمبئی ٹاکیز سے وابستہ تھے۔ ان کے توسط سے جب دیویکا رانی کی ملاقات خورشید جہاں سے ہوئی تو انہوں نے انہیں اپنی فلموں میں اداکاری کی دعوت دی۔ یوں خورشید جہاں نے رینوکا دیوی کے نام سے فلموں میں کام کرنا شروع کردیا۔ ان کی مشہور فلموں میں جیون پربھات، بھابی، نیا سنسار اور غلامی شامل تھیں۔
قیام پاکستان کے بعد خورشید جہاں، جو اب بیگم خورشید مرزا بن چکی تھیں پاکستان آگئیں اور انہوں نے یہاں ریڈیو اور ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ریڈیو کے کئی پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی۔ ٹیلی وژن پر ان کی مشہور سیریلز میں کرن کہانی، زیر زبر پیش،انکل عرفی، پرچھائیں، رومی،افشاں اور انا کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرامہ ماسی شربتے میں بھی ان کا کردار بڑا یادگار سمجھا جاتا ہے۔1984ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
بیگم خورشید مرزا کی سوانح عمری A Woman of Substance کے نام سے شائع ہوچکی ہے جو ان کی صاحبزادی لبنیٰ کاظم نے تحریر کی ہے۔
 بیگم خورشید مرزا  8 فروری 1989ء کو لاہور میں وفات پاگئیں اور میاں میر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------


نہال عبداللہ کی وفات


٭8 فروری 1983ء کو ریڈیو پاکستان کے معروف موسیقار اور گلوکار نہال عبداللہ کراچی میں وفات پاگئے۔
نہال عبداللہ 1924ء میں قصبہ چڑاوا ریاست جے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد اللہ دیا سارنگی نواز اور اپنے بھائی استاد جمال خان سارنگی نواز سے حاصل کی۔ 1948ء میں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ 1951ء میں انہوں نے پاکستان کی قومی ترانے کی کمپوزنگ میں حصہ لیا اور 1953ء میں جب یہ قومی ترانہ ریکارڈ ہوا تو اس میں ان کی آواز بھی شامل تھی۔
نہال عبداللہ نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نفیس فریدی کا لکھا ہوا مشہور گیت ’’پاکستانی بڑے لڑیا، جن کی سہی نہ جائے مار‘‘ گاکر بڑی شہرت حاصل کی تھی۔
اس کے علاوہ عزیز حامد مدنی کی مشہور غزل ’’تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی‘‘ بھی ان کے کریڈٹ پرہے۔ یہ غزل انہوں نے راگ جے جے ونتی میں کمپوز کی تھی اور اسے مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
نہال عبداللہ نے ایک فلم چراغ جلتا رہا کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی جس کے ہدایت کار فضل احمد کریم فضلی تھے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

:دیگر مضامین
(07.02.2016) صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ء کو لاہور میں وفات پاگئے
(06.02.2016) ٭6 فروری اردو اور پنجابی کے ادیب اور شاعر منو بھائی کی تاریخ پیدائش ہے
(05.02.2016) ٭5 فروری 2008ء کو نامور خطاط سید نفیس الحسینی نفیس رقم وفات پاگئے
(04.02.2016) ٭4 فروری 2004ء کومشہور مغنیہ ملکہ پکھراج لاہور میں وفات پاگئیں 
(03.02.2016) ٭3 فروری 1951ء کو لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی نے وفات پائی۔
(02.02.2016)  نامور مزاح نگارشوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء  ہے۔
(01.02.2016) ٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے
(31.01.2016) ٭31 جنوری پاکستان کے نامور فلمی موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور میں وفات پاگئے۔
(30.01.2016) ریڈیو پاکستان ایک اور ساتھی سے محروم ہو گیا۔ اختر مرزا انتقال کر گئے
(30.01.2016) سرور بارہ بنکوی 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی یو پی۔بھارت میں پیدا ہوئے
(29.01.2016) ٭29 جنوری نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش ہے
(28.01.2016) ٭28 جنوری 2010ء کونامور شاعرعبدالعزیز خالد لاہور میں وفات پاگئے
(27.01.2016) ٭27 جنوری کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی شاکر علی انتقال کرگئے۔
(26.01.2016)  ریڈیو پاکستان کی سابقہ ڈپٹی کنٹرولر نسرین انجم بھٹی انتقال کر گئیں
(26.01.2016) ٭26 جنوری 2006ء کو خان عبدالولی خان  پشاور میں انتقال کرگئے۔
(25.01.2016) ٭25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ کے مقام پروسیم اکرم کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا
(24.01.2016) ٭ 24 جنوری 2010ء کو  ارشاد احمد حقانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(23.01.2016) ٭23 جنوری 1963ء کو محمد علی بوگرا ڈھاکا میں وفات پاگئے۔
(22.01.2016) ٭  22 جنوری اردو کے نامور انشا پرداز محمد حسین آزاد کی وفات ہے
(21.01.2016) ٭21 جنوری۔ اردو کے ممتاز مزاح گو شاعر دلاور فگار کراچی میں وفات پاگئے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں