14.10.2026, 05:53pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تاریخ پیدائش 13 فروری 1905ءہے
13.02.2016, 03:24am , ہفتہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

بیگم رعنا لیاقت علی خان کی پیدائش

٭ پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کی بیوہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تاریخ پیدائش 13 فروری 1905ءہے۔
بیگم رعنا لیاقت علی خان الموڑہ میں پیدا ہوئی تھیں انہوں نے لکھنو یونیورسٹی سے معاشیات اور عمرانیات میں ایم اے کے امتحانات پاس کیے 1933ء میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور نوابزادہ لیاقت علی خان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔
قیام پاکستان کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو محترمہ رعنا لیاقت علی خان نے پاکستانی خواتین کی خدمت کا بیڑا اٹھایا انہوں نے پہلے پاکستان وومن والنٹیر سروس اور پھر آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن (اپوا) کی بنیاد ڈالی جس نے ہر شعبہ زندگی کی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ بیگم صاحبہ اس انجمن کی تاحیات صدر رہیں۔
نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد بھی محترمہ رعنا لیاقت علی خان کی فعالیت میں کمی نہ آئی بلکہ ان کی خدمات کا سلسلہ بیرون ملک تک وسیع ہوگیا۔ 14 ستمبر 1954ء کو انہیں نیدرلینڈ میں پاکستان کی سفیر مقرر کیا گیا بعد ازاں وہ اٹلی اور تیونس میں بھی پاکستان کی سفیر رہیں وہ کسی بھی ملک میں مقرر ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون سفیر تھیں۔
 بیگم رعنا لیاقت علی خان کی 68 ویں سالگرہ کا دن 13 فروری 1973ء کو تھا جب انہیں یہ اطلاع ملی کہ حکومت پاکستان نے انہیں صوبہ سندھ کا گورنر مقرر کیا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی گورنری پر فائز ہونے والی پاکستان کی پہلی ہی نہیں‘ اب تک کی واحد خاتون بھی ہیں اس عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ ہی‘ وہ جامعہ کراچی اور جامعہ سندھ کی چانسلر بھی بن گئیں اور یوں انہیں پاکستان کی کسی بھی جامعہ کی خاتون چانسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان اس منصب پر 29 فروری 1976ء تک فائز رہیں۔
بیگم رعنا لیاقت علی خان نے پاکستان اور بیرون پاکستان متعدد اعزازات بھی حاصل کیے جن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دیا گیا انسانی حقوق کا ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے دیا گیا نشان امتیاز کے اعزازات سرفہرست تھے۔
ایک بے حد فعال زندگی گزارنے کے بعد 13 جون 1990ء کو بیگم رعنا لیاقت علی خان اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ وہ قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں اپنے عظیم شوہر کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

فیض احمد فیض کی پیدائش

٭13 فروری 1911ء اردو کے خوب صورت لب و لہجے والے شاعر فیض احمد فیض کی تاریخ پیدائش ہے۔
فیض احمد فیض سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بلاشبہ اس عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ایسے شاعر اور ایسے انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ انہوں نے ساری زندگی ظلم، بے انصافی اور جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کی اور ہمیشہ شاعر کا منصب بھی نبھایا۔ وہ اردو شاعری کی ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ان کی فکر انقلابی تھی، مگر ان کا لہجہ غنائی تھا۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے انقلابی فکر اور عاشقانہ لہجے کو ایسا آمیز کیا کہ اردو شاعری میں ایک نئی جمالیاتی شان پیدا ہوگئی اور ایک نئی طرز فغاں کی بنیاد پڑی جو انہی سے منسوب ہوگئی۔
فیض نے اردو کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا اور انہی کی بدولت اردو شاعری سربلند ہوئی۔ فیض نے ثابت کیا کہ سچی شاعری کسی ایک خطے یا زمانے کے لئے نہیں بلکہ ہر خطے اور ہر زمانے کے لئے ہوتی ہے۔
نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہریاراں اور مرے دل مرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں اور سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات۔ اس کے علاوہ نثر میں بھی انہوں نے میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاع لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور مہ و سال آشنائی جیسی کتابیں یادگار چھوڑیں۔
فیض احمد فیض20 نومبر 1984ء کووفات پاگئے اور لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

عطا شاد کی وفات

٭اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 13 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔
عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں  بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔
ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
 عطا شاد 13 فروری 1997ء کو کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

:دیگر مضامین
(12.02.2016) ٭12 فروری کو سندھی زبان کے معروف ادیب، مؤرخ،مولائی شیدائی وفات پاگئے۔
(11.02.2016) ہاکی کے مشہور کھلاڑی  تنویر ڈار 11فروری 1998ء کو  وفات پاگئے۔
(10.02.2016) پاکستان کے نامور مصور صادقین 10 فروری 1987ء کو  کراچی میں وفات پاگئے
(09.02.2016) ٭9 فروری معروف ماہر قانون سرشیخ عبدالقادرکی تاریخ وفات ہے
(08.02.2016) معروف شاعر و نغمہ نگارندا فاضلی 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
(08.02.2016) ٭8 فروری ۔ پشاور میں حیات محمد خان شیرپاو بم دھماکے  میں ہلاک ہو گئے
(07.02.2016) صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ء کو لاہور میں وفات پاگئے
(06.02.2016) ٭6 فروری اردو اور پنجابی کے ادیب اور شاعر منو بھائی کی تاریخ پیدائش ہے
(05.02.2016) ٭5 فروری 2008ء کو نامور خطاط سید نفیس الحسینی نفیس رقم وفات پاگئے
(04.02.2016) ٭4 فروری 2004ء کومشہور مغنیہ ملکہ پکھراج لاہور میں وفات پاگئیں 
(03.02.2016) ٭3 فروری 1951ء کو لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی نے وفات پائی۔
(02.02.2016)  نامور مزاح نگارشوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء  ہے۔
(01.02.2016) ٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے
(31.01.2016) ٭31 جنوری پاکستان کے نامور فلمی موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور میں وفات پاگئے۔
(30.01.2016) ریڈیو پاکستان ایک اور ساتھی سے محروم ہو گیا۔ اختر مرزا انتقال کر گئے
(30.01.2016) سرور بارہ بنکوی 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی یو پی۔بھارت میں پیدا ہوئے
(29.01.2016) ٭29 جنوری نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش ہے
(28.01.2016) ٭28 جنوری 2010ء کونامور شاعرعبدالعزیز خالد لاہور میں وفات پاگئے
(27.01.2016) ٭27 جنوری کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی شاکر علی انتقال کرگئے۔
(26.01.2016)  ریڈیو پاکستان کی سابقہ ڈپٹی کنٹرولر نسرین انجم بھٹی انتقال کر گئیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں