
سردار عبدالرب نشتر کی وفات
٭سردار عبدالرب نشتر 13 جون 1899ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا۔ مگر جب انہیں اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ ہندو مسلمانوں کے ساتھ اپنا تعصب ختم نہیں کرسکتے تو انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکرلی ۔ جلد ہی وہ اپنی فہم و فراست‘ سیاسی سوجھ بوجھ اور اخلاص کے باعث جلدہی قائد اعظم کے قابل اعتماد رفقاء میں شمار ہونے لگے۔ 1946ء میں متحدہ ہندوستان کی عارضی حکومت میں انہوں نے وزارت مواصلات کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
قیام پاکستان کے بعد سردار عبدالرب نشتر پاکستان کی پہلی کابینہ میں شامل ہوئے پھر دو سال تک پنجاب کے گورنر رہے۔ آخری ایام میں وہ مسلم لیگ کی صدارت پر فائز تھے۔
قائد اعظم کے دیرینہ ساتھی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنما سردار عبدالرب نشتر نے 14 فروری 1958ء کی صبح کراچی میں وفات پائی۔ شام ساڑھے پانچ بجے جہانگیر پارک میں مولانا احتشام الحق تھانوی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات قریباً 8 بجے انہیں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے مزارات کے نزدیک دفن کردیا گیا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
لوک گلوکار محمد یوسف کی وفات
٭محمد یوسف 14 جنوری 1940ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد استاد لونگ خان بھی سندھ کے معروف لوک گلوکار تھے۔ ان کے خاندان میں کئی اور معروف موسیقار بھی پیدا ہوئے جن میں استاد زوار بسنت کا نام سرفہرست تھا۔ محمد یوسف نے موسیقی کی تربیت گوالیار گھرانے کے مشہور موسیقار استاد امید علی خان اوراستاد منظور علی خان سے حاصل کی۔ وہ سندھی غزل اور کافی گانے پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام گانے کے حوالے سے بھی بے حد معروف تھے۔ محمد یوسف نے اپنی گائیکی پر متعدد اعزازات حاصل کئے تھے جن میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھا۔
سندھ کے معروف لوک گلوکار محمد یوسف 14 فروری 1997ء کو کوٹری ضلع دادومیں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
مدھوبالا کی پیدائش
٭14 فروری 1933ء برصغیر کی مشہور فلمی اداکارہ مدھو بالا کی تاریخ پیدائش ہے۔
مدھو بالا کا اصل نام ممتاز جہاں بیگم تھا۔ انہوں نے 1942ء میں 9 سال کی عمر میں فلم بسنت سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم میں وہ اداکارہ ممتاز شانتی کی بیٹی بنی تھیں۔ مشہور فلم ساز دیویکا رانی نے انہیں مدھوبالا کا فلمی نام دیا۔ 1947ء میں انہوں نے کیدار شرما کی فلم نیل کمل میں راج کپور کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مدھو بالا کی مشہور فلموں میں محل، دلاری، دولت، اپرادھی، نادان، ساقی، سنگدل، امر، نقاب، پھاگن، کلپنی، ہائوڑا برج، بارات کی رات، مغل اعظم، شرابی اور جوالا کے نام سرفہرست ہیں۔
مدھو بالا اداکار دلیپ کمار سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ 1960ء میں انہوں نے مشہور گلوکار اور اداکار کشور کمار سے سول میرج کرلی۔ 23 فروری 1969ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔