14.10.2026, 07:56pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سردار عبدالرب نشتر نے 14 فروری 1958ء کی صبح کراچی میں وفات پائی
14.02.2016, 05:47am , اتوار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

سردار عبدالرب نشتر کی وفات

٭سردار عبدالرب نشتر 13 جون 1899ء کو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا۔ مگر جب انہیں اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ ہندو مسلمانوں کے ساتھ اپنا تعصب ختم نہیں کرسکتے تو انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکرلی ۔ جلد ہی وہ اپنی فہم و فراست‘ سیاسی سوجھ بوجھ اور اخلاص کے باعث جلدہی قائد اعظم کے قابل اعتماد رفقاء میں شمار ہونے لگے۔ 1946ء میں متحدہ ہندوستان کی عارضی حکومت میں انہوں نے وزارت مواصلات کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
قیام پاکستان کے بعد سردار عبدالرب نشتر پاکستان کی پہلی کابینہ میں شامل ہوئے پھر دو سال تک پنجاب کے گورنر رہے۔ آخری ایام میں وہ مسلم لیگ کی صدارت پر فائز تھے۔
 قائد اعظم کے دیرینہ ساتھی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنما سردار عبدالرب نشتر نے 14 فروری 1958ء کی صبح کراچی میں وفات پائی۔ شام ساڑھے پانچ بجے جہانگیر پارک میں مولانا احتشام الحق تھانوی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات قریباً 8 بجے انہیں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے مزارات کے نزدیک دفن کردیا گیا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

لوک گلوکار محمد یوسف کی وفات

٭محمد یوسف 14 جنوری 1940ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد استاد لونگ خان بھی سندھ کے معروف لوک گلوکار تھے۔ ان کے خاندان میں کئی اور معروف موسیقار بھی پیدا ہوئے جن میں استاد زوار بسنت کا نام سرفہرست تھا۔ محمد یوسف نے موسیقی کی تربیت گوالیار گھرانے کے مشہور موسیقار استاد امید علی خان اوراستاد منظور علی خان سے حاصل کی۔ وہ سندھی غزل اور کافی گانے پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام گانے کے حوالے سے بھی بے حد معروف تھے۔ محمد یوسف نے اپنی گائیکی پر متعدد اعزازات حاصل کئے تھے جن میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھا۔
 سندھ کے معروف لوک گلوکار محمد یوسف 14 فروری 1997ء کو کوٹری ضلع دادومیں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------


مدھوبالا کی پیدائش


٭14 فروری 1933ء برصغیر کی مشہور فلمی اداکارہ مدھو بالا کی تاریخ پیدائش ہے۔
مدھو بالا کا اصل نام ممتاز جہاں بیگم تھا۔ انہوں نے 1942ء میں 9 سال کی عمر میں فلم بسنت سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم میں وہ اداکارہ ممتاز شانتی کی بیٹی بنی تھیں۔ مشہور فلم ساز دیویکا رانی نے انہیں مدھوبالا کا فلمی نام دیا۔ 1947ء میں انہوں نے کیدار شرما کی فلم نیل کمل میں راج کپور کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مدھو بالا کی مشہور فلموں میں محل، دلاری، دولت، اپرادھی، نادان، ساقی، سنگدل، امر، نقاب، پھاگن، کلپنی، ہائوڑا برج، بارات کی رات، مغل اعظم، شرابی اور جوالا کے نام سرفہرست ہیں۔
مدھو بالا اداکار دلیپ کمار سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ 1960ء میں انہوں نے مشہور گلوکار اور اداکار کشور کمار سے سول میرج کرلی۔ 23 فروری 1969ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔

:دیگر مضامین
(13.02.2016)  موسیقار روبن گھوش 76 برس کی عمر میں ڈھاکا میں انتقال کر گئے
(13.02.2016) بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تاریخ پیدائش 13 فروری 1905ءہے
(12.02.2016) ٭12 فروری کو سندھی زبان کے معروف ادیب، مؤرخ،مولائی شیدائی وفات پاگئے۔
(11.02.2016) ہاکی کے مشہور کھلاڑی  تنویر ڈار 11فروری 1998ء کو  وفات پاگئے۔
(10.02.2016) پاکستان کے نامور مصور صادقین 10 فروری 1987ء کو  کراچی میں وفات پاگئے
(09.02.2016) ٭9 فروری معروف ماہر قانون سرشیخ عبدالقادرکی تاریخ وفات ہے
(08.02.2016) معروف شاعر و نغمہ نگارندا فاضلی 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
(08.02.2016) ٭8 فروری ۔ پشاور میں حیات محمد خان شیرپاو بم دھماکے  میں ہلاک ہو گئے
(07.02.2016) صوفی غلام مصطفی تبسم 7 فروری 1978ء کو لاہور میں وفات پاگئے
(06.02.2016) ٭6 فروری اردو اور پنجابی کے ادیب اور شاعر منو بھائی کی تاریخ پیدائش ہے
(05.02.2016) ٭5 فروری 2008ء کو نامور خطاط سید نفیس الحسینی نفیس رقم وفات پاگئے
(04.02.2016) ٭4 فروری 2004ء کومشہور مغنیہ ملکہ پکھراج لاہور میں وفات پاگئیں 
(03.02.2016) ٭3 فروری 1951ء کو لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی نے وفات پائی۔
(02.02.2016)  نامور مزاح نگارشوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء  ہے۔
(01.02.2016) ٭ مشہور ٹیسٹ کرکٹر ڈاکٹر جہانگیر خان یکم فروری 1910ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے
(31.01.2016) ٭31 جنوری پاکستان کے نامور فلمی موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور میں وفات پاگئے۔
(30.01.2016) ریڈیو پاکستان ایک اور ساتھی سے محروم ہو گیا۔ اختر مرزا انتقال کر گئے
(30.01.2016) سرور بارہ بنکوی 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی یو پی۔بھارت میں پیدا ہوئے
(29.01.2016) ٭29 جنوری نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش ہے
(28.01.2016) ٭28 جنوری 2010ء کونامور شاعرعبدالعزیز خالد لاہور میں وفات پاگئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں