گذشتہ قسط میں ہم غزوہ بنو مصطلق پر بات کر رہے تھے اور یہا ں تک پہو نچے تھے کہ اللہ تعا لیٰ نے مسلما نو ں کو فتح دی مگراس دورا ن چند اور وا قعا ت بھی پیش آئے، جنہیں اب ہم زیر تذکرہ لا رہے ہیں ان میں سے ایک تھا :
انصار اور مہا جر میں تنازع۔ حضور (ص) ابھی بئیرمرسیع پر ہی تشریف فر ما تھے کہ مہا جر اور انصا ر میں تنا زع پیدا ہو گیا ۔ہوا یہ کہ حضر ت عمر (رض) کا ایک گھو ڑا بردار جس کا نا م جہجاہ تھا ،اس کا کسی با ت پر سنان سے جھگڑا ہو گیا اور وہ چو نکہ بنو غفا ر میں سے تھا لہذا اس نے انصا ر کو مدد کےلئے آواز دی، اس کے جوا ب میں حضرت عمر (رض) کے اجیر نے مہاجرین کو آواز دی ۔جب عبد اللہ بن ابی نے یہ سنا تو وہ تو مو قعہ کی تا ک میں رہتا تھا ہی ۔ اس نے لو گو ں کو بھڑکاناشروع کر یا اور ایک تقریر کر ڈا لی اور انصا ر کے ایک گروہ کو مخا طب کر کے کہا کہ یہ تمہا را ہی کیا دھرا ہے۔ نہ تم ان قلا شو ں کو اپنے یہا ں جگہ دیتے نہ یہ دن دیکھتے اور انتہا ئی نا زیبا الفا ظ استما ل کیئے ، مہا جرین کو بہت ہی برا بھلا کہا ۔ مزید یہ بھی کہا کہ تم واپس چل کر دیکھنا میں ان کمزو روں کو مد ینہ سے نکا ل با ہر کرو نگا ۔ان کی یہ جر ات کہ یہ ہما رے منہ کو آ ئیں اور ہما را کھا کر ہمیں پر غرائیں۔ اس کو ایک نو عمر صحابی حضرت ارقم (رض) سن رہے تھے انہو ں نے من و عن حضور (ص) سے جا کر بیا ن کر دیا ۔یہ وہ وقت تھا کہ حضور (ص) دشمن کی طرف سے فا رغ ہو چکے تھے اور اتفا ق سے اس وقت حضرت عمر (رض) کے سوا آپ کے پا س کو ئی اور نہیں تھا۔ لہذا حضرت عمر (رض) نے مشورہ دیا کہ وہ مر تد ہو گیا ہے اس لیے آپ عبّاد بن بِشر کو حکم دیں کہ وہ اس کو جا کر قتل کر دیں۔ مگر حضو ر (ص) نے یہ مشورہ نہیں ما نا اور فر ما یا لو گ کہیں گے کہ محمد (ص)اپنے سا تھیو ں کو ہی قتل کر نے لگے ۔اس سے لو گو ں میں بےچینی اور منا فرت پھیل جا ئےگی۔ لہذا فو را ً کو چ کا اعلان کر دو ۔ (تا کہ لو گو ں کو سو چنے اور مزید مشتعل ہو نے کا مو قعہ ہی نہ ملے ) اعلان ِ کوچ کیا گیا لو گو ں نے حکم کے مطا بق وہا ں سے کو چ کیا۔پھر حضور (ص) تما م دن چلتے رہے اس کے بعد تما م را ت چلتے رہے ،پھر دو سرے دن بھی چلتے رہے حتٰی کہ اس میں سے کچھ لو گ تھک کر گر پڑے تب حضو ر (ص) نے قیا م کا حکم دیا۔ وہاں عبد اللہ بن ابی سلو ل آپ کی خد مت ِ اقدس میں حا ضر ہوا اور خدا کی قسم کھا کر کہنے لگا ۔کہ واللہ میں نے ایسی کو ئی بات نہیں کہی اور ابن ِ ارقم (رض) کیو نکہ بچہ ہے ممکن ہے ۔اس کو کو ئی مغا لطہ ہواہو ۔چو نکہ وہ اپنی قو م میں بہت ہی معزز شخص تھا لہذا انصار میں سے کچھ لو گ جو کہ اس کے حما یتی تھے کہنے لگے ۔کہ حضور (ص) بچے کی با ت کا اعتبا ر نہ کر یں عبد اللہ ہم میں معزز ترین آدمی ہے ۔ اس لڑکے کو ضرور کچھ وہم ہوا ہوگا ۔لہذا حضور (ص) نے معا ملہ کو مصلحتا ً نظرانداز کر دیا۔ اس کے جا نے کہ بعد حضرت اسید (رض) بن حضیر حا ضر ہو ئے اور عرض کیا کہ یا رسو ل (ص) اللہ کیا وجہ ہے کہ اس مرتبہ آپ وقت اور بیو قت سفر کر رہے ہیں ؟ایسا تو آپ کبھی نہیں فر ما تے تھے ۔آپ تو بہت سب کا خیا ل رکھنے وا لے تھے ایسی کیا وجہ ہو ئی کہ مدینہ پہو نچنے کی اتنی عجلت ہے!۔ تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”کیا تمہا رے سا تھی نے جو کچھ کہا تمہیں نہیں معلو م “ حضرت اسید (رض) بن حضیر نے پو چھا یا رسو ل (ص) اللہ کو نسا سا تھی ! آپ نے جوا ب میں فر ما یا ”عبد اللہ بن ابی سلول ، حضرت اسید (رض) نے استفسار کیا کہ اس نے کیا کہا! تب حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ اس نے کہا کہ ”وہ جب وا پس مدینہ پہو نچے گا تو جو طا قتور ہیں ۔وہ اپنے سے کمزوروں کو شہر سے نکا ل کر دم لیں گے “ انہو ں نے کہا اے رسول (ص)اللہ آپ اس کے سا تھ نر می برتیں آپ جانتے ہیں ۔اسے اس با ت پر خا ر ہے کہ آپ (ص) کی تشریف آوری سے اس کا اثر و رسوخ کم ہو گیا ۔اس کی قو م جو اس کےلئے مو تی پرو تی تھی(اب اسے نہیں مانتی ) اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اسے عضو ئے معطل بنا دیا جا ئے ( آپ ہما ری وفا داری پر شک نہ کر یں ) خدا کی قسم وہی ذلیل ہے اور ہو گا۔ آپ صا حب ِ عزت ہیں ۔آپ اگر حکم فر ما ئیں تو ہم خو د ہی اسے مد ینے سے نکا ل دیں! مگر آپ (ص)سے نر می کی درخواست ہے۔ کہ اللہ نے آپ (ص) کو ہمارے لیے نبی (ص) بنا کر بھیجا ہے۔اس کے بعد سب اتنے تھکے ہو ئے تھے کہ لیٹتے ہی نیند کی آغو ش میں چلے گئے اور یہ فتنہ خو د بخود دم تو ڑ گیا۔ یہا ں حضور (ص)کی یہ حکمت عملی بہت کامیا ب رہی۔ جب نیند پو ری کر لینے کے بعد لو گ تا زہ دم ہو گئے ۔تو حضور (ص) پھر روانہ ہو ئے اور حجا ز کے ایک چشمے پر قیا م فر ما یا جس کا نام بقعا ءتھا۔یہا ں سے روا نگی کے وقت ایک زبر دست طو فا ن آیا۔ جس سے لو گ خا ئف ہو گئے کہ یہ کہیں عذاب ِ الٰہی تو نہیں جو عبد اللہ بن ابی کی گستا خی کی وجہ سے آیاہے ۔ لیکن حضو ر (ص)نے یہ کہہ کر تسلی فر ما دی کہ یہ کسی بڑے کافر کے مو ت کی نشا نی ہے ۔ لہذا گھبرا ؤ نہیں جب مدینہ پہنچے تو معلو م ہوا کہ رفا عہ ابن ِ زید جو کہ منا فقو ں کا بہت بڑا پشت پنا ہ تھا وفا ت پا گیا ۔وہ بنو قینقا ع کے سردار وں میں سے تھا۔جب حضو ر (ص)مدینہ شریف پہو نچے تو عبد اللہ بن ابی سلول اور دوسرے منا فقین کے با رے میں وحی نا زل ہو ئی جس پر حضور (ص)نے حضرت ا بن ِ ارقم کاپیار سے کا ن پکڑ کر فر ما یا کہ یہ وہ ہے جس کے کا ن سے اللہ تعا لیٰ نے مطا بقت فر ما ئی ۔ جب اس کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ (ص) تک یہ خبر پہو نچی تو وہ حضو ر (ص) کی خد مت میں حا ضر ہوئے اور عر ض کیا کہ اگر آپ (ص) میرے وا لد عبد اللہ بن ابی سلول کو اس جر م کی بنا پر قا بل ِ گردن زد نی خیا ل فر ما تے ہیں تو مجھے حکم فرمائیے۔ گو کہ میں اپنے وا لد کا انتہا ئی فرمانبردار بیٹا ہو ں مگر تعمیل ارشاد میں ابھی جا کر ان کا سر کا ٹ کر لاکر پیش کر ونگا ۔ مگرشاید میری غیرت یہ گوا رہ نہیں کر ے کہ کو ئی اور یہ کا م سر انجا م دے ۔اور میں اسے زمین پر چلتا پھر تا دیکھو ں ! کہیں جو ش ِ انتقا م میں ،شیطا ن مجھ پر قا بو نہ پا لے اور میں ایک مسلما ن کو قتل کر کے خو د دو زخی بن جا ؤ ں۔ اس تما م وا قعہ کو ابن ِ ا سحا ق نے حضرت عا صم بن عمر قتا دہ کے حوا لے سے بیا ن کیا ہے ۔
یہا ں پھر عفو در گزر کی حضور (ص) نے مثا ل دہرا ئی جو ان (ص) کی خصلت ِ فا خرہ تھی اور جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر قرآن میں تعریف کی کہ ”اگر آپ سخت گیر ہو تے تو لو گ آپ کو چھو ڑ کر بھا گ جا تے اور یہ ہی نہیں آپ کے سا تھیو ں کی بھی تعریف ان الفا ظ کے سا تھ اسی آیت میں فر ما ئی کہ ”جو انکے سا تھی ہیں وہ بھی آپس میں ر حیم ہیں “۔ یہا ں ہما رے لیے تھو ڑا سا سبق ہے کہ کیا ہم بھی ان او صا ف سے آرا ستہ ہیں؟ (کا ش ہم مسلمان اس پر غو ر کریں )حضور (ص)نے حضرت عبد اللہ (رض) بن عبد اللہ ابن ِ ابی سلول کی با ت سنی۔ اور فر ما یا کہ ہم (ص) نے ان کے سا تھ نر می کا بر تاؤ کر نے کا فیصلہ کیا ہے تا وقتیکہ وہ ہما ری صحبت میں رہیں۔ پھر حضرت عمر (رض)کی طرف سوا لیہ نظرو ں سے دیکھا۔ حضرت عمر (رض) نے فر ما یا کہ بے شک آپ (ص) کا فیصلہ میرے فیصلے سے بہتر تھا ۔ اس غزوہ کا دوسرا اہم وا قعہ جو ہے وہ وا قعہ افک ہے۔
واقعہِ افک: اس سلسلہ میں ابن ِ اسحا ق (رح) نے بہت سے لو گو ں سے روا یا ت بیا ن کی ہیں جن میں زہری بتوسل علقمہ ابن ِ وقا ص اور یحیٰی ا بن ِ عباد شا مل ہیں ۔ تفصیل اس طر ح ہے کہ یہ حضو ر (ص) کی سنت تھی کہ وہ (ص)ازواج ِ مطا ہرات کے سا تھ ہمیشہ ہر معا ملہ میں مسا وات برتے تھے ۔لہذا جب کو ئی سفر در پیش ہو تا تو کسی ایک کو از وا ج ِ مطا ہرات میں سے ساتھ لیتے اور اس کے لیے قرعہ اندا زی فر ما تے تھے۔ اس مر تبہ جب روا نہ ہو ئے قرعہ فا ل حضرت عا ئشہ صدیقہ (رض) کے نا م نکلا لہذا غزوہ بنو مصطلق کے مو قعہ پر وہ ان کے ہمرا ہ تھیں اور جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں اس غز وہ سے واپسی بھی بڑی اجلت میں ہو ئی تھی اور راستے میں بھی بغیر دم لیے حضو ر (ص) سفر کر تے رہے اور قدرتی ضرروریات کےلئے بھی اگر کو ئی ٹھہرا تو پھر فو را چل پڑا۔ اس کی وجہ وہ دھمکی تھی جو کہ عبد اللہ بن ابی سلول نے دی تھی۔ اب آگے حضرت عا ئشہ (رض) کی زبا نی ابن ِ اسحا ق (رح) نے تما م وا قعہ بیا ن کیا ہے ۔ حضرت عا ئشہ (رض) فر ما تی ہیں کہ جب سفر در پیش ہو تا توخواتین صرف ہلکی غذا کھا تیں اور گوشت با لکل نہ کھا تیں کہ وزن نہ بڑھ جا ئے۔ جب میرے اونٹ کا کجا دہ کسا جانے والا ہو تا تو میں پہلے سے اپنے ہو دج میں جا کر بیٹھ جا تی تھی ،اور جو لو گ کجا دہ میرے لیے کستے تھے وہ آتے اور میرا کجا دہ اونٹ پر اٹھا کر رکھ دیتے ۔پھر اس کو رسیو ں سے کس دیتے اوراونٹ کا سر پکڑ کر اسے کھڑا کر دیتے اور لے کر چل دیتے۔ باقی آئندہ