رتی جناح کی پیدائش/وفات
٭20 فروری قائداعظم محمد علی جناح کی اہلیہ رتی جناح کی تاریخ پیدائش بھی ہے اور تاریخ وفات بھی۔
وہ 20 فروری 1900ء کو بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ قائداعظم محمد علی جناح ان کے والد سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں شامل تھے۔ ان کی شخصیت نے رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی قربت محبت میں بدل گئی۔ 18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد خجندی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آگئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔
یہ وہ زمانہ جب قائداعظم اپنی سیاسی سرگرمیوں میں بے انتہا مصروف تھے اور اکثر انہی مصروفیات کی وجہ سے شہر سے باہر بھی رہا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میاں بیوی نے اختلافات رونما ہونے لگے اور ایک وقت وہ آیا جب رتی اپنا گھر چھوڑ کر ایک ہوٹل میں منتقل ہوگئیں، 1928ء میں وہ شدید بیمار پڑیں اور علاج کے لیے پیرس چلی گئیں۔ قائداعظم کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ بھی ان کی تیمارداری کے لیے پیرس پہنچ گئے اور ایک ماہ تک ان کے ساتھ رہے۔ یوں ان دونوں کے تعلقات ایک مرتبہ پھر بحال ہوگئے۔ چند ماہ بعد رتی جناح وطن واپس آگئیں مگر ان کی طبیعت نہ سنبھل سکی اور 20 فروری 1929ء کو ان کی 29 ویں سالگرہ کے دن ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ بمبئی کے آرام باغ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
غلام محمد قاصر کی وفات
٭20 فروری 1999ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد اور ڈرامہ نگار غلام محمد قاصر پشاور میں وفات پاگئے۔
غلام محمد قاصر 4 ستمبر 1941ء کو پہاڑپور، ڈیرہ اسماعیل خان کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک خوش گو شاعر تھے اور ان کے شعری مجموعے تسلسل، آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے اور دریائے گماں اردو کے اہم شعری مجموعوں میں شمار ہوتے ہیں۔ غلام محمد قاصر کی کلیات بھی ’’اک شعر ابھی تک رہتا ہے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لئے بھی کئی ڈرامے تحریر کئے جو ناظرین میں بے حد مقبول ہوئے۔
حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 2006ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو
کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
علامہ محمد اسد کی وفات
٭20 فروری 1992ء کو ممتاز نو مسلم مفکر، مصنف، مبلغ، مترجم اور صحافی علامہ محمد اسد اسپین کے شہر ماربیا میں انتقال کرگئے۔
علامہ محمد اسد کا اصل نام لیوپولڈویس
(Leopold Weiss)
تھا اور وہ 2 جولائی 1900ء کو پولینڈ کے شہر لواو میں ایک یہودی ربی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ خاندانی روایت کے مطابق انہوں نے بچپن میں عبرانی اور آرامی زبانیں سیکھیں اور تلمود اور بائبل جیسی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ 1926ء میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور تقریباً 6 برس تک مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے دیگر شہروں میں قیام اختیار کیا جہاں انہیں سلطان سعود کا تقرب حاصل ہوا۔ پھر وہ برصغیر آگئے جہاں انہیں علامہ اقبال کی صحبتوں سے استفادے کا موقع ملا بعدازاں انہوں نے کچھ وقت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے دارالاسلام (پٹھان کوٹ) میں گزارا۔
قیام پاکستان کے بعد انہیں حکومت کے ایک محکمے اسلامی تعمیر نو کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جہاں انہوں نے دستور پاکستان کا ایک خاکہ مرتب کرکے حکومت کو پیش کیا۔ بعدازاں ان کی تقرری وزارت خارجہ میں محکمہ مشرق وسطیٰ کے افسر اعلیٰ کی حیثیت سے ہوئی۔ آخر میں وہ اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد میں بھی شامل ہوئے۔
اس کے بعد وہ پاکستان کی وزارت خارجہ سے مستعفی ہوکر مراکش چلے گئے جہاں انہوں نے خود کوتصنیف و تالیف کے لئے وقف کردیا۔ انہوں نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ وہ صحیح بخاری کی منتخب احادیث کو بھی انگریزی میں منتقل کررہے تھے کہ مگر عمر نے وفا نہ کی۔ ان کی مشہور تصانیف میں
Islam at Crossroad
اور The Road to Mecca
کے نام شامل ہیں۔
علامہ محمد اسد غرناطہ (اسپین) کے مسلم قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
----------------------------------------------------------------------