شاہی دربار میں جوتے اتارنے سے پہلے
جان ،مال اور عزت کی تختیاں
اتار لی جا تی ہیں ہماری گردنو ں سے ۔۔۔...
اور۔۔۔۔ ہمارے مکانوں کے نقشے پھاڑ کر
باندھ دئے جاتے
ہیں ان زخموں پر
جو حا دثو ں کے خوف سے
گہرے ہو گئے
بُھربھرے ہو کر بہہ گئے جن کے کنارے
ان پا نیو ں کے ساتھ
سی دی گئی ہیں ہماری کشتیا ں
ڈال دی گئی ہے
تیزاب
ہمارے گھر کی بنیا دوں میں
اور۔۔۔ جھلسی ہوئیں اینٹیں ادھیڑ کر
بُنا گیا ہے
ایک نارنجی راستہ
ہم
۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!