15.10.2026, 06:09pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

جنرل ٹکا نے مارچ 1972ء سےفروری 1976ء کے دوران مسلح افواج کی قیادت کی
03.03.2016, 03:30am , جعمرات (GMT+1)

پاک فوج کے سربراہ۔ جنرل ٹکا خان


(3 مارچ 1972 تا 29  فروری 1976)
پاکستان کی بری فوج کے ساتویں سربراہ اور پہلے چیف آف اسٹاف جنرل ٹکا خان 7جولائی  1915ء کو تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ اُنہوں نے 22 دسمبر 1940ء کو انڈین ملٹری اکیڈمی، ڈیرہ دون سے گریجویشن کرنے کے بعد انڈین آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔

 قیام پاکستان کے بعد اُنھوں نے اپنی خدمات پاک فوج کے سپرد کردیں۔

 وہ 7 مارچ 1971ء سے 3ستمبر1971ء کے دوران مشرقی پاکستان کے گورنر رہے۔ 3مارچ 1972ء سے 29 فروری 1976ء کے دوران انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت کی۔ اس عہدے سے سبک دوشی کے بعد انھوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور اس پارٹی کے سکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔ 9دسمبر 1988ء کوپنجاب کے گورنر مقرر ہوئے اور 6۔اگست 1990ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ جنرل ٹکا خان کا انتقال  28مارچ 2002ء کو ہوا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

پاک فضائیہ کے سربراہ۔ ائیر مارشل ظفر احمد چودھری


(3  مارچ 1972 تا 15  اپریل 1974)
ایرمارشل ظفر احمد چودھری پاکستان ایرفورس کے پہلے چیف آف اسٹاف تھے۔ وہ 19 اگست 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ 9 اپریل 1945ء کو انھوں نے رائل انڈین ایر فورس میں کمیشن حاصل کیا اور قیام پاکستان کے بعد انھوں نے مختلف اہم پوزیشنز پر اہم خدمات انجام دیں ۔ جولائی 1971 سے مارچ 1972 تک انھوں نے پی آئی اے کی سربراہی کی۔ 3 مارچ 1972ء کو وہ پاکستان فضائیہ کے سربراہ مقرر ہوئے اور 15 اپریل 1974ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اساسی ارکان میں شامل ہیں ۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

میاں بشیر احمد کی وفات

٭تحریک پاکستان کے مشہور رہنما ، شاعر اور ادیب میاں بشیر احمد 29 مارچ 1893ء کو باغبان پورہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں برصغیر کی ایک معروف علمی اور ادبی شخصیت تھے۔ میاں بشیر احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا رخ کیا اور بی اے آنرز اور بیرسٹری کے امتحانات پاس کیے۔
وطن واپسی کے بعد میاں بشیر احمد نے کچھ عرصے بیرسٹری کی، پھر تین برس تک اسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی لیکچرار رہے۔ 1922ء میں انہوں نے مشہور ادبی جریدہ ہمایوں جاری کیا جو علمی متانت اور ادبی معیار کا حسین امتزاج تھا۔ یہ رسالہ 35 برس تک جاری رہا اور اس نے اردو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
میاں بشیر احمد، اردو اور مسلم لیگ کے ایک جانثار کارکن تھے۔ ایک جانب وہ پنجاب میں انجمن ترقی اردو کو منظم کرتے رہے اور دوسری جانب مسلم لیگ کو مضبوط بناتے رہے۔ میاں بشیر احمد ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ 1940ء میں جس تاریخی اجلاس میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی اس اجلاس میں ان کی مشہور نظم ’’ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح‘‘ نے تمام سامعین میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کردیا تھا۔
* 1941ء میں قائداعظم کی ہدایت پر وہ پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر رہے۔       *1942ء میں انہیں قائداعظم نے مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا رکن نامزد کیا۔ وہ 1947ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ 1946ء کے عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر مجلس قانون ساز پنجاب کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں انہیں ترکی میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر وہ 1952ء تک فائز رہے۔
وطن واپسی کے بعد میاں بشیر احمد اردو کی ہر ممکن خدمت انجام دیتے رہے۔ وہ پنجاب میں بابائے اردو کے سب سے بڑے رفیق اور مددگار تھے۔ انہوں نے چند کتابیں بھی مرتب کیں جن میں طلسم زندگی، کارنامہ اسلام اور مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔
٭3 مارچ 1971ء کو میاں بشیر احمد وفات پاگئے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

فراق گورکھپوری کی وفات

٭ اردو کے عظیم شاعرفراق گورکھپوری 28 اگست 1896ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ ان کے والد منشی گورکھ پرشاد عبرت اردو اور فارسی کے عالم، ماہر قانون اور اچھے شاعر تھے۔ فراق گورکھپوری نے انگریزی زبان میں ایم اے کرنے کے بعدسول سروسز کا امتحان پاس کیا مگراس ملازمت کا چارج لینے سے قبل ہی خود کو تدریس کے پیشے کے لیے زیادہ موضع پایا اور پھر تمام عمر اسی پیشے سے وابستہ رہے۔ فراق گورکھپوری اردو اور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اردو کے ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں اردو غزل کو ایک نیا رنگ اور آہنگ عطا کیا۔ان کے متعدد شاعری مجموعے شائع ہوئے جن میں روح کائنات، شبنمستان، رمز و کنایات، غزلستان، روپ، مشعل اور گل نغمہ کے نام سرفہرست ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن اور گیان پیٹھ کے اعزازات عطا کیے تھے۔
 * 3 مارچ 1982ء اردو کے عظیم شاعر فراق گورکھپوری کی تاریخ وفات ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

سعید احمد اختر کی پیدائش

امور شاعر اور ادیب سعید احمد اختر 3 مارچ 1933 کو پشین میں پیدا ہوئے تھے ، وہ محکمہ تعلیم اور سول سروس سے وابستہ رہے اور متعدد انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ ان کی تصانیف میں دیار شب، سطح آب، چاندنی کے سائے، خوابگینے، لے گئی پون اڑا، پوجا کے پھول، ورشانجلی، پتا ٹوٹا ڈال سے،اب کے بچھڑے کب ملیں، دور پڑے ہیں جا، گھونگھٹ کا پٹ کھول رے گوری اور بیچے تو بک جاوں کے نام سر فہرست ہیں ۔ جناب سعید احمد اختر 20 اگست 2013ء کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان میں وفات پاگئے ان کے صاحبزادے خاور احمد اور داماد غلام محمد قاصر بھی اردو کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں ۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

:دیگر مضامین
(02.03.2016) دو مارچ 1972ء کوغزل گو ناصر کاظمی لاہور میں وفات پاگئے 
(01.03.2016) *عالم لوہار یکم مارچ 1928ءکو موضع آچھ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے تھے
(28.02.2016)  فروری 28 کو جناب نسیم امروہوی کراچی میں وفات پاگئے۔
(27.02.2016) ٭27 فروری 2007ء کو پاکستان کی مشہور فلمی اداکارہ راگنی وفات پاگئیں
(27.02.2016) خطیب اکبر مولانا مرزا محمد اطہر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
(26.02.2016)  قدرت اللہ شہاب  26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے تھے
(25.02.2016) ٭25 فروری پشتو شاعر اور پٹھان ہیرو خوشحال خان خٹک کی تاریخ وفات ہے
(24.02.2016) فیلڈ مارشل ایوب خان کی صدارت میں 24 فروری 1960ء کو نام اسلام آباد تجویز ہوا
(23.02.2016) ٭14 فروری 1933ء برصغیر کی مشہور فلمی اداکارہ مدھو بالا کی تاریخ پیدائش ہے
(22.02.2016) ٭22 فروری 1974ء عالم اسلام کے سربراہوں کی تاریخی سہ روزہ کانفرنس کا آغاز
(21.02.2016) ٭21 فروری 2005ء کو مشفق خواجہ کراچی میں وفات پاگئے
(20.02.2016) ٭20 فروری رتی جناح کی تاریخ پیدائش بھی اور تاریخ وفات
(19.02.2016) ٭19 فروری 1275ءحضرت لعل شہباز قلندر کی تاریخ وفات ہے
(18.02.2016) ٭18 فروری 2008ء کو پاکستان کی تاریخ کے نویں عام انتخابات منعقد ہوئے
(17.02.2016) ٭پاکستان کے نامورفرزند راشد منہاس کی تاریخ پیدائش 17 فروری 1951ء  ہے۔
(16.02.2016) ٭16 فروری 1971ء کو شاہراہ قراقرم کا افتتاح کیا گیا
(15.02.2016) ٭15 فروری 1869ء اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ وفات ہے۔
(14.02.2016) سردار عبدالرب نشتر نے 14 فروری 1958ء کی صبح کراچی میں وفات پائی
(13.02.2016)  موسیقار روبن گھوش 76 برس کی عمر میں ڈھاکا میں انتقال کر گئے
(13.02.2016) بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تاریخ پیدائش 13 فروری 1905ءہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں