15.10.2026, 05:40pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضور صلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (90)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
29.02.2016, 05:04pm , سوموار (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی


ہم گذشتہ قسط میں یہا ں تک پہو نچے تھے کہ حضور (ص) غزوہ بنو مصطلق پر حضرت عا ئشہ (ص) کو ہمرا ہ لے گئے تھے ۔جیسا کہ آپ جا نتے ہیں عبد اللہ ابن ِابی کی وجہ سے اس مرتبہ وا پسی بڑی عجلت میں ہو ئی جس کی وجہ سے وہ تنظیمی نظا م قا ئم نہیں رہ سکا جو کہ مسلما نو ں کا خا صہ تھا ۔کیو نکہ حضور (ص) کا حکم ہی یہ تھا کہ چلتے رہو اور بلا ضرو رت مت رکو ۔ لہذا کو ئی اگر کسی ضرورت سے رکتا بھی تو فو را ًچل پڑتا۔ آخر مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر قا فلہ نے دم لیا ۔ حضرت عا ئشہ (رض) کسی ضرو رت سے وہاں رکیں اور ضروریا ت سے فا رغ ہو کر واپس تشریف لے آئیں ۔ مگر جب وہ ہو دج کے قریب پہو نچیں تو انہیں احسا س ہوا کہ انکا ایک قیمتی ہا ر کہیں را ہ میں گر گیا ہے ۔لہذا وہ وا پس تلا ش میں روانہ ہو گئیں چو نکہ آیتِ حجاب نا زل ہو چکی تھی لہذا رواج یہ تھا کہ جب امہا ت ِ مو منین (رض) تشریف لاتیں تو لو گ منہ پھیر کر کھڑے ہو جا تے اور جب سوا ر ہو جا تیں تو ہو دج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے۔ لہذا انہو ں نے حضر ت عا ئشہ (ص)  کو وا پس جا تے ہو ئے نہیں دیکھا۔اور جو انکے اونٹ کے نکیل بردار تھے وہ یہ سمجھے کہ وہ تشریف فر ما ہو چکی ہیں ۔لہذاانہو ں نے ہو دج اٹھا کر اونٹ پر رکھا اور چل پڑے ۔ جبکہ وہ اپنا ہا ر تلا ش کر کے واپس پہو نچیں،تو دیکھا کہ اونٹ اور قا فلہ دو نو ں ہی روانہ ہو چکے ہیں۔ لہذا وہ یہ سو چ کر چادر اوڑھ کر محواستراحت ہو گئیں کہ جب انہیں احسا س ہو گا تو وہ لو گ تلا ش کرتے ہو ئے یہا ں پہونچ جا ئیں گے۔ مگر وہا ں کسی کو بھی پتہ نہیں چلا کہ وہ ہو دج میں مو جو د نہیں ہیں۔ اور دن نکل آیا۔ حضور (ص)نے صحا بہ کرام میں سے ایک صا حب جن کا نا م حضرت صفوان (رض) ا بنِ معطل تھا کو اس بات پر مامو ر کر رکھا تھا کہ وہ لشکر کے پیچھے پیچھے چلیں اور اگر کو ئی چیز پیچھے رہ جائے تو اس کو اٹھاتے چلیں ۔لہذا جب وہ اس مقا م پر پہو نچے تو انہو ں نے دیکھا کہ کوئی چا در او ڑھے سو رہاوہ رک گئے اور جب انہیں معلو م ہوا کہ وہ ام المو نین حضرت عا ئشہ (رض) ہیں تو وہ خو د اونٹ پر سے اتر آئے اور حضرت عا ئشہ (ص)  کو اونٹ پر بٹھا کر خو د مہا ر پکڑ کر تیزی سے لشکر کی طرف چلے تا کہ اس کو پکڑ لیں، لیکن لشکر اتنی تیزی سے سفر کر رہا تھا کہ وہ نہ پکڑ سکے ۔ اس پر منا فقین نے ایک طو فا ن بر پا کر دیا ۔ابن ِ اسحا ق  (رح)نے حضر ت عائشہ  (رض) ہی کی زبا نی اس واقعہ کو بیا ن کیا ہے لہذا اب آگے ان ہی کی زبا نی سنیئے۔ حضرت عا ئشہ (رض)  فر ما تی ہیں کہ ” میں اپنی چا در میں لپٹی اور اسی جگہ لیٹ گئی میں نے سو چا میری تلا ش ہو گی تو یہیں لو ٹ کر آئیں گے ۔پھر خدا کی قسم میں لیٹی ہو ئی تھی کہ صفوان  (رض)ابن ِ معطل سلمی کا میرے پاس سے گذرہوا ۔ وہ اپنے فرا ئض ِ منصبی کی بنا پر لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ انہو ں نے دیکھا کہ کو ئی چیز پڑی ہو ئی ہے وہ آگے بڑ ھے اور میرے پاس آکر رک گئے ۔جب انہیں معلو م ہوا کہ یہ میں ہو ں تو انا للہ وانا الیہ را جعون! پڑھ کر کہا ارے یہ تو رسول (ص) اللہ کی خاتو ن  ہیں اور میں اپنی چا در میں ہی لپٹی رہی ۔انہو ں نے پو چھا آپ کس وجہ سے پیچھے رہ گئیں، خدا آپ پر رحم فر ما ئے ۔ مگر میں نے ان کو کو ئی جواب نہیں دیا۔پھر انہو ں نے اپنا اونٹ میرے قریب کر کے کہا کہ اس پر بیٹھ جائیے، اور خو د پیچھے ہٹ گئے ۔میں بیٹھ گئی تو انہو ں نے اونٹ کا سر پکڑ کر کھڑا کیا اور تیزی لے چلے تا کہ لشکر کو پکڑ لیں۔ مگر واللہ ہم نہیں پکڑ سکے، اور نہ ہی کسی نے مجھے تلا ش کیا ۔اب صبح ہو گئی تھی اور لو گ پہنچ کر ٹھہر چکے تھے۔ کہ ا س کے بعد صفوان (رض) مجھے لیکر پہو نچے تو لشکر میں کھلبلی مچگئی ۔واللہ مجھے کچھ نہ معلوم ہوا کہ کیا وا قعہ ہے“۔  مدینہ پہنچتے ہی میں سخت بیمارہو گئی ،اور مجھے تو کچھ علم ہی نہ تھا کہ کیا وا قعہ ہے۔جبکہ رسول  (ص)اللہ اور میرے والدین کو سا را قصہ معلو م ہو چکا تھا۔اور نہ ہی یہ لو گ مجھ سے تذ کرہ کر تے تھے۔البتہ میں نے یہ ضرو ر محسو س کیا کہ رسول (ص) اللہ کا رخ بد لا ہوا ہے،وہ پہلا سا لطف و کر م کا بر تا ؤ نہیں فر ما رہے ہیں، حا لا نکہ پہلے میں جب کبھی بیما ر ہو تی تووہ مجھ پر لطف و عنا یت فر ما تے ، لیکن میری اس سخت بیماری میں جب پہلے ساالتفا ت نہ فر ما یا تو مجھے بڑا تعجب ہوا ! میری ماں جو میرے پا س تھیں اور میری تیما ردا ری کر رہی تھیں ،جب حضور (ص) تشریف لا تے تو ان سے پو چھتے کہ یہ کیسی ہیں۔ اس کے علا وہ کچھ نہ فر ما تے ۔ اب میں دل ہی دل میں غمگین رہنے لگی ،آخر آپ کی خد مت میں عرض کیا کہ آپ مجھے اجا زت مر حمت فر ما ئیں ،تو میں اپنی وا لدہ کے گھر چلی جا ؤ ں اور وہ وہیں جاکر میری تیما ر داری کر یں ۔آپ نے فر ما یا ”تمہا ری مرضی“ لہذا میں اپنی ما ں کے یہا ں منتقل ہو گئی۔ لیکن اب بھی مجھے اصل واقعہ کا علم نہ ہوا ۔یہا ں تک کہ اس رنج و غم سے میری نقا ہت اور بڑ ھ گئی ۔اور اسی حالت میں بیس راتوں سے اوپرگزر گئیں ۔ ہم عرب لو گ عجمیو ں کی طر ح اپنے گھروں میں بیت الخلا ءنہیں بنا تے تھے، ہمیں اس سے نفرت اور کرا ہیت ہو تی تھی۔لہذا ہم رفع حا جت کے لیے مدینہ کے کشا دہ میدانوں میں جا تے تھے۔ اور اپنی ضرو ریا ت سے فراغت کے لیے خوا تین رات کو نکلتی تھیں، ایک را ت میں اپنی ضرورت کے لیے نکلی تو میرے سا تھ ام ِ مسطح  تھیں (نوٹ ۔یہ ام ِ مسطح ا ن مسطح کی وا لدہ تھیں جوحضرت عائشہ (رض) کے با رے میں با تیں بنا نے میں سب سے آگے تھے او ر جن کی کفا لت غر بت کی وجہ سے حضرت ابوبکر (رض) فرماتے تھے۔ اور اس وا قعہ کے بعد انہو ں نے کفا لت کر نابند کر دیا تھا۔ لیکن جب اس آیت کا نزول ہو ا ترجمہ کہ ” تم میں وسعت اور فضیلت رکھنے والے لو گو ں کو قرابتدارو ں،مسکینو ں اور اللہ کے را ستے میں ہجرت کر نے وا لو ں کے لیے داد و د ہش میں کو تا ہی نہیں کر نی چا ہیئے اور انہیں چا ہیئے کہ وہ معا ف کر دیں اور درگزر کر یں، کیا تم اس کو پسند نہیں کر تے کہ اللہ تعا لی ٰ تم کو معاف فر ما دے اور اللہ بڑا معا ف کر نے وا لا اور مہر با نی کر نے وا لا ہے “(٤٢۔ ٢٢ ) تو انہو ں نے دو با رہ یہ کہہ کر خرچہ جا ری کر دیاکہ خدا کی قسم میں پسند کر تا ہو ں کہ اللہ تعا لیٰ مجھے معا ف فر ما ئے ۔ اس میں عفو اور در گزر کا ایک عظیم سبق ہے مسلما نو ں کے لیے ہے ) وہ فرماتی ہیںکہ ام ِمسطح میری رشتے کی پھو پھی تھیں اور میرے ہمرا ہ تھیں کہ اپنی چا در میں الجھیں اور ٹھو کر کھا ئی اس پر انہو ں نے کہا کہ مسطح کا برا ہو! حضرت مسطح  (رض)کا اصل نا م عوف تھا اور مسطح لقب تھا ۔میں نے کہا ایسے مہاجر کے لیے جو غزوہ بدر میں شریک تھا، آپ نے جو کچھ کہا وہ منا سب نہ تھا۔اس پر انہوں نے کہا کہ اے بنت ِ ابو بکر (رض) کیا تجھے کچھ خبر نہیں ہے؟میں نے پو چھا کیسی خبر ؟تو انہوں نے سارا واقعہ بتا یا کہ اہل ِ افک نے کیا کیااور کیاکہا ۔ میں نے کہا اچھا تو یہ با ت تھی ۔ وہ بو لیں ہا ں خدا کی قسم یہ ہی با ت تھی وہ آگے فر ما تی ہیں کہ میں یہ خبر سن کر سکتے میں آگئی ۔ قضا ئے حا جت سے بھی فرا غت حا صل نہ کر سکی اور فو راً وا پس لو ٹ آئی اور مسلسل رو تی رہی ایسا محسو س ہو تا تھا کہ میرا کلیجہ پھٹ جا ئیگا۔میں نے اپنی ما ں سے کہا اللہ تعا لیٰ آپ کو معا ف کر ے ۔ لو گو ں نے اتنی با تیں کہہ ڈا لیں اور آپ نے مجھے ذرہ بھر بھی نہیں بتا یا۔اس پر میری ما ں بو لیں : بیٹی تو اپنا دل چھو ٹا نہ کر ! اپنے آپ کو سنبھال، واللہ ! بہت کم ایسا ہو تا ہے کہ ایک عو رت جو خو بصو رت بھی ہو اس کا شو ہر اس سے محبت کرتا ہو اور اسکی سو کنیں بھی ہو ں اور پھر سو کنیں اور دوسرے لو گ با تیں نہ بنائیں ۔ آگے حضر ت عا ئشہ  (رض) فر ما تی ہیں کہ مسطح حمنہ بنت ِ حجش نے جو کچھ کہا وہ کہا مگر اس واقعہ کو پھیلا نے میں عبد اللہ بن ابی کا بڑا حصہ تھا۔ جو کچھ خر ز جیو ں کے سا تھ مل کر اس کی اشاعت میں مصروف تھا ۔ ( نوٹ۔ یہ عبد اللہ بن ابی وہی ہیں جو کہ اپنی منا فقانہ سرگرمیوں کی وجہ سے رئیس المنا فقین کہلاتے تھے اور اسی کی وجہ سے یہ لشکر افرا تفری میں سفر کر رہا تھا اور یہ واقعہ پیش آیااور اس سے پہلے اُحد میں بھی وہ اپنے تین سو ساتھیوں کو لیکرالگ ہو گیئے تھے)اور حضرت حمنہ (رض) ان کی ہم نوا ہی اس لیئے کر رہی تھیں کہ وہ ام المو نین زینب (رض) بنت حجش کی ہمشیرہ تھیں او ر انکے سوا ام ہا تِ مومنین میں کو ئی اور نہیں تھی جوحضو ر  (رض)کی چا ہت میں میری ہمسری کر تیں مگر ان کی( دیندا ری ) کی وجہ سے اللہ تعا لیٰ نے انہیں معا ف کر دیا ، چو نکہ یہ اپنی بہن کی وجہ سے مجھ سے کد رکھتی تھیں لہذا انہو ں نے اس قصے کی خو ب اشا عت کی اور اس لیے بد بختی کا شکا ر ہو ئیں۔                                 



:دیگر مضامین
(20.02.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (89)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.02.2016) سیرتِ پاک حضورصلی للہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (88)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.02.2016) سیرت پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (87)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(86)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(85)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.01.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (84)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.12.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(83)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے (82)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.12.2015) کی محمد (ص) سے وفا تونے تو۔۔۔؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (81۔)۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(01.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (80)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.11.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (79)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ۔۔۔روشنی حر (78)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(08.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ روشنی حراسے(77)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (76۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے ( (75۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (74)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (73)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا (72)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(27.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (71)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں