15.10.2026, 11:07am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (91)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی


05.03.2016, 04:06am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔شمس جیلانی
 گذشتہ قسط میں ہم غزوہ بنو مصطلق اور واقعہ افک کا ذِکرکرتے ہوئے یہا ں تک پہو نچے تھے کہ حضرت عا ئشہ (رض) اس مر حلے پر اس طو فا ن سے جو لو گو ں نے ان کے خلا ف کھڑا کیا تھا با خبر ہو ئیں تو انہیں یا د آیا کہ ایک دن حضور (ص) نے اپنے خطبے میں بھی کچھ عجیب با تیں کیں تھیں اور چو نکہ وہ (ص) آجکل ان پر التفا ت نہیں فر ما رہے تھے اس لیے وہ اس کی وجہ نہیں جا ن سکیں۔ مگر آج وہ خطبہ بھی ان کو یا د آیا جس میں بقول ان کے پہلے انہو ں نے اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثنا فر ما ئی اس کہ بعد فرما یا ”لو گو ! ان لوگو ں کو کیا ہو گیا ہے، جو مجھے میرے اہل ِ خا نہ کے با رے میں ایذا پہنچا رہے ہیں!ان کی طرف غلط باتیں منسوب کررہے ہیں، خدا کی قسم! میں نے ان میں نیکی کے سوا کچھ نہیں دیکھااور جس آدمی کے با رے میں یہ الزا م لگا رہے ہیں،اس میں بھی خدا کی قسم خیر ہی دیکھی وہ جب بھی میرے گھر میں دا خل ہو تا ہے، تو ہمیشہ میرے سا تھ ہی دا خل ہوتا ہے “۔  وہ آگے فر ما تی ہیں کہ اس تقریر کے بعد اوس اور خزرج آپس میں جھگڑ پڑے ۔  ہوا یہ کہ اسید  ابنِ حضیر جو کہ قبیلہ اوس سے تھے کھڑے ہو ئے اور فر ما یا کہ اگر یہ لو گ بنو اوس سے ہیں ،تو آپ نا م بتا ئیں میں ابھی ان کے سر کا ٹ کر آپ کے قدموں میں ڈا لے دیتا ہوں اور بنو خزرج میں سے ہیں تو حکم فر ما ئیے ۔ اس پر حضرت سعد ابن ِ عبادہ مشتعل ہو گئے اور انہو ں نے کہا کہ یہ تم نے اس لیے کہا ہے کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس میں میرے قبیلے کے لو گ ملو ث ہیں ورنہ تم یہ با ت نہیں کہتے۔اس پر قریب تھا کہ فساد بر پا ہو جا ئے لیکن حضور (ص) اٹھ کر دو نو ں کے در میا ن آگئے اور با ت رفع دفع ہو گئی ۔                 
تحقیقِ حالا ت : اس سے آگے ابن ِ ہشا م (رح) نے لکھا ہے کہ حضور (ص) نے اس سلسلہ میں حضرت علی (رض)  اور حضرت اُسا مہ بن زید (رض) کو بلا یا اور معا ملہ مشو رے کے لیے ان کے سا منے رکھا ۔ لہذا انہو ں نے مشورہ دیا کہ بہتر ہے کہ حضرت عا ئشہ (رض) کی لو نڈی حضرت بریرہ  (رض)جو کہ ہمیشہ ان کی خد مت میں رہتی ہیں ان کو بلا کر پو چھا جا ئے ۔ان کو بلا یا گیا اور ان سے پو چھا گیا کہ انہوں نے حضرت عا ئشہ (رض)  کو کیسا پا یا تو انہوں نے بتا یاکہ”واللہ ! میں نے خیر کے سوا ان میں کچھ نہیں پا یا۔میں حضرت عا ئشہ (رض) پر کسی قسم کے عیب کا تصور بھی نہیں کر سکتی (البتہ نیند ضرور غفلت کی سو تی ہیں ) میں ان کا آٹا گو ند ھا کر تی تھی، کبھی اگر حضرت عا ئشہ  (رض)سے کہہ جاتی کہ ذرا نگا ہ رکھنا تو وہ غفلت کی نیند سو جا تیں اور بکر ی آٹا کھا جا تی(اس کے علا وہ میں نے ان میں کوئی خامی نہیں پا ئی “۔  اس کے بعد ان لوگو ں نے مشورہ دیا کہ آپ ان سے برا ہ راست با ت کریں ۔لہذا حضرت عا ئشہ (رض) فر ما تی ہیں کہ حضور (ص) میرےوالد کے گھر تشریف لا ئے۔ جبکہ میرے ماں با پ اور کچھ عو رتیں مو جو د تھیں ۔میں زار و قطا ر رورہی تھی اور انصا ر خواتین بھی میرے سا تھ زا ر و قطا ر رو رہی تھیں ۔  حضو ر (ص) نے بعد حمدو ثنا فر ما یا کہ ”لوگوں کی چہ میگوئیا ں تم سن چکی ہو !پس اللہ سے ڈرو اور جیسا کہ لو گ کہہ رہے ہیں اگر کو ئی غلطی کی ہے ،تو تو بہ کر لو اللہ تعا لی ٰ بندو ں کی تو بہ قبو ل کر تاہے“۔  حضرت عا ئشہ فر ما تی ہیں کہ ابھی حضور (ص) نے با ت ختم نہیں کی تھی کہ میرے آنسو ابل پڑے ۔اور مجھے کسی با ت کا ہو ش نہیں رہا میں سمجھتی تھی کہ میری طرف سے وا لد ین حضور (ص) کو کو ئی جوا ب دیں گے، لیکن ان کی خامو شی نے مجھے اور بھی صد مہ پہنچا یا ۔ اس کے بعد خدا کی قسم میں اپنی نظروں میں خو د حقیر ہو گئی ۔ جب میں ذرا ہو ش میں آئی تو میں نے اپنے وا لدین سے شکوہ کیا کہ آپ لوگ جواب کیو ں نہیں دیتے تو میرے وا لدین نے کہا کہ خدا کی قسم ! ہما ری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا جواب دیں ۔پھر میں نے خو د جوا ب دیا اور کہا کہ ”میں لو گو ں کی کہی ہو ئی با ت کا اقرار کر لو ں ، تو یہ ایسی با ت کا اقرار ہو گا ،جو سرا سر جھوٹ ہے لہذا میں جھو ٹی با ت پر کبھی تو بہ نہیں کرو ں گی، کیو نکہ اللہ جا نتا ہے میں اس سے بری ہو ں۔اس طر ح میں ایک ایسی با ت کا اقرار کرو ں گی جس کا وجو د ہی نہیں ہے۔ اور میں ان کی با ت کی تردید کرتی ہو ں تو آپ لو گ ما نیں گے نہیں ،پھر میں نے حضرت یعقوب (ع) کا نا م یا د کیا جو کہ پریشانی کی وجہ سے یا د نہیں آیا لہذا میں نے کہا کہ میں اس سلسلہ میں ابو یو سف  (ع)کے وہی الفا ظ دہرا ؤں گی جو کہ انہو ں نے کہے تھا ”نصبرو جمیل واللہ مستعا ن علٰی ما   تصفو ن“ترجمہ : صبرِ جمیل کے سوا کیا ہو سکتا ہے !اور جو تم لو گ کہہ رہے ہو،اس پر اللہ ہی کی مدد طلب کی جا سکتی ہے ۔ آگے فر ما تی ہیں بس مجھے ایک امید تھی کہ حضور (ص) کسی دن خوا ب میں سچا ئی پا لیں گے اور میری برا ءت ہو جا ئے گی۔  یہ میں نے کبھی سو چا بھی نہ تھا کہ میری برا ءت میں آیتیں اتریں گی ،اور قر آن میں قیا مت تک پڑھی جا ئیں گی ۔ خدا کی قسم! میری نگا ہ میں میرا نفس اس سے (کہیں ) زیا دہ حقیر تھا ۔                                
بشارت برا ءت :آگے فر ما تی ہیں کہ واللہ یہ مجلس ابھی بر خوا ست نہیں ہو ئی تھی کہ میری برا ءت میں حضور (ص) پر وہی چیز نا زل ہو گئی، جو نا زل ہوا کر تی تھی ۔ان پر چادر ڈا ل دی گئی، اور سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ رکھ دیا گیا اس وقت میں سا را حا ل دیکھ رہی تھی مگر کسی قسم کا خو ف محسو س نہیں کر رہی تھی ۔کیو نکہ میں جا نتی تھی کہ میں با لکل پاک اور مبرا ہو ں اور اللہ تعا لیٰ میرے حق میں بے انصا فی نہیں کریگا ۔ لیکن میرے والدین کی یہ حا لت تھی کہ جیسے دم نکل جا ئے گا ،کیو نکہ انہیں خو ف تھا کہ کہیں اللہ تعا لیٰ تصدیق نہ فر مادے جولو گ کہہ رہے ہیں! ۔رسو ل (ص) اللہ کی یہ کیفیت جب ختم ہو ئی تو آپ اٹھ بیٹھے گو کہ مو سم سردی کا تھا مگر پسینے کے قطرے اسی طر ح بہہ رہے تھے جیسے کہ چا ندی کے ٹکڑے مو تیو ں کے شکل میں ہو تے ہیں۔آپ پیشا نی سے پسینہ پو چھنے لگے ۔ اور فرمایا لو! عائشہ (رض)  خو شخبری سن لو ! اللہ تعا لیٰ نے تمہا ری برا ءت نا زل فر ما دی اس کے بعد یہ آیت تلا وت فر ما ئی ” ان الذین جآ ءو ا با لا فک عصبة منکم ط لا تحسبوہ شر اً ا لکم بل ہوا خیر الکم ط لکل ِ امریءمنھم ماا کتسبت ط من ا لا ثم ج والذی تولیٰ کبرہ منہم لہ عذا ب عظیمہ“ ( 24.11)۔  تر جمہ: ”واقعی با ت یہ ہے کہ جن لو گو ں نے یہ افترا باندھاتھا ، وہ تم میں سے ایک جما عت ہے اس افترا ءپردازی کو اپنے لیے شر مت سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے خیر ہے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے وہ گنا ہ ہے جو اس نے کما یا اور جو ان میں سے اپنے بڑے گنا ہ کا مر تکب ہوا اس کے لیے بڑا عذا ب ہے“۔ حضرت عا ئشہ (رض) فر ما تی ہیں کہ میں نے کہا الحمد اللہ ! تما م تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اس کے بعد حضور (ص) با ہر تشریف لے گئے اور ان لو گو ں پر حد جا ری فر ما ئی جو کہ اس تہمت کے لگا نے میں ملو ث تھے ۔ بعض مور خین نے اور مفسر ین نے آیا ت نمبر (24.12,61) کو اسی بارے میں شامل کیا ہے جس میں سے پہلی آیت عبد اللہ بن ابی اور دوسری آیت ان تما م مرد اور عو رتو ں کے بارے میں ہے جو کہ اس افترا پردازی میں ملو ث تھے وا للہ عالم ۔( لیکن اس تما م وا قعہ میں ایک سبق ہے امت کے لیئے کہ حضور (ص) نے اس معا ملے میں وہ تما م طر یقے اختیا ر کیئے جن کی تلقین قر آن نے کی ہے۔ اگر ہم اس روش کو اپنا ئیں اور اسو ہ حسنہ (ص) پر عمل کریں تو طلا قوںکی تعداد آدھی بھی نہ رہے۔ کیو نکہ سا ری طلا قیں غصے میں ہی وا قع ہو تی ہیں اور ہم عام طو ر پر تین طلا ق ایک سا تھ دا غ دیتے ہیں اور پھر بھا گتے پھر تے ہیں)                                       
بنو مصطلق کے با رے میں غلط فہمی :ابن ِاسحاق (رح)  نے لکھا ہے کہ مجھ سے یزید ابن ِ رو ما ن نے بیان کیا کہ بنو مصطلق کے ایما ن لا نے کہ بعد رسو ل (ص) اللہ نے حضرت ولید بن عقبہ (رض) بن ابو معیط کو ان کے پاس زکا ت لینے بھیجا ۔جب انہیں معلو م ہوا کہ حضرت ولید (رض) بن عقبہ آرہے ہیں تو وہ استقبا ل کو نکلے۔ حضرت ولید (رض) نے یہ دیکھا تو خا ئف ہو کر رسو ل (ص) اﷲ کے پا س وا پس چلے گئے ۔اور کہا کہ انہو ں نے میرے قتل کا عزم کیا ،اور وہ صدقہ دینے پر آما دہ نظر نہیں آئے ۔ لہذا حضو ر (ص) نے ان کے خلا ف پھرجہا د کی تیا ری کا حکم دید یا۔ لیکن اتنے ہی میں بنو مصطلق کا وفد بھی پہنچ گیا اور جب انہو ں نے صو رت حال وا ضح کی تو اس غلطی کا ادرا ک ہوا ۔اس پر آیت ( 49.6,7 ) نا زل ہو ئی ۔جس کا تر جمہ پیش خدمت ہے ۔ تر جمہ: ”اے ایما ن وا لو ! غیر ذمہ داری سے کو ئی شخص (بلا تحقیق ) خبرلا ئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قو م کو تکلیف پہنچا دو،پھر اپنے کیئے پر تمہیں شر مند ہ ہو نا پڑے۔اور خو ب سو چ سمجھ لو یہ کہ تمہا رے اندر اللہ کے رسول موجودہیں اگر وہ ہر با ت میں تمہا ری با تیں ما ننے لگیں تو تو تم سخت دشوا ریو ں میں پڑ جاؤ“
(بقیہ آئندہ)

:دیگر مضامین
(29.02.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (90)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.02.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (89)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.02.2016) سیرتِ پاک حضورصلی للہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (88)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.02.2016) سیرت پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے (87)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(86)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(85)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.01.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (84)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.12.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(83)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے (82)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.12.2015) کی محمد (ص) سے وفا تونے تو۔۔۔؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (81۔)۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(01.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (80)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.11.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (79)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ۔۔۔روشنی حر (78)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(08.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ روشنی حراسے(77)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (76۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے ( (75۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (74)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (73)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا (72)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں