15.10.2026, 02:16pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

ہاتھ کاٹے پاؤ کاٹا پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
13.03.2016, 03:01am , اتوار (GMT+1)

 ہاتھ کاٹے پاؤ کاٹا پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
کسی ہزل گو شاعرکا ایک ذومعنی شعر ہے جو کہ اس طرح ہے کہ “ ماسٹر کا ماس کاٹا پھر بھی ٹر باقی رہا  ہاتھ کاٹے پاؤ ں کاٹا پھر بھی سر باقی رہا  “ آجکل یہ ہی ڈراما کراچی میں ہورہا ہے۔ برا ہو بے انصافی کاجو کہ اپنوں کو بھی غیر بنا دیتی ہے۔ اور غیر بھی وہ جو کہ کبھی باہم شیرو شکر تھے۔ پوری دنیا کی تاریخ میں یا تو انصار (رض) مدینہ تھے جو مواخّات پر پورے اتر ے۔ یا پھر انصار پاکستان تھے جوکہ اس پر ایک مدتک پورے اترے کہ اپنے مہاجر بھائیوں کا خیال کیا جائے اور  انہیں اپنے اوپر ترجیح دی کہ بیچارے اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور مہاجر وں کی اکثریت نے بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس سے استفادہ حاصل کیا ان میں خود بھی شامل ہوں لیکن میں آنے والوں کی اس کھیپ میں تھا جو پانچ سال کے بعد پاکستان آئی۔ کیونکہ 1954 تک مشرقی پاکستان کی سرحدیں کھلی ہوئی تھیں اور سندھ کی58  جبکہ پنجاب کی  1947میں بند ہوگئی تھیں ۔ لہذا آگے جو کہونگا اپنے تجربات کی بنا پر کہو نگا اور کچھ بھی کہونگا سچ کہونگا۔  پاکستان پہونچنے کے بعد ظاہر سب نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ مہاجرین مدینہ جس طرح مکہ چھوڑ کر آئے تھے ویسے ہی ہم  بھی آئے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ تھی  کہ ان میں کی اکثریت وہ بلندی نہیں رکھتی تھی کیونکہ وہاں جن لوگوں اپنےدیس چھوڑا تھا وہ ااپنے دین اور یہاں اکثریت نے وطن دنیا کے لیئے چھوڑا۔ کیونکہ صاحبِ حیثیت لوگو نے پاکستان سے پہلے تبادلہ آبادی کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا، اس لیے وہ لوگ ذہنی طور پر تیار بھی نہ تھے۔ کہ اچانک پاکستان بن گیا ہندو اکثریت کی نہ، نہ اچانک ہاں میں تبدیل ہوگئی اور ہماری لیڈر شب نے اپنی روایات کے مطابق اوروں کیا اپنے نام لکھ لیا۔
 ادھر انصار بھائی صدیوں سے کاروباری طبقے کے لوگوں سے نالاں اور اپنی  ملنے والی آزادی کے بعد اپنے مسلمان بھائیوں سے جن میں ہنر مند ، سرمایہ کا ر اور صنعت کار شامل  تھے ان کی آمد کے بارے میں سوچ بھی رہے تھے اور دعوت بھی دے رہے تھے کہ بھائیوں آؤ اور اپنے تجربے اور سرمایہ سے ہماری مدد کرو اس لیے وہ ذہنی طور پر تیار تھے؟ لیکن اقلیتی صوبوں سے جو کھیپ آئی، وہ ایک تو احساس برتی میں مبتلا تھی ،دوسرے وہ دودھ پینے والے مجنوں تھے ۔ خون دینے والے مجنوں نہ تھے؟ لہذا وہی پاکستان بننے کے بعد اس خبر کو سن کر چلے کہ وہاں تو مزے ہی مزے ہیں ۔ اور بند مکانوں کے تالے توڑتے اور بیٹھتے رہے۔ پھر یہ ہی انکا کاروبار بن گیا؟ میں ذاتی طورپر ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو یہاں آکر معزز بن گئے جو کے پولس کو یا تو مطلوب تھے یا پھرپولس کے  میں بستہ “ ب“ میں ان کے درج تھے سوائے ان سرکاری ملازمین کے جنہوں نے کی خدمت کرنا پاکستان بننے سے پہلے منظور کرلیا تھا۔ اس پرظلم یہ ہوا کہ وہ نہ صرف یہاں آئے بلکہ یہاں آکر لیڈر بن گئے۔ جبکہ کسی نے آنے والوں کے چال چلن کی تصدیق کرنے کی زحمت بھی نہیں کی اور جس نے جو کہدیا وہ مان لیا ؟ جو لوگ صاحب ِ حیثیت تھے خصوصاً زمیندار، سرمایہ دار۔ وہ اس چکر میں وہیں رکے رہے کہ ہماری جائیدادیں ہیں کارو بار ہیں کیسے چھوڑ دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انصار کو بہت سو سے مایوسی کاسامنا کرناپڑا ؟
 اگر شروع دن سے ہی آنے والوں کا چال چلن چیک کیا جاتا ،تو باہمی اتحاد بد گمانیوں کی بھیٹ نہ چڑ ھتا مگر حاکم وقت ہمیشہ اسلام سے خائف رہے؟ وہ ان لوگو ں کو اس سے ان کو دور رکھنا چاہتے جن کو یہ نعرہ دیا تھا اور جوکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا، کہ اسے لگاتے لگاتے ان کاجزایمان بن چکا تھا کہ پاکستان مطلب کیا؟ لا الہ اللہ۔ اگر قیادت کا قبلہ درست رہتا تو پھر وہ بھی اپنے وعدوں کے مطابق ہر مسئلہ کا حل اسلام کے اندر تلاش کرتے؟ مثلا ً جیسے کہ مدینہ منورہ سے مہاجرت کے موقعہ پر خواتین مہاجرات کا مسئلہ پیدا ہوا تو قر آن میں فوراً حکم آگیا کہ آنیوالی خواتین کو پہلے آزمایا جائے قسمیں دی  جائیں اور پوری تحقیقات کی جائے کہ انہوں نے ہجرت کسی اور وجہ سے تو نہیں کی سوائے اسلام سے وابستگی کے تو بہتر ہوتا ؟اور مسائل یہاں کم پیدا ہوتے؟ مقامی لوگ بھائیوں کے ہاتھوں دھوکے کھانے سے بچ جاتے اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہونچتی نہ مہاجر اور انصار ایک دوسرے سے شاکی ہوتے۔ کوئی ایسا انتظام پہلے سے موجود نہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ یہ ہواکہ ایک خلا پیدا ہو گیا۔ فارسی کی ایک کہاوت ہے کہ خالی گھر میں دیو آجاتے ہیں،چونکہ یہاں خلا تھا اس کو بڑھانے میں غلط کردار وں نے اور بعد میں ون یونٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا نتیجہ یہ ہوا کہ مرکز عوام سے بہت دور ہوتا چلا گیا لوگ معمولی کاموں کے لیے اسلام آباد لاہور یا ڈھاکے  کےچکر کاٹتے نظر آئے؟ دشمنوں کو موقعہ مل گیا انہوں نے اس کو اور ہوا دی اور ملک دوتکڑے ہوگیا؟ اس کے بعد جعلی لیڈر میں سے بہت سے مسیحا بن کر آگئے گئے اور غیروں نے  اپنے مفاد کے لیے انہیں آسمان پر چڑھادیا کہ بس یہ تمہاری تقدیریں بدل دیں گے؟ ان میں کے پاس مختلف نعرے تھے۔ جو پورے کوئی نہیں کر سکا اور عوام کو ایک مرتبہ پھر مایوسی ہوئی جب کہ انہوں نے اپنی تقدیریں بنا ئیں اور بدعنوانیاں اپنے عروج پہونچ گئیں کہ وزراءتک ٹی وی پر آکر کھلے عام کہنے لگے کہ رشوت ہمارا حق ہے ہم نہیں لینگے تو کوئی اور لے جائے گا؟
 اب کچھ درمندوں کی توجہ اس وقت مبذول ہو ئی ہے جبکہ بہت دیر ہوچکی دو نوں طرف کے زخم پھوڑے بن چکے تھے۔ کیڑے مکوڑے خلا پر دیوبن کر قابض ہوچکے ہیں۔ جنہوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں کی زندگی اجیرن تو کی، مگر ان سے اور عوام سے کیے ہوئے وعدے کبھی پورے نہیں کیے؟ آجکل بہت عرصے کے بعد ایک قیادت آئی ہے جس نے بیماری کوپہچانا ہے۔؟اور اتفاق سے دوسرے اداروں کو بھی اچھی قیادت میسر آگئی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ پہلے جو بھی سر بنے ہوئے تھے انہیں زیرکرکے بے اثر کردیا ہے؟ بد زبانوں کی زبان بند ی کردی ہے۔  کچھ شور کم ہوا تواب ان کے سامنے انہیں جانثاروں کو انکے اصل چہرے نظر آنے لگے ہیں، مگر انکو تین نسلیں گزر چکی ہیں لہذا وہ جڑ پکڑ چکے ہیں ۔ وہ ہمیشہ کی طرح خود کو مظلوم ظاہر کر رہے اورہر بات جھوٹ کہہ کر جھٹلادیتے ہیں ؟ وہ چایتے ہیں نئی نسل کو سبز باغوں، دھونس اور دھمکی کے زور پر اپنا ووٹر بنا ئے رکھیں ؟ ابھی تک جو مشاہدات سامنے آئے ہیں اس کی وجہ کوئی بھی ہو، دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے؟ مگر ووٹ انہیں کے بکس سے نکلتے ہیں۔ جب کہ ان کا اپنوں کے ساتھ رویہ یہ ہے کہ وہ کھلے عام حکومتوں کو دھمکیا ں دیتے رہتے مگر کوئی ان سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے یاایہ جن کے راز ہیں؟ ایک دور تھاکہ جو بازیگر جب چاہتا ہے شہر بند کرادیتا تھا، اپنے چاہنے والوں کو پارٹی سے نکال باہر کر تا اور ہر کارکن اس کے سامنے بے بس نظر آتا ۔ یہ اسی پالیسی کانتیجہ تھا کہ کل تک جو اپنے بہترین کام کی وجہ سے ہیرو بتلائے جاتے تھے وہی آج زیرو ہیں ۔ اور سامنے آکر لیڈر کو للکار رہے ہیں۔ اور ان کے حمایتی جو کبھی گلہ ، ، گلا اور ہاتھ  اور جیبیں صاف کیا کرتے تھے اب “ گلیارے “ صاف کر رہے ہیں اللہ کی شان۔ مگر یہ کوششیں بھی شاید  ہی انہیں اور ان  کے حواریوں کو بچا سکے کیونکہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ ہر فرعون کے لیے وقت معینہ پر کسی موسیٰ کو پیدا کردیتا ہے۔ جو اسی کے محل میں پرورش ہو کر اسے بعد میں ڈبونے کا باعث ہو تا ہے۔ اللہ ہمارے موجودہ نا خداؤں کو سمجھ دے تاکہ وقت کے مطابق کام کرسکیں دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے اکابرین کو ہمیشہ دیر ہو جاتی ہے اس میں انکا کچھ نہیں بگڑتا، مگر نقصان قوم کا ہوجا تا ہے۔  اللہ سبحانہ تعالیٰ اس مرتبہ ہمیں محفوظ رکھے (آمین)

:دیگر مضامین
(05.03.2016) صعّرا “ اونٹ کی ٹیڑھی گردن (٢)از ۔۔ شمس جیلانی
(27.02.2016) صعر “یا اونٹ کی طرح ٹیڑھی گرد ن۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(20.02.2016) شہید ِعلم ثاقبہ حکیم؟..... از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.02.2016) آزاد ی ِصحافت کے نئے معنی۔۔۔ از..... شمس جیلانی
(06.02.2016) لنکا میں جو بھی دیکھا وہ باون گز کا؟ از۔۔۔شمس جیلانی
(30.01.2016) حکمرانوں کی عافیت خلا پر کرنے میں ہے۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(23.01.2016) اچھے طالبان ،برے طالبان اور ان کی پہچان ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.01.2016) نیاتنازع پاکستان کس تاریخ کو بنا؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی۔ نظر ثانی شدہ
(09.01.2016) مقدس گائے کا سفر جنگلوں سے لغت تک۔۔۔از... شمس جیلانی
(02.01.2016) پوت ، کپوت اورسپوت۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(26.12.2015) یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں۔۔۔ ؟از۔۔ شمس جیلانی
(19.12.2015) دودھ کاجلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(12.12.2015) دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ن پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.12.2015) جانکنی میں کی اس نے جفا سے توبہ!۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.11.2015) عالی جی تو شہزادے تھے۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی
(21.11.2015) فوج یا الہ دین کا چرا غ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(14.11.2015) گڈ گورنینس، طرہ امتیاز ہے؟ ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(07.11.2015) قانون کے منہ پر تھپڑ؟۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(31.10.2015) بڑھیےدنیا امن کی متلاشی ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) بھارت کو یہ مذہبی شدت پسندی  لے ڈوبےگی۔۔ ۔از۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں