ہم گذ شتہ قسط میں وا قعہ افک پر با ت کر رہے تھے جو کہ حضرت عا ئشہ (رض) کی برا ءت کی آیات کے نزول پر ختم ہو ا اور اس کے بعد بنو مصطلق کے سلسلہ میں اس آ یت کا نزول تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سنی سنا ئی با تو ں کو بلا تصدیق مت اڑا تے پھرا کرو جس میں ہما ری امت آ جکل بر ی طر ح مبتلا ہے اور کسی کی عزت اب محفو ظ نہیں ہے، اللہ تعا لی ہمیں ہدا یت دے (آمین )
حضور (ص) کی عمرہ کے لیئے روانگی اور صلح حد یبیہ ۔ یہ اسلام کا وہ موڑتھا جس نے کہ تا ریخ بد ل دی ۔ بظا ہر تو یہ شکست تھی۔ مگر اللہ سبحانہ تعا لی ٰ نے اس کو فتح مبین فر ما یا اور بعد کے حا لا ت نے ثا بت کر دیا کہ یہ صلح مسلما نو ں کے حق میں ایک عظیم کامیابی کا با عث ہوئی۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں ۔ کچھ مور خین نے اس سے اختلا ف کیا ہے کہ حضور (ص) کس ما ہ میں مدینے سے روا نہ ہو ئے لیکن زیا دہ تر اس پر متفق ہیں کہ حضور (ص) ذی قعدہ میں مدینہ منورہ سے عمر ہ کی نیت سے روا نہ ہو ئے اور اس کا اعلا ن عا م فرمادیا کہ جو لو گ ان (ص) کے سا تھ جا نا چا ہیں وہ آجا ئیں اور چلیں ۔لہذا سا ت سو آدمی اس کے لیئے جمع ہوئے حضو ر (ص) نے ستر اونٹ بطو ر ہدی قر با نی کے لیے سا تھ میں لیے اور سب نے احرام زیبِ تن فر ما ئے تا کہ یہ سفر صرف عبا دت کا ارا د ہ ظاہر کر ے۔ اور حضور (ص) نے مدینہ میں بقول ابن ِ ہشا م (رح)حضرت نمیلہ (رض) بن عبد اللہ لیثی کو اپنا نا ئب مقر ر فر ما یا۔ منا فق حسبِ معمول عبد اللہ بن ابی کی قیا دت میں اس مر تبہ بھی دو ر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تو صریحا ً ہلا کت ہے کہ ہم غیر مسلح ہو کر دشمنو ں کے علا قہ میں جا ئیں، اس نے خدا کی قسم کھاکر کہا کہ واللہ! ان میں سے کو ئی بھی زندہ وا پس نہیں آ ئے گا ۔ ابن ِ اسحا ق (رح)نے زہری کے حوالے سے بیان کیا جو کہ ان تک بروایت محمدا (رض) بن مسلم زہری سے متعدد حوالو ں کے سا تھ پہو نچا ہے کہ حضور (ص) مدینہ سے روانہ ہو کر جب عسفا ن پہنچے تو آپ سے بشر ا بن ِ سفیان کعی ملا اور اس نے حضور (ص) کو خبر دار کیا کہ قریش ان کی روا نگی سے با خبر ہو چکے ہیں اور انہو ں نے وادی ِ طو ی میں آکر اپنے پڑا ؤ ڈا لدئے ہیں۔نیز ان کے سا تھ ان کی خوا تین بھی ہیں اور انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ آپ کو ہر گز شہر میں نہیں دا خل ہو نے دیں گے ۔اور خا لد بن ولید رسالے کے سا لا ر ہیں اور ان کو غنیم میں قریش نے متعین کیا ہے ۔رسول (ص)اللہ نے یہ سن کر فر ما یا کہ ” قریش کو جنگ کھا گئی ہے ، ًاگر اس معا ملے کو مجھ (ص) پر اور عر بو ں پر چھو ڑ دیں تو ان کا کیا بگڑتا ہے ؟ اگر عرب مجھے (ص)ہلا ک کر دیں گے تو قریش کا مقصد پو را ہو جا ئے گااور اگر اللہ تعا لیٰ نے مجھے (ص) عربو ں پر غا لب کر دیا تو وہ جو ق در جو ق اسلام میں دا خل ہو جائیں گے۔ اور اسلا م میں دا خل نہیں ہو ئے تو جب تک ان میں دم ہو جنگ کر یں گے۔نہ جانے قریش کس خیا ل میں ہیں ؟ خدا کی قسم ! میں (ص) اس مقصد کے لیے جہا د کر تا رہو نگا۔ جس کے لیے اللہ تعا لیٰ نے مجھے (ص) مبعو ث کیا ہے،اور اس وقت تک کہ وہ ذا ت غالب کر دے یا مجھ (ص)کو مو ت آجا ئے “ پھر فر ما یا کہ ” کو ئی ایسا ہے جو مجھے اس راستے کے بجا ئے جس پر قریش ہیں کسی اور را ستے سے لے چلے “۔ حضرت عبد اللہ (رض) بن ابی بکر کے مطا بق ایک بنو اسلم کا شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا میں ! یا رسو ل (رض) اللہ !پھر وہ ہم سب کو انتہا ئی پتھر یلے را ستے سے لے گیا جو کہ ہما رے لیے بڑا دشوار گذار تھا۔جب اس کو طے کر کے ہم نر م زمین پر پہو نچے تو رسو ل (ص) اللہ نے فر ما یا ”قو لو ا نستغفر اللہ و نتو ب اللیہ“ (تم سب کہو ! ہم اللہ سے بخشش کے خوا ہستگا ر ہیں اور اس کے رو برو تو بہ کرتے ہیں) سب لو گو ں نے تو بہ و استغفا ر کی۔اس کے بعد حضو ر (ص)نے فر ما یا یہ وہی حطة ہے جو کے بنی اسرا ئیل کو کہنا تھا (فر ما نِ با ری تعا لی ٰ کے مطا بق شہر میں دا خل ہوتے وقت ،لیکن انہو ں نے اسے تبد یل کر دیا اور نہیں کہا تھا ) یعنی”حطة عنا ذنو بنا “ ترجمہ ۔ اے اللہ ہمارے گنا ہو ں کو معا ف فر ما دے ۔ اس کے بعد بقو ل ابن ِ شہا ب (رض)، رسول (ص) اللہ نے حکم دیا کہ اب داہنی طرف ظہری الحمش کے در میا ن وا لے راستے پر چلو جو ثنیة المرار پر نکلتا ہے یہ جگہ حدیبیہ کی آبا دی کے نشیب میں ہے جو مکہ کے زیریں حصے کی مقا بل ہے۔جب رسو ل (ص) اللہ اور صحا بہ کرا م ثنیة المرار پہنچے تو آپ کی او نٹنی ایک جگہ بیٹھ گئی۔ لو گو ں نے کہا کہ یہ اب اپنی جگہ نہیں چھو ڑے گی کیونکہ وہ جم گئی ہے ”حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ یہ خدا کے حکم سے بیٹھی ہے ۔یہ اس کی عا دت نہیں ہے ،لیکن اسے اس پا ک ہستی نے رو ک دیا ہے۔ جس نے مکہ میں دا خل ہو نے سے ہا تھیو ں کو رو ک دیا تھا۔آج قریش کسی بھی چیز کی طرف دعوت د یں تو میں ان کو عطا کر دو نگا، جو صلہ رحمی ( قرابت دا ری کے سلسلہ میں ) پر مبنی ہو تو میں انہیں دیئے بغیر نہیں رہو نگا “۔ پھر لو گو ں سے فر ما یا ”انز لو“ (اتر جا ؤ ) جو لو گ اس وادی سے وا قف تھے انہو ں نےعرض کیا یا رسو ل (ص) اللہ یہ جگہ تو با لکل غیر منا سب ہے ۔اس لیے کہ اس میں پا نی با لکل نہیں ہے ۔ تب رسول (ص)اللہ نے اپنے تر کش سے ایک تیر نکا لا اور کہا کہ اس خشک کوئیں میں جا کر گا ڑ دو۔ وہ صحا بی تیر لیکر کو ئیں میں اتر گئے اور تیر کنو ئیں کے درمیان میں گا ڑ دیا۔ اس کا گا ڑنا تھا کہ پا نی کاچشمہ پھو ٹ پڑا اور پھر تو وہ اس طر ح اُبلا کہ کہاں تو خشک تھا، اس کے بعد لو گ ڈو ل میں بھر بھر کر نکالنے لگے اور آخر میں وہ مر حلہ آیا کہ ان صحا بی کو کو ئیں میں سے با ہر نکلنا پڑا بلکہ وہ کنارو ں سے ا س طر ح ابلنے لگا کہ لو گو ں کو کووہ جگہ چھو ڑنی پڑی ۔اور او نٹو ں نے بھی اپنے آپ سے منہ ڈا ل کر پا نی پیا۔ یہا ں مو ر خین میں اختلا ف ہے کہ وہ صا حب کو ن تھے ؟ابن ِ اسحا ق (رح) نے کہا کہ حضرت نا جیہ (رض) ابن ِ جند ب تھے ابن ِ ہشا م (رح) کے مطا بق وہ حضرت افضی (رض) بن حارثہ تھے ان دو کے علا وہ ایک اور صحا بی بھی خود دعو یٰ فر ما تے ہیں کہ وہ میں تھا اور ان کا نا م حضرت برا ءبن عا زب ۔ لیکن قبیلہ اسلم کے لو گو ں نے اس سلسلے میں مو ر خین کو کچھ اشعا ر سنا ئے جن کا مفہو م یہ تھا کہ ناجیہ (رض) کنو ئیں میں اترے ہو ئے تھے ۔اور وہ ڈو ل بھر بھر کر پا نی دے رہے تھے۔ البتہ اس معجز ے میں کسی کو کو ئی اختلا ف نہیں ہے اور سب اس پر متفق ہیں ۔اد ھر تو صو رت ِ حال یہ تھی اُدھر قریش جو کہ دو سری طر ف پڑا ؤ ڈا لے ہو ئے تھے۔ ان کو ان کے جاسوسوں نے اس لشکر کا غبا ر اٹھتا دیکھ کر خبر دی کہ محمد (ص) اور ان کے سا تھی مکہ پہنچ گئے ہیں ۔ اس طر ح وہ منصو بہ جس کے تحت وہ راستے میں حضور (ص) کو رو کنا چا ہتے تھے نا کام ہو گیا۔در اصل وہ نہیں چا ہتے تھے کہ با قی عرب یہ تفر یق دیکھیں کہ قریش عمرہ اور حج کی را ہ میں مزا حم ہو ئے ہیں ۔ لہذا وہ چا ہتے تھے کہ را ستے ہی سے لڑ کر وا پس کر دیں۔ مگر حضور (ص) کی حکمت عملی کے سا منے انہیں ذلیل ہو نا پڑا ۔اور سا ری دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ ایک ایسا کا م کر رہے ہیں جو آج تک پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا۔ اس سے با قی عربو ں کی ہمدر دیا ں بھی مسلما نو ں کے سا تھ ہو گئیں ۔ ان کے لیئے اب یہ مشکل ہو گیا کہ وہ ان کو بغیر کسی معا ہدے کے بزور واپس کر سکیں، اس پردنیا کیا کہے گی ۔اور اگر آنے دیں تو ان کی با ت نیچی ہو تی تھی۔ حضرت زہری (رض) نے اپنی روایت میں آگے چل کر بیا ن کیا ہے کہ جب قبیلہ بدیل اورخزا عہ کو حضو ر (ص)کی آمد کی خبر ملی تو وہ اپنی تشو یش رفع کر نے حضو ر (ص) کی خد مت میں یکے بعد دیگرے حا ضر ہو ئے ۔اور پو چھا کہ آپ کس مقصد کے لیے آئے ہیں ۔تو رسول (ص) اللہ نے فر ما یا کہ ”ہم جنگ کے ارا دے سے نہیں آئے ہیں بلکہ صرف زیارت اور اکرام ِ بیت اللہ مقصود ہے “۔ اس کے بعد یہ ہی با ت خز اعیو ں کو بتلا ئی تو وہ مطمعن ہو کر قریش کے پا س گئے اور قریش کو کہا کہ تم محمد (ص)کے معا ملہ میں غلطی پر ہو ،اور جلد با زی سے کا م لے رہے ہو وہ (ص) صرف عمرہ کرنے کے لیئے آئے ہیں ۔اس پر قریش نے ان کو برا بھلا کہا اور بو لے وہ (ص)چا ہیں کسی بھی ارا دے سے آئے ہو ں ، ہم ان کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اور عربو ں کو چا ہیئے کہ وہ آئند ہ اس سلسلہ میں ہم سے کو ئی با ت نہ کر یں۔ زہری (رض) نے کہا ہے کہ خزا عہ میں دو نو ں قسم کے لو گ تھے یعنی کچھ مشرک تھے اور کچھ مسلما ن اور وہ بڑی رازداری سے مکہ کے تما م راز اور قریش کی سر گر میا ں بھی حضور (ص) کو پہنچا تے رہتے تھے ۔ اس واقعہ پر قریش کی قر آن نے ایک مر تبہ ہی نہیں بلکہ متعدد با ر یہ کہہ کر مذمت کی کہ وہ عبا دت کے راستے کو مسدود کر تے ہیں۔ (باقی آئندہ)