افغانستان کے صدر اشرف غنی نے منگل کو کہا کہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے باعث شدت پسند تنظیم ’داعش‘ ملک میں پسپا ہو رہی ہے۔
اُنھوں نے پاکستانی سرحد کے قریب مشرقی افغان صوبے ننگرہار کے اضلاع میں ’داعش‘ کے حامیوں کے خلاف کامیابی کو زمینی و فضائی افواج اور ریٹائرڈ کمانڈروں کے نام کیا، جنہوں نے فوج کے ایلیٹ کمانڈو ڈویژن کے ساتھ مل کر یہ کارروائیاں کیں۔
صدر اشرف غنی نے یہ بیان افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں دیا۔
حالیہ مہینوں میں ’داعش‘ کے جنگجوؤں نے افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوششیں تیز کیں، خاص طور پر صوبہ ننگر ہار میں جہاں اُنھوں نے کئی علاقوں پر کنٹرول بھی کیے رکھا۔
افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں داعش کے خلاف افغان فورسز کو کارروائیوں کے دوران امریکی افواج کی طرف سے فضائی مدد بھی فراہم کی جاتی رہی۔
افغان عہدیداروں کے مطابق ’داعش‘ سے وفاداری کا اعلان کرنے والے جنگجوؤں میں سے بیشتر کا تعلق طالبان عسکریت پسندوں سے رہا ہے۔