یہ مارچ کا مہینہ، ایام فاطمیہ(س) کی راتیں، یتیم خانہ چوک لاہور، تفتان کا سنسان سفر اور اس سفر میں عجیب راستہ ہے، جہاں نہ آب ہے اور نہ پڑاو، پیاس اتنی ہے کہ دریا کے لب بھی خشک ہیں، خوف اتنا ہے کہ گھوڑوں کی زبانیں تالوں سے چپکی ہیں، دور تک نہ کوئی درخت ہے اور نہ سایہ، خشک زمین خون کی چند بوندوں کو ترس رہی ہے۔ لوگ پابرہنہ، سر ہتھیلیوں پہ لئے گزر رہے ہیں، کتنے ہی تو بدن ایسے ہیں کہ جن پر سر ہی نہیں اور لکیر کے اُس طرف میں کھڑا ہوں۔۔۔ لکیر کے اس طرف اِک شہر ہے، جہاں ہر قیمتی شے بکتی ہے، جہاں شیر نہیں بکتے بلکہ شیر اس شہر میں اپنا پیٹ پالنے کے لئے اپنے دانت بیچتے ہیں، جہاں سانپ اپنے زہر کو باقی رکھنے کی خاطر اپنے ہی بچوں کو فروخت کر آتے ہیں، جہاں بدن تراشنے کے لئے سر کاٹ دیئے جاتے ہیں، جہاں انسان نہیں خریدے جاتے بلکہ انسانی جسم کے اعضا بکتے ہیں، خصوصاً ہاتھ ، زبان اور آنکھیں۔۔۔
وہ ہاتھ کہ جس میں قلم اٹھانے کی طاقت ہو
وہ زبان کہ جس میں چکھنے کی صلاحیت ہو
وہ آنکھیں جو کچھ نہ کچھ دیکھ سکتی ہوں۔۔۔ان کی قیمت کچھ زیادہ ہی لگتی ہے۔
لوگ دوڑ رہے ہیں اس بازار کی طرف اور گردش دائرے میں ہے۔ یہ دائرہ مصلحت کا ہے۔ اس دائرے کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ انتہا۔
دائرے کا کوئی افق بھی نہیں، پھر بھی مرغ ِ سحر مجھ سے پہلے بانگِ سحر دیتا ہے اور میں گلدستہ اذاں پہ کھڑے ہوکر صبح کی تھرتھراتی ہوئی لو کے پرچم پر تھوک دیتا ہوں۔ تھوکتا بھی ہوں تو خون آلود۔
اذان دینے کے لئے ایک جرات چاہیے اور میں! میں اس قبیلے کا فرد ہوں! ہاں میں وہ نامرد ہوں کہ جو اپنے شہیدوں کی گمنام قبروں پر چھپ کر فاتحہ پڑھنے کا عادی ہوچکا ہے۔ میں اپنے تاریک کمرے کے گرد ایک دائرہ کھینچ کر، چند اگربتیاں جلاتا ہوں اور چند ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوں اور پھر سہم جاتا ہوں کہ اگربتیوں کا دھواں کہیں دروازے سے باہر نہ چلا جائے۔
میرے کارواں میں سب حُر ہیں، سب جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، لیکن سب میرے سمیت لکیر کی دوسری جانب کھڑے ہیں یعنی ابھی لشکرِ یزید سے باہر نہیں نکلے۔۔۔
آج کی شب اس شہر میں خوف اتنا ہے کہ درودیوار پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں اور کوئی ایک حُر بھی ڈر کے مارے اونچی سانس نہیں لیتا۔۔۔ گھوڑوں کے نتھنے سی دیئے گئے ہیں اور ٹانگیں باندھ دی گئی ہیں ۔۔۔ لوگوں میں اتحاد ہوگیا ہے خاموش رہنے پر، بھیک مانگ کر کھانے پر، گدائی کرکے مسجدیں بنانے پر، ظالموں کے سامنے گڑگڑانے پر۔۔۔
اب یہاں کوئی فساد نہیں، یہاں کوئی جھگڑا نہیں، اس شہر والوں نے ایکا کر لیا ہے دائرے میں دوڑنے پر۔۔۔
یہ لوگ دائرے سے باہر ایک قدم بھی نہیں رکھتے ۔۔۔ دو قدم تو بڑی بات ہے۔۔۔
اس حالت میں جو چند روز گزرے اور لوگ اس حالت کے عادی ہوگئے تو پھر لوگوں کے ہجوم میں امیرِ شہر نے امن عامہ کے بارے میں ایک لمبی تقریر کرنے کے بعد شہر کے سب سے بڑے دروازے پر یہ کتبہ نصب کروا دیا “امن کے شہر میں خوش آمدید"
اب اس شہر میں تاابد جو بچہ بھی جنم لے گا وہ پُر امن ہوگا۔۔۔