روس نے متنبہ کیا ہے کہ وہ شام میں "جنگی سرگرمیاں" بند کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف منگل سے یکطرفہ طور پر کارروائی کر سکتا ہے۔
یہ بیان ان شکایات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی روس کے ساتھ مشترکہ نگرانی کے عمل پر سست روی سے کام کر رہا ہے۔
اس معاہدے کو متعارف کروانے میں روس اور امریکہ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے تحت شام میں سوائے دہشت گرد گروپوں پر حملوں کے، ہر طرح کی جنگی کارروائیوں کی ممانعت ہے۔
ادھر شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی استیفاں دی مستورا کا کہنا ہے کہ انھیں روس امریکہ تعاون میں کسی بھی طرح کے انتشار پر تشویش ہے۔
وہ جنیوا میں شام کے متحارف فریقین کے مابین بات چیت کی قیادت کر رہے ہیں۔