بیلجیئم میں پولیس نے گزشتہ سال نومبر میں پیرس اور گزشتہ ماہ برسلز میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے دو مبینہ ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکام کے مطابق محمد عبرینی نامی ایک ملزم کی عمر 31 سال ہے جسے جمعے کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مراکشی نژاد بیلجئن شہری پر شبہ ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس کی ویڈیو گزشتہ ماہ برسلز کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکوں کے بعدوہاں سے فرار ہوتے ہوئے ایک کیمرے نے ریکارڈ کی تھی۔
ہوائی اڈے کے کیمرے سے ریکارڈ ہونے والی ویڈیو میں ملزم کا چہرہ ایک ہیٹ سے چھپا ہوا تھا جس کے باعث بیلجئن ذرائع ابلاغ نے اسے "ہیٹ پہنے ہوئے پراسرار شخص" کا نام دیا تھا۔
اگر اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ محمد عبرینی وہی شخص ہے جو ویڈیو میں نظر آیا تھا تو اس کا مطلب ہوگا کہ ملزم نے پیرس اور برسلز میں ہونے والے حملوں میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔
عبرینی کی ایک ویڈیو 13 نومبر کو پیرس میں ہونے والے حملوں سے عین قبل فرانس کے دارالحکومت کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ایک سروس اسٹیشن پر نصب کیمرے نے بھی ریکارڈ کی تھی۔
اس ویڈیو میں عبرینی کے ہمراہ پیرس حملوں کا ایک اور مرکزی ملزم صلاح عبدالسلام بھی تھا جو اس وقت برسلز پولیس کی تحویل میں ہے۔
عبرینی پیرس حملوں میں ملوث ملزمان کے گروہ کا آخری فرد تھا جو پولیس کی جانب سے شناخت کیے جانے کے باوجود بدستور مفرور تھا۔
بیلجئن پولیس نے جمعے کو ایک اور مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جس پر 22 مارچ کو برسلز کے مائل بِیک سب وے اسٹیشن پر ہونے والےدھماکے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی صدر براک اوباما نے قوم سے اپیل کی ہے کہ برسلزحملوں کے بعد مسلمانوں کو بھرا بھلا نہ کہیں، مسلمانوں کے خلاف بات کرنے سے شدت پسندوں کو فائدہ ہوگا۔
ترجمان امریکی حکومت کے مطابق قوم سے ریڈیو خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی ترقی و خوشحالی میں دہشتگرد گروپوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،امریکی قوم برسلز حملوں کے بعد مسلمانوں کی توہین نہ کرے۔
براک اوباما کا مزید کہناتھا کہ مسلمانوں کے خلاف بات کرنے سے شدت پسندی بڑھے گی۔ جس کا فائدہ صرف شدت پسند اور دہشتگرد گروپوں کو ہوگا۔ امریکی صدر نے خطاب دوران واضح کیا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کا کردار اہم ہے۔
...............................
بیلجیئم کے وزیر داخلہ نے خودکش حملہ آور کے متعلق ترک وارننگ کو نظرانداز کرنے کی غلطی تسلیم کر لی، ان کا کہنا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کیلئے تیار ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیلجیئم کے وزیر داخلہ جان جمبون نے دارالحکومت برسلز میں میڈیا کو بتایاکہ انہوں نے براہم خالد کے متعلق ترک وارننگ کو نظر انداز کرکے بڑی غلطی کی جس کی وجہ سے انہوں نے مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی لیکن وزیراعظم چارلس مائیکل نے مستعفی ہونے سے منع کر دیا۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے بدھ کے روز کہا تھا کہ برسلز حمہ آور خالد کو استنبول میں گرفتار کر کے ہالینڈ کے حوالے کیا گیا تھا۔ اور یورپی ممالک کو خودکش حملوں کی وارننگ دی گئی تھی۔لیکن بیلجیم نے اس وارننگ کو نظرانداز کر دیا تھا۔ اس سے پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ صالح عبد السلام کو عدالت لایا گیا۔ اور وکیل استغاثہ نے صالح کو مزید ایک ماہ تک برسلز کی جیل میں رکھنے کی درخواست کی۔
عدالت صالح کو جیل میں رکھنے کے متعلق فیصلہ جلد سنائے گی۔وہاں پیرس نے بھی بیلجیئم سے درخواست کی ہے کہ صالح عبد السلام کو فرانس کے حوالے کیا جائے۔برسلز بم حملوں کے بعد ائیرپورٹ کو پیر سے کھولا جائے گا۔جبکہ میٹرو ٹرین اور بسیں بھی چلنا شروع ہوجائیں گی۔
........................
برسلز......بیلجیم پولیس نے برسلز حملوں کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد پیرس طرز کے حملے اور نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
فرانس میں بھی ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔برسلزمیں 3مقامات پرچھاپوں کےدوران 6افرادکو گرفتارکیاگیاہے،جن پرالزامات عائدکرنےکافیصلہ آج ہوگا۔
برسلزکےائرپورٹ اورمیٹرواسٹیشن کونشانہ بنانے والے دہشت گردوں کےبارےمیں اب بیلجیم حکام نے دعویٰ کیاہے کہ وہ پیرس طرز کے حملے کرنا چاہتے تھےاورملک کے نیوکلیئر پلانٹس بھی ان کاہدف تھا لیکن صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد انہوں نےارادہ بدل کرفوری کارروائی کردی۔
امریکی حکام نےبھی تصدیق کی ہے کہ برسلز حملوں کے دونوں خودکش بمبار بھائی ابراہیم ا اور خالد البکروای کا نام امریکا کے انسدادِ دہشت گردی کی فہرست میں شامل تھا۔
چارماہ پہلےدہشت گردی کانشانہ بنائےگئے پیرس میں بھی ایک مشتبہ شخص کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کاکہناہےکہ فلیٹ سے گرفتار شخص کا تعلق دہشت گردوں سے ہے جو پیرس میں نئے حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ یورپ کےعوام حیرت زدہ ہیں کہ آخر ایک کے بعد دوسرا شہر کیوں دہشت گردوں کا نشانہ بن رہا ہے۔
..........
ترکی کے صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز بیلجیئم کے شہر برسلز پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کو ترکی کے حکام نے 2015 میں گرفتار کرکے ملک بدر کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میڈیا رپورٹس میں اس شخص کا نام ابراہیم البکروتی بتایا گیا ہے۔
انقرہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے طیب ادرگان کا کہنا تھا کہ "برسلز میں حملہ کرنے والے ایک حملہ آور کو جنوبی ترکی میں شامی سرحد کے قریب گرفتار کیا گیا تھا جسے بعد میں ملک بدر کردیا گیا"۔
ترک صدر نے اس شخص کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تاہم این ٹی وی نے اسے ابراہیم البکروتی کا نام دیا، یہ شخص برسلز ایئر پورٹ پر خود کش دھماکا کرنے والوں میں سے ایک تھا۔
طیب اردگان نے بتایا کہ بیلجیئم حکام خطرے کی نشاندہی کے باوجود مشتبہ شخص کے دہشت گردوں سے تعلقات کی تصدیق کرنے میں ناکام رہیں۔
بیلجیئم دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ،بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے ایئرپورٹ میں حملوں کے بعد ویڈیو میں مبینہ خودکش بمباروں کے ساتھ دیکھے جانے والے تیسرے شخص کی تلاش تاحال جاری ہے، جبکہ ملک میں 3 روزہ سوگ منایا جارہا ہے
انھوں نے کہا کہ بیلجیئم حکام کو 14 جولائی 2015 کو ایک نوٹس کے ذریعے مذکورہ شخص کے ملک بدر کیے جانے کے حوالے سے اطلاع فراہم کردی گی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ "بعد ازاں اسے بیلجیئم حکام نے رہا کردیا تھا"۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بیلجیئم کے شہر برسلز کے ایئرپورٹ اور میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے 3 دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے۔
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے ایئرپورٹ میں حملوں کے بعد ویڈیو میں مبینہ خودکش بمباروں کے ساتھ دیکھے جانے والے تیسرے شخص کی تلاش تاحال جاری ہے، جبکہ ملک میں 3 روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز برسلز کے زاوینتم ایئرپورٹ کے ڈیپارچر ہال میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے 2 خودکش دھماکے ہوئے تھے۔
ایئرپورٹ حملوں کے تقریباً ایک گھنٹے بعد مال بیک کے علاقے میں یورپی یونین کے دفتر کے قریب میٹرو اسٹیشن میں تیسرا دھماکا بھی ہوا، ان دھماکوں کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ تمام دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔
برسلز پولیس نے بم حملوں میں مبینہ طور پر ملوث تین مشتبہ افراد کی تصویر جاری کرتے ہوئے عوام سے شناخت میں مدد کی اپیل کردی، جبکہ بیلجیئن پراسیکیوٹر کا کہنا ہے برسلز اور پیرس حملوں کو منسلک کرنا قبل از وقت ہوگا۔
بیلجیئم کے پراسیکیوٹر نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جاری کردہ تصویر میں موجود تین میں سے دو افراد نے ممکنہ طور پر خودکش حملے کیے، ان کا کہنا تھا برسلز حملوں اور پیرس حملوں کو منسلک کرنا قبل از وقت ہوگا، جبکہ ذمہ داری قبول کرنے کے داعش کے دعوے کی تصدیق کرنا ابھی باقی ہے۔
انکا کہنا تھا پولیس کو سفید لباس میں ملبوس ممکنہ حملہ آور کی تلاش ہے۔ جس کے لئے حملوں کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں، جبکہ سرچ آپریشن کے دوران ایک جگہ سے داعش کا جھنڈا، دھماکہ خیز مواد برآمد اور اسلحہ ملاہے
-----------------------------۔
بیلجئم کے دارالحکومت برسلز کے ہوائی اڈے اور میٹرو اسٹیشن پر منگل کی صبح ہونے والے یکے بعد دیگرے تین دھماکوں میں کم ازکم 31 افراد ہلاک اور لگ بھگ 200 زخمی ہوگئے ہیں۔
ایک ویب سائٹ پر جاری کیے جانے والے بیان میں داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے خود کش جنگجووں نے برسلز کے ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر خود کو دھماکے سے اڑایا ہے جس کے بعد ہوائی اڈے پر موجود دیگر جنگجووں نے وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ بھی کی ہے۔
بیلجئن حکام کے مطابق دو دھماکے صبح آٹھ بجے کے قریب برسلز کے مرکزی ہوائی اڈے کے روانگی والے حصے میں ہوئے جن میں 11 افراد ہلاک ہوئے اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکوں سے قبل گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی گئیں جن سے ہوائی اڈے پر بھگدڑ مچ گئی۔
دھماکے کے بعد وہاں موجود عینی شاہدین کی بنائی گئی موبائل ویڈیوز میں ہوائی اڈے کے لاؤنج کی چھت کے ٹکڑے گرے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جب کہ خوف زدہ مسافر اور شہری ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر بھاگ رہے ہیں۔
ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکوں کے کچھ دیر بعد برسلز کے ایک میٹرو اسٹیشن پر بھی دھماکہ ہوا جس میں شہر کے میئر کے مطابق کم از کم 20 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکہ مائیل بیک نامی سب اسٹیشن پر ہوا جو یورپی یونین کے صدر دفتر کے نزدیک واقع ہے۔ دھماکوں کے بعد برسلز پولیس نے شہریوں سے دفاتر اور گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی۔
ہوائی اڈے پر دھماکوں کے بعد اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر برسلز میں تمام سب ویز، ٹرام اور ٹرینوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے بدھ کو بھی ایئر پورٹ تمام پروازوں کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے ہوائی اڈے کے نزدیک سے ایک بم پھٹنے سے قبل ہی اپنی تحویل میں لے کر اسے ناکارہ بنادیا ہے۔