اللہ رب العزت نے انسان کی ہدایت کے لیے ہر زمانہ اورہر علاقہ میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کو مبعوث فرمایا، حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا اصل مقصد، انسان کو اس کے بھولے ہوئے سبق یعنی توحید کی یاد دہانی تھی، کیوںکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنی ہی پھونک سے اس میں روح بخشی، اور اسے علم سے مالامال کیا، اسے مسجود ملائکہ بناکر اشرف المخلوقات کے مرتبہ اور خلیفۃاللہ کے منصب پر فائز کیا، اور تخلیق کے بعد جنت میں اپنے جوار میں ٹھہرایا۔
البتہ شیطان جو انسان کے اشرف الخلائق کا انکار کر بیٹھا تھا، اسے راندۂ دربار کیا گیا، تو اس نے انتقام کی غرض سے بہلا پھسلا کر، آدم کو جنت سے نکلوا دیا، البتہ آدم علیہ السلام کے اعتراف ذنب اور طلب مغفرت اور تواضع کی وجہ سے، ہمیشہ کی لعنت سے وہ بچ گئے، ان کے لیے اور ان کی ذریت کے لیے جنت کے دروازوں کو کھلا رکھا گیا، البتہ اس دنیا میں اسے ابتلاء و آزمائش میں ڈال کر کامیابی کی صورت میں ہی دخول جنت کا وعدہ کیا گیا،اور ناکامی کی صورت میں دوزخ کی وعید سنائی گئی۔
جب سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے تکبر اور عناد کی بنیاد پر شیطان نے روگردانی کی تب ہی سے حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی کا آغاز ہوگیا، اس معرکہ کا آغاز ’’فکر انسانی‘‘ میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش ہی سے ہوا، کیوںکہ شیطان کوئی تلوار ، تیر، کمان لے کر آمادۂ معرکہ نہیں ہوا تھا، بل کہ ’’فکرانسانی‘‘ کو دھوکہ دے کر برباد کرنے کی کوشش کی، اسی کو ’’الغزو الفکری‘‘ کہا جاتا ہے، معاصر عرب علما کی تحقیق کے مطابق ’’الغزو الفکری‘‘ کی اصطلاح، تو جدید ہے، 13!ویں صدی ہجری اور بیسوی صدی عیسوی میں وضع کی گئی، مگر اس کی تاریخ بہت قدیم ہے، جیساکہ مذکورہ تحریر سے معلوم ہوتا ہے .
البتہ ’’سقوط خلافت اسلامیہ‘‘ کے بعد جب اعداء اسلام کو تخریب کاری کے لیے کھلا میدان ہاتھ لگ گیا، تو انہوں نے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں، بل کہ ان شیطانی چیلوں‘ چپاٹوں نے پوری دنیا کے انسانوں کو، ’’الحاد، بے دینی‘‘ کے دلدل میں پھنسانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا، اور وہ دنیا کو جہنم کدہ بنا چکے ہیں، مگر ان کا خاص ہدف ’’مسلمان‘‘ ہی ہیں، کیوںکہ وہی ان کا مضبوط اور طاقتور مدِمقابل ہے۔ تو آیئے ہم ’’الغزوالفکری‘‘ کی تعریف، تاریخ، اسباب، اہداف، اسالیب اوروسائل یلغار، اثرات، اور اس سے بچنے کے لیے نجات کے طریقوں کو معلوم کریں، تاکہ اپنے ایمان کو بچا کر شیطان اور اس کے ہم نواؤں کو ناکام بناکر اللہ کے سامنے جواب دہی کی تیاری کریں، اور اس کی رضا و خواہشمندی حاصل کرکے، دنیا و آخرت کی کامیابیوں سے بہرہ ور ہوجائیں۔
الغزوالفکری کی تعریف:
’’الغزوالفکری‘‘ اس غیرعسکری طریقۂ کار کو کہا جاتا ہے، جس کے ذریعہ دشمن اپنے دشمن پر حملہ آور ہو، اور مختلف خداعی طریقوں سے اس کے افکار اور معتقدات کو یا تو مشکوک کردے، یا اسے کلی یا جزوی طور پر اپنے عقائد سے منحرف کردے، اور اپنے مذہب اور دین کے بارے متنفر کردے، غیرضروری، یا کم ضروری امورمیں مشغول کرکے، دین سے بیزار کردے، جس کے نتیجہ میں نہ تو وہ اپنی دین کی بنیادی معلومات حاصل کرسکے، اور نہ دین کے تقاضوں پر عمل درآمد کرسکے، اور اگر معلومات حاصل بھی کرے تو ایسے مصنفین کی کتابوں سے جو تعصب اور عناد کی بنیاد پر اس کی بالکل تحریف شدہ تفسیر و توضیح کرتے ہوں۔
یہ تو ’’الغزوالفکری‘‘ کی تعریف عام تھی، اب ’’الغزوالفکری‘‘کی تعریف خاص کرتے ہیں، یعنی اسلام کے خلاف ’’الغزوالفکری‘‘کس کو کہتے ہیں، کیوںکہ ’’الغزوالفکری‘‘ کو سب سے زیادہ اسلام ہی کے خلاف استعمال کیا گیا، لہٰذا اس نقطۂ نظر سے بھی اس کی وضاحت ضروری ہے۔
اسلام کے خلاف ’’الغزوالفکری‘‘ کی تعریف:
وہ غیرعسکری طریقۂ کار جس کو اعداء اسلام خاص طور پر یہود و نصاریٰ اسلام کے خلاف استعمال کرتے چلے آئے ہیں، جس میں تعلیم ، تحقیق آزادی کے نام پر اسلامی مصادر و مراجع، کلیات و جزئیات علوم و معارف، عقائد و افکارکو یا تو تعصب اور عناد کی بنیاد پر زبردستی شک کے دائرے میں ڈال دیا جائے، اور مسلمانوں کو ان کے اپنے عقائد اور اسلامی تعلیمات سے یا تو دور رکھا جائے یا یا اسلام کی شکل بگاڑ کر متنفر کردیا جائے، اور روحانیت کا جنازہ نکال کر، مادیت کو ان پر مسلط کردیا جائے۔
اس تعریف سے آپ بھانپ گئے ہوںگے کہ ’’الغزوالفکری‘‘ اسلام کے خلاف کتنا منظم، مربوط اور زبردست محاذ ہے، اس نے اسلام کے کسی ایک گوشہ کو ہی ہدف نہیں بنایا، بل کہ تمام شعبہائے اسلام کو اپنے سازشوں کے شکنجہ میں لے لیا ہے، چاہے وہ گوشۂ عقائد ہو، معیشت ہو، سیاست ہو، تعلیم ہو، تاریخ ہو، عقلیات و فلسفہ ہو، معاشرت ہو، نفسات ہو، ذرائع ابلاغ ہو، خواہ نظام تربیت ہو۔
امید ہے کہ دیگر جامعات و مدارس اسلامیہ بھی اس جانب توجہ دیں گے۔
الغزوالفکری کے محرکات:
ویسے تو الغزوالفکری کو ہوا دینے والے بے شمار محرکات ہیں جو ہر زمانہ میں اسلام کی بیخ کنی کی کوششیں کرتے رہتے ہیں، مگر تین محرکات اہم ہیں، بقیہ اس کے تابع ہیں، وہ :
(1)یہودیت (2)نصرانیت (3)لادینیت
بظاہر تو یہ الگ الگ ہیں،مگر اسلام کے خلاف ہمیشہ متحد ہو جاتے ہیں، کیوںکہ الحمد للہ! اسلام ہی حق ہے بقیہ سب باطل ہیں، لہٰذا ان کو سب سے زیادہ خطرہ اسلام ہی سے ہے کہ کہیں اسلام اور اہل اسلام روحانی اور جسمانی، ظاہری و باطنی اعتبار سے مضبوط ہوکر ہمارے لیے درد سر نہ بن جائے، لہٰذا حفظ ماتقدم کے طور پر پہلے ہی سے انہیں قابو میں رکھا جائے ۔ قرآن نے اسی باطل اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ’’والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض‘‘کفار آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ (سورۃ الانفال:73)
یہودیت:
یہود، یہ ایک قدیم سامی مذہب ہے، ان کو یہود کہنے کی مختلف وجوہات ہیں، یا تو یہودہ بن یعقوب کی طرف نسبت کرتے ہوئے، یا ہدنا الیک یعنی ان کی توبہ کرنے کی وجہ سے، یا ہادٍ کے معنی حرکت کرنا۔ اور یہ لوگ تورات کی تلاوت کے وقت بہت زیادہ حرکت کرتے ہیں؛ اسی لیے یہود کہا جاتا ہے۔ (الموسوعۃ المیسرۃ:ص565)
یہود کی مذہبی زبان عبرانی ہے، یہ دراصل حضرت یعقوب کی ذریت میں سے ہے، جو بنواسرائیل سے مشہور ہوئی، گویا اسی کی شاخ ہے، مگر ان کی تعلیمات محرف ہو چکی ہے، ان کا اصل مسکن کنعان، پھر وہاں سے مصر اور پھر فلسطین، پھر مدینہ، اور اس کے اطراف میں آباد ہوئے، مگر ان کی اپنی شرارتوں کی وجہ سے وہاں قرن اول ہجری کے آغاز ہی میں جلاوطن کردیے گئے، پھر یہ لوگ یورپ کے مختلف خطوں میں آباد ہوئے اور وہاں سے ایک مکمل سازش کے تحت بیسویں صدی میں دوبارہ غاصبانہ طور پر فلسطین میں ایک عبرانی سامی یہودی صہیونی مملکت بنانے میں کامیاب ہوگئے، اور اس قیام مملکت اسرائیل کے لیے انہوں نے ملعون کمال اتاترک جیسے کے سہارے خلافت اسلامیہ کو سقوط سے دوچار کیا، جس کا خمیازہ آج تک امت محمدیہ بھگت رہی ہے۔
بعثت کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب یہود و نصاریٰ کو ایمان کی دعوت دی، ان کے تمام اعتراضات وسوالات کے صحیح اور مدلل جوابات دیے ، مگر ان کی اکثریت اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئی، بل کہ اسلام کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہر میدان میں انتھک کوشش پر کمربستہ ہوگئی، یہاں تک کہ بت پرست اہل مکہ کے ساتھ اتحاد و تعاون کے لیے یہ کہنے سے بھی گریزاں نہیں ہوئی کہ ’’ہؤلاء اَہدی من الذین اٰمنوا سبیلا‘‘کہ اہل مکہ بت پرست، ایمان والے کے مقابلہ میں، زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔ ’’مکائد یہودیۃ عبر التاریخ‘‘ میں عبدالرحمن حبنکہ میدانی نے اور ’’الیہود و الیہودیۃ فی عصر الرسول‘‘ کے مصنف نے اپنی کتاب میں اس کی مکمل تفصیلات بیان کی ہے۔
صرف عصررسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ہی وہ مقابلہ آرائی پر اکتفا نہیں کرتے، بل کہ ہر زمانہ میں اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے رہے، قرآن کریم نے ’’لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا‘‘ (یعنی تم یہود کو مومن کے لیے سب سے زیادہ عداوت والا پاؤگے)والی آیت کریمہ میں مسلمانوں کو پہلے ہی متنبہ کردیاتھا، قرآن کا یہ انتباہ بالکل حرف بہ حرف صادق، ثابت ہوا، کیوںکہ ہر زمانہ میں وہ اسلام کے خلاف فکری و عسکری محاذ پر خفیہ طریقے سے کار فرما رہے ہیں، اس کی پوری تفصیلات عبدالوہاب المیسری مرحوم کی کتاب ’’موسوعۃ الیہود و الیہودیۃ‘‘ اور ’’الاعلام الیہودی المعاصر و اثرہ فی الامۃ الاسلامیۃ‘‘ (یوسف محی الدین ابوہلالہ) میں آپ تفصیل کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔
نصرانیت:
یہ بھی ایک سامی مذہب ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سماء کے بعد یہودی کی کوششوں سے انحراف کا شکارہوا، جس کی تفصیلات آپ شیخ الاسلام حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی مایۂ ناز تصنیف ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ان کو نصرانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی مدد کی تھی، اور دوسرا قول یہ ہے کہ ناصریہ بستی کی طرف نسبت کرتے ہوئے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وطن تھا، ان کو نصاری کہا جاتا ہے۔
نصاریٰ بھی دراصل بنواسرائیل ہی کی ایک شاخ ہے، کیوںکہ حضرت عیسیٰ ان میں مبعوث ہوئے تو بنواسرائیل میںسے جو ان پر ایمان لائے ان کو نصاریٰ کہا گیا، ان کا اصل وطن بھی کنعان ہے ، پھر فلسطین اور پھر نجران اور اسلام کے ابتدائی دور میں جب ان کے بادشاہ ہرقل نے اسلام قبول نہ کیا، یہاں تک کہ جنگ کی نوبت آئی تو یہ بھی شکست کھا کر یورپ کی طرف آنکلے، ایک عرصہ تک مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار رہے، مگر شکست پر شکست سے دوچار ہوتے رہے .
یہاں تک کہ غرناطہ اور اندلس میں مسلمان حکمرانوں کی بزدلی اور نفس پرستی کی وجہ سے کامیاب ہوگئے، اس کے بعد یورپ میں ان کے قدم مستحکم ہوگئے، یہ بھی اول یوم ہی سے اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مبتلا چلے آرہے ہیں، انہوں نے بھی ہر میدان میں مسلمانوں کوناکام بنانے کی کوشش کی، مگرجب نا کام ہوئے مکار اور فریبی یہودیوں کے ساتھ اتحاد کرکے اسلام کے خلاف کمربستہ ہوگئے ، اور اولاً علم تحقیق کے نام پر دونوں نے مل کر استشراق پھر عولمہ یعنی گلوبلائزیشن اوراخیر میںاستعمار یعنی بلاشرکت غیر حاکمیت کا پلان بنایا، اور اب تو سویت یونین کی شکست کے بعدموساد ملٹی نیشنل ورلڈ بینک (F.I.C. W.H.O.) جیسی تنظیموں کے سہارے ہندتو ،بودھ ازم، بل کہ غیراسلامی اور منافقین کے سہارے پوری دنیا پر نیوورڈ آڈر کے نفاذ کا اعلان ہو چکا ہے، اور امریکن و یورپین صہیونیت زدہ نصرانیت کو آلۂ کار بنا کر یہود و نصاریٰ اور تمام باطل طاقتیںاسلام کی بیخ کنی کے لیے برسرپیکارہے۔ جذور البلاء، واقعنا المعاصر، مخططات التبشیر الاستشراق میں آپ اس کی تفصیلات کو جان سکتے ہیں۔
لادینیت
لادینیت دو طرح کی ہے، ایک وہ لادینی گروہ جو اللہ کے ساتھ شرک میں مبتلا ہے ۔اور دوسرا کلی طور پر اللہ کا انکار کرنے والا۔ دونوں ہی ملحد کہے جاتے ہیں، کیوںکہ شرکیہ مذاہب دراصل نام ہے، ورنہ تو حقیقت میں حق کا انکار ہے، گویا یہودیت اور نصرانیت کے علاوہ جتنی باطل اسلام مخالف طاقتیں ہیں وہ سب اس میں شامل ہیں۔ ہمیشہ یہ باطل طاقتیں یا تو یہودیت و نصرانیت کی معاون رہی یا نہیں تو اسلام مخالف تو ہے ہی ۔
کیوں کہ ان کو اسلام ہی سے خطرہ محسوس ہوتا ہے، اسی لیے آپ دیکھیںگے کہ دنیا کی تمام غیراسلامی ریاستیں ان کے زیراثر ہیں، چاہے ہندوستان ہو ، چاہے چین ہو، چاہے روس ہو، چاہے کوریا ہو، بل کہ اسلامی ممالک پر خلافت کے سقوط کے بعد اپنے آلۂ کار منافق‘ فاسق‘ فاجر‘ مغربیت زدہ حاکموں کو مسلط کردیا ہے، جو ان کے اشارے پر ہی سب کچھ کرتے ہیں، ان کے مفاد کے لیے نہ مسلمانی نہ اسلام، ان کے لیے رکاوٹ ہوتا ہے۔ اس لیے باوجودیکہ تقریباً 60!اسلامی ریاستیں ہیں، لیکن کہیں بھی قانون الٰہی اور قوانین اسلامی کا نفاذ نہیں۔ اگر کہیں ہے تو وہ بھی برائے نام اور سیاست کے پیشِ نظر۔
اللہ ان کی ایمان سوز سازشوں سے ہماری حفاظت فرمائے، اور ایمان کے ڈاکوؤں اور ان کے معاونین کو یا ہدایت دے یا غارت کردے، اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔
الغزو الفکری کے اہداف:
سنۃ اللہ یہ رہی ہے کہ حق اور باطل کی کش مکش، تخلیق آدم کے کچھ ہی بعد سے شروع ہوگئی،’’ اہبطا منہا جمیعا بعضکم لبعض عدو‘‘تم دونوں یعنی آدم اور شیطان اتر جاؤ، آپس میں ایک دوسرے کی عداوت کو لے کر بس زمین پر اترنے کے بعد ایسا ہی ہوا، ایک طرف ’’و لاغوین‘‘ کا چیلنج کرنے والا شیطان اس انسانی و جناتی ہم نوا اور دوسری طرف ’ ’و ان لم تغفرلی و ترحمنی اکن من الخاسرین‘‘ کہہ کر اپنی تقصیر کا اعتراف کرنے والے آدم اور اس کی صحیح وارث ذریت شیطان اور اس کے ہم نوا آدم کی حقیقی ذریت صالح سے ایمان و یقین باللہ کو سلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہدف اصلی ہے ’’الغزوالفکری‘‘ کا۔
اور کچھ نہیں تو کم از کم ایمان میں ضعف اور مقصد تخلیق سے بُعد تو حاصل ہو ہی جائے اس لیے قادیانیت، بہائیت، بابیت، شیوعیت، سرماداریت، عقلیت، مغربیت، مادیت، ماسونیت، دارونیت، فرائڈیت، وجودیت، تجربیت، وغیرہ کو مسلمانوں میں عام کرنے کے کوشش کی جارہی ہی،جس کی تفصیلات آپ آئندہ صفحات میں پڑھیں گے۔
الغزو الفکری کے وسائل:
ان وسائط اور طریقوں کو کہا جاتا ہے جس کے ذ ریعہ فکرانسانی و اسلامی کو متاثر کیا جائے، ان میں سے بعض مباشر یعنی ڈائریکٹ ہوتے ہیں، بعض غیر مباشر یعنی اِنڈائریکٹ ہوتے ہیں، بعض عمومی ہوتے ہیں اور بعض خصوصی، بعض مسلسل ہوتے ہیں اور بعض وقتی ہوتے ہیں، یہ سب ملا کر کل تین ہیں:
(1) تعلیم و تعلم (2)ذرائع ابلاغ (3رفاہی ادارے
تعلیم و تعلم:
مسلمانوں کا مزاج علمی ہے، کیوںکہ ایک تو انسان کی فطرت ہی علمی ہے اور دوسرا اسلام کی بنیاد علم پررکھی ہے۔ ’’اقرا باسم ربک‘‘پڑھ اپنے رب کے نام پر۔ اب ’’علم آدم الاسماء ‘‘اور ’’اقرا ‘‘کا اثر سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہوا، کیوںکہ فطرت کو صحیح معنی میں اختیار کرنے کا ڈھنگ مسلمان نے انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات سے سیکھا، جس کے نتیجے میں اس کے رگ و ریشے میں علم سرایت کر گیا، یہود و نصاریٰ کیوںکہ آغاز اسلام ہی سے مسلمانوں کے بہت قریب رہے ہیں، لہٰذا انہوں نے مسلمانوں کی علم پروری اور علم دوستی کو بھانپ لیا، لہٰذا صلیبی جنگوں میں ناکامی کے بعد نشاۃ ثانیہ کا اعلان کرکے، نئی صلیبی جنگ کی تیاری شروع کردی، جس کا نام ’’استشراق‘‘ دیا، محض دھوکہ دینے کے لیے، کیوںکہ استشراق کے اصل معنی تو مشرقی تہذیب و تمدن، ثقافت و کلچر، ادیان و تاریخ کا مطالعہ کرنا، مگر اس کے پس پردہ اسلام کے خلاف ایک نئی فکری جنگ اور یلغار کے آغاز کی تیاری تھی۔
مغربی افراد نے استعمار کے تعاون سے اسلام کو مسلمانوں میں ضعیف کرنے کے لیے، قرآن و حدیث، تاریخ، فقہ، اصول فقہ، لغت، نحو وصرف، عقائد، افکار، تمام چیزوں کا مطالعہ شروع کردیا، اور غرض ہدایت یا حق شناشی نہ تھا بل کہ مادیت اور استعمار کی خدمت تھی، لہٰذا غیراہم مراجع سے باتوں کو لے کر اسلام پر نقطہ چینی کی، مہم چھیڑدی، جاحظ کی کتاب ’’الحیوان‘‘ اصفہانی کی ’’الاغانی‘‘ دمیری کی ’’الحیوان‘‘ وغیرہ سے غیر معتبر باتوں کو لے کر، اس پر تصنیف و تالیف کا آغاز کردیا، استشراق کی مکمل تفصیل آگے آرہی ہے۔
مسلمانوں سے ہنرمندی سیکھ کر، اس میں مہارت حاصل کی، اور کلیسا سے تنگ آکر الحاد کو ہوادی، اور پھر سرکاری سطح پر مسلمانوں سے اخذ کئے ہوئے علوم پر تجربہ کرنا شروع کردیا، اور مسلمانوں کی ایجادات کو فروغ دے کر اپنی طرف سے کچھ اضافے کیے اور اسے اپنی ہی طرف منسوب کردیا، اس طرح ’’صنعتی انقلاب‘‘ برپا ہوا، اب اپنی بنی ہوئی چیزوں کو فروخت کرنے کے لیے منڈیاں تلاش کرنا شروع کردیا، تجارت و معیشت کے نام پر عالم اسلام میں قدم رنجہ ہوئے، آہستہ آہستہ منڈیوں پر چھا گئے.
جب کچھ قوت محسوس ہوئی تو فوجی چھاؤنیاں بنائی، بادشاہوں کے دربار میں داخل ہوکر دخل اندازی شروع کی، اور مادیت کے دلدادہ ؤں کو اپنا ہم نوا بنا لیا، یہاں تک کہ پورے پورے ملک پر قابض ہوگئے، ہندوستان، انڈونیشا، مصر، افریقہ، سب جگہ ایسا ہی ہوا، یہاں تک کہ ملک کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر ’’اسلامی عدالتوں‘‘ کو کالعدم قراردے کر ’’انگریزی یافرانسی قوانین‘‘ نافذ کردیئے، مذہبی تعلیم پر پاپندی لگا دی اور حکومتی سطح پر نصاب تیار کر کے مغربی افکار کوجو سراسر الحاد پر مبنی تھے، کتابوں میں شامل کردیا۔
اسی طرح مشرقی دماغ میں مغربی فکر کو جگہ دے دی، پھر کچھ مادہ پرستوں کو اپنے ممالک کی طرف بھیج کر اپنا دل دادہ بنا لیا، جنہوں نے مغربی کلچر اور افکار کو کامیابی کی شاہِ کلی تصور کر لیا اور مغربی طرز پر مغربی تعلیم کے ادارے قائم کر دیئے، اس طرح لوگوں میں مادیت غالب آگئی، اور روحانیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی، ایک مدت تک حکومت کرنے کے بعد اگر چہ مغربی طاقتیں مشرق سے بے دخل ہونے پر مجبورہوئی، مگر لوگوں کو تعلیم کے راستے ذہنی غلام کا شکار بناکر گئی۔
اپنی بے دخلی کے بعد عالمی جنگ اول اور ثانی کے بعد اقوام متحدہ کی بنیاد ڈال دی گئی، جس میں پوری دنیا کو جکڑ کر رکھ دیا گیا، اور تعلیمی، سیاسی تمام شعبوں کو اسی سے سیراب کیا جانے لگا، اسی طرح ہر ملک کا نصاب مغربیت زدہ تیار کیا گیا، جس میں مذہب کو صرف پرائیوٹ معاملہ بتایا گیا، معیشت اور دین میںتفریق کی گئی، سیاست کو دین کی ضد تصور کرائی گئی، کھیل کود کو تعلیم کا اہم جزبنا دیا گیا، آزاد اور مساوات کا راگ اُلاپا گیا.
اور اب تو سیکس ایجو کیشن بھی نصاب میں داخل کر دیا گیا۔ اس طرح بچہ کے ذہن کو بچپن سے جوانی تک اور جوانی سے آگے تک، ایسا درس دیا گیا کہ اللہ، رسول، دین، جنت، جہنم، عذا ب، جزاء و سزا، حساب اور قیامت کوئی چیز نہیں، محض افسانے اور خیالی پلاؤ ہے، اصل یہی ہے کہ اپنے مفاد کے لیے کماؤ، اپنی مرضی کے مطابق کھاؤ پیو اور خوب عیش اڑاؤ، اس کے علاوہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ۔
مغرب نے سب کچھ کرنے کے بعد اپنے یہاں پر بڑی بڑی کالجز قائم کی اور غیر مغربیوں کو تعلیم کے لیے وہاں بلایا اور ان کی برین واشنگ کی مغربیت کو ان کے دماغوں پر مسلط کردیا اور انہیں اس بات کے لیے تیار کیاکہ وہ قومیت اور جمہوریت کے نام پر اپنے ملکوں میں حکومت حاصل کرے اور مغربی طو ر وطریق کو اپنائے ، اس کے لیے ان کا ہر ممکن تعاون کیا جائے گا ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک منظم پلاننگ کے ذریعہ لا دینی اور سیکولر تعلیم کو عالم اسلام پر خاص طور پر اور پورے عالم پر عام طور پر، پوری مکاری کے ساتھ مسلط کردیا گیا، ابنائے قوم کو اس تعلیم میں اتنا مشغول کر دیا گیا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ دینی ومذہبی تعلیم کے لیے وقت ہی نہ بچا اور بچے بیچارے چاروناچار دینی تعلیم سے نا واقف ہوتے رہے۔ اور آج بھی ایسا ہو رہا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر ملک کے کچھ دین دار، سمجھ دار لوگ یہ بیڑا لے کر کھڑے ہوں اور وہ نصاب میں داخل اسلام متصادم نظریات اور غیر ضروری امور کو خارج کردیں۔ اگر یہ طاقت نہیں تو کم از کم یہ کریں کہ ان امور اور اشیاء سے مسلمان طلبہ کو متنبہ کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کریں کہ جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں علما سے مکمل تعاون حاصل کرکے ایسے کتابچہ تیار کریں جس میںمسلمان طلبہ کو ان چیزوں سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہو اور ساتھ ساتھ دین کی بنیادی اور ضروری باتوں کو آسان اور سہل انداز میں بیان کردیا گیا ہو، تاکہ ہمارے معصوم بچے برین واشنگ سے محفوظ ہو جائے۔
امید کہ توجہ دی جائے گی۔ ہم اپنے بچوں کو پہلے مسلمان بنائیں پھر ڈاکٹر، پہلے مسلمان بنائیں پھر انجینئر، پہلے مسلمان بنائیں پھر تاجر، پہلے مسلمان بنائیں پھر سائنس داں۔ قرآن کا اعلان ہے: ’’قو انفسکم و اھلیکم نارا‘‘ اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچاؤ۔
نوٹ: تعلیم و تربیت اور ماحول سے اعداء اسلام نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا، ویسے بھی نفس برائی کو جلدی ہی قبول کرتا ہے، مثلاً، مصر میں رفاعہ رافع طہطاوی جس نے رقص اور مخلوط ناچ گانے کو صحیح قرار دیا، اور فرعونیت کے احیاء کی کوشش کی، اسی طرح طہٰ حسین، قاسم امین، وغیرہ نے عورت کی آزادی اور اسلام مخالف نظریات کی تائید کے لیے کتابیں لکھ ماری۔
الجزائر میں محمد اَرْکون نے قرآن پر اعتراضات کیے۔ سرسید نے قرآن و حدیث کو مغربی افکار اور آزادانہ تشریح و توضیح کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کی،یہ سب انہوں نے برطانیہ کے سفر کے بعد ہی کیا، اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، مصر کے حسنی مبارک، اُردن کے شاہ عبداللہ، امارات کویت، سعودی، ترکی، پاکستان، وغیرہ تمام حکمراں اور ان کی اولاد مغرب ہی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، و یا للاسف۔ آزادی، تجدید، مساوات، سیکولرزم، موڈرنزم، قومیت، جمہوریت، اشتراکیت، وغیرہ کے فروغ میں بھی یہی لوگ کوشاں ہیں۔
ذر ائع ابلاغ:
ذرائع ابلاغ کو عربی میںاعلام کہا جاتا ہے، ’’الاعلام نشاتہ وسائلہ مایؤثر فیہ‘‘ کے مصنف دکتور یوسف محی الدین اس کی تعریف کی ہے: ’’ہو نشر الحقائق و الاخبار و الافکار و الآراء فی وسائل الاعلام المختلفۃ‘‘یعنی میڈیا کہاجاتا ہے، حقائق، اخبار، افکار، آراء کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچانا۔ (ص6)
ذرائع ابلاغ کی تاریخ بہت قدیم ہے، ہر زمانہ میں لوگ مختلف طریقوں سے معلومات اور اخبار کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہے، کبھی پرندوں کو استعمال کرکے، کبھی پمفلیٹوں کو دیواروں پر چسپاں کر، کبھی بآواز بلند لوگوں کو خبر دے کر، یہاں تک کہ صنعتی انقلاب کے بعد ذرائع ابلاغ میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں.
یہاں تک کہ پچھلی صدی کو ’’ذرائع ابلاغ کے انقلاب‘‘ کی صدی کہا گیا، محی الدین عبدالحلیم نے عجیب بات کہی کہ ذرائع ابلاغ کے انقلاب کے بعد اب کوئی لمحہ چاہے رات کا ہو، چاہے دن کا، اس سے خالی نہیں ہوتا اور انسان بیدار ہونے کے فوراً بعد سے لے کر سونے تک ذرائع ابلاغ سے برابر ربط میں رہتا ہے، چاہے وہ سمعی ہو، چاہے مرئی ہو، چاہے مقروئی ہو، جس کی وجہ سے اس کی فکر اور نظریہ پر بڑا اثر مرتب ہوتا ہے۔ (الدعوۃ الاسلامیۃ و الاعلام الدولی:ص16)
(یو این این)