ہم گذشتہ قسط میں صلح حدیبیہ کے سلسلے میں با ت کر تے ہو ئے یہا ں تک پہو نچے تھے کہ کفا ر نے حضرت عثما ن (رض) کو کعبہ میں قید کر دیا اور خبر اڑا دی کہ ان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اب آگے پڑھئے ۔جب یہ خبر حضو ر (ص) تک پہو نچی تو ا بن ِ اسحا ق کہتے ہیں مجھ سے عبد اللہ بن ابی بکر نے کہا کہ جب رسول اللہ کو خبر ملی کہ حضرت عثما ن(رض) کو قتل کر دیا گیا ہے ،تو فر ما یا کہ اب ہم یہا ں سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے، جب تک اس قوم سے جنگ نہ کر لیں۔اسی کے لیئے بیعت ِ رضوان ہو ئی ۔جو کہ ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی لو گو ں کا کہنا ہے کہ رسول (ص) اللہ نے مو ت پر بیت لی تھی ۔مگر حضرت جا بر بن (رض) عبد اللہ کا قول ہے کہ حضو ر (ص) نے ہم سے نہ بھا گنے کی بیعت لی تھی کہ ہم کسی بھی حا لت میں نہیں بھا گیں گے۔جب رسول (ص)اللہ نے سب سے بیعت لی تو سب نے بیعت کی، سوا ئے جد ابن ِ قیس کے اس نے بیعت نہیں لی ۔کیو نکہ اس نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ یہ خبر غلط ہے ۔جب اس بیعت کی خبر قریش کو پہنچی تو انہو ں نے سہیل ابن ِ عمرو کو رسول (ص)اللہ کی خد مت میں بھیجا، اور کہا کہ تم محمد (ص) کے پا س جا ؤ اور ان سے مصا لحت کرو ۔لیکن خدا کی قسم اس سال وہ (ص) وا پس چلے جا ئیں ورنہ عرب با تیں بنا ئیں گے کہ محمد (ص) بزو رِ طاقت دا خل ہو ئے ۔سہیل ابن ِ عمرو کو جب حضو ر (ص) نے آتے ہو ئے دیکھا تو فر ما یا کہ”اس آدمی کو بھیج کر قریش نے ہم سے صلح کا ارا دہ کیا ہے “۔ جب تما م معا ملہ حضور (ص) اور سہیل کے ما بین طے پا گیا،اور وہ قریش سے منظو ری لینے مکہ چلے گئے۔ تواسی وقت حضرت عمر (رض) خدمت ِ اقدس (ص) میں حا ضر ہوئے اور بر ہمی سے کہا کہ کیا ہم حق پر نہیں کیا آپ اللہ کے رسو ل (ص) نہیں ؟ حضو ر (ص) نے جوا ب میں فر ما یا کہ یہ سب کچھ سچ ہے ۔تب انہو ں نے پو چھا کہ ہم پھریہ ذلت کیو ں قبول کر رہے ہیں ؟ اس کے جوا ب میں حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسو ل (ص) ہو ں یہ امر ِ ربی ہے میں (ص) اس کے حکم کی خلا ف ورزی کس طر ح کر سکتا ہو ں اور مجھے (ص) وہ کبھی ضا ئع نہیں کر یگا “۔ اس پر وہ مطمعن ہو گئے اور اپنی اس لغزش پر تاعمر نا دم رہے اور نذرونیاز کرتے رہے۔ جب سہیل اہل ِ مکہ سے منظوری لے کر واپس آگئے ۔ اس کے بعد حضور (ص) نے حضرت علی کو طلب فر ما یا اور کہا کہ لکھو بسم اللہ، لیکن قریش کے نمائندے سہیل نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہم اس سے ما نو س نہیں ہیں لہذا لکھو با اِ سمکَ اللھم َ (اے اللہ تیرے نا م سے ) اس پر حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ”با ا سمک اللہھم ہی لکھو َ “۔ حضرت علی (رض) نے یہ ہی لکھدیا ۔اس کے بعد رسول (ص) اللہ نے فر ما یا لکھو”ھذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ “ ( یہ وہ صلح ہے جو محمد رسول اللہ ) لیکن عمرو بن سہیل نے جملہ پو را نہیں کر نے دیا۔ اور کہا کہ آپ(ص) اللہ کے رسول ہیں یہ اگر مان لیں تو پھر با ت ہی کیا رہ جا تی ہے۔ آپ اپنے والد کا نا م لکھوا ئیے اس پر حضو ر (ص) نے فرمایا”اس کو مٹا دو “۔ بعض نے کہا ہے کہ حضرت علی (رض) نے حکم کی تعمیل کی، بعض نے لکھا ہے کہ انہو ں نے نا م مٹانے میں کر اہیت ظا ہر کی، لہذا حضو ر (ص) نے ان سے قلم لیکر خود رسول اللہ مٹا دیااور فرمایالکھو ”ھذا ما صالح علیہ محمدا بن عبداللہ سھیل ابن ِ عمرو اصطلحا علیٰ وضع الحرب عن الناس عشر سنین یا من فیھن الناس و یکف بعضھم عن م بعد علیٰ انہ من ا تٰی محمد ا منقریش بغیر اذن ولیہ رد ہٰ علیھم و من جا قریشاممن مع محمد لم یردوہ علیہ وان بینناغیبة ملفو نتہ وانہ لا رسلال ولا اغلال و انہ من احب ان ید خل فی عقد محمد و عہد ہ دخل فیہ و من احب این یدخل فی عقد قریش و عھد ھم دخل فیہ “ ( ترجمہ ) یہ وہ معا ہدہ ہے جس پر محمد (ص)بن عبد اللہ نے سہیل بن عمرو سے صلح کی، دو نوں نے با لا تفاق طے کیاکہ دس سا ل تک جنگ بند رہے گی، ان دس سال میں لوگ امن کی زندگی بسر کریں گے اور وہ ایک دوسرے سے ہا تھ رو کیں گے،شرط یہ ہے کہ قریش کا جو مولی اپنے ولی کی اجازت کے بغیرمحمد (ص)کے پاس آئے گا محمد (ص) اسے قریش کو لو ٹا دیں گے، ا ور محمد (ص) کے سا تھیو ں میں سے کو ئی جو مولی قریش کے پاس آئے گا، قریش وا پس نہیں کر یں گے۔ عداوتیں دونو ں کی دلو ں میں رہیں گی کھلے عا م ان کار اظہا ر نہیں کر یں گے ،نہ بد عہدی اور خیا نت کی جا ئے گی اور کہ محمد (ص) کے عہد میں جو شا مل ہو نا چا ہے داخل ہو جا ئے ،اور جو قریش کے سا تھ شا مل ہو نا چا ہے وہ ان کے سا تھ ان کے عقد اور عہد میں شا مل ہو جا ئے ً یہ معا ہدہ ہو تے ہی بنو خزا عہ نے اعلان کیا کہ ہم لو گ محمد (ص) کے عقد و عہد میں ہیں اور اس کے بر عکس بنو بکر نے اعلا ن کیا کہ ہم قریش کے عہد و عقد میں ہیں۔ اس میں یہ شرط شاید زبانی تھی جس کا مطالبہ سہیل بن عمرو نے بعد میں کیا ۔ کہ تم اس سا ل ہما ری خا طر واپس جا ؤ۔ اس لیے کہ ہم تمہا رے ہو تے ہو ئے مکہ میں دا خل نہ ہو نگے۔ اور ہم شہر چھو رڑ کر چلے جائیں گے، تم اپنے ہمرا ہیو ں کے سا تھ مکہ میں آئندہ سال دا خل ہو نا اور تین روز قیا م کر نا تمہا رے سا تھ عام سواروں جیسے ہتھیا ر ہو نگے، او ر تلواریں نیا مو ں میں ہونگی۔ بغیر ان شرائط کو پو ری کیئے ہم دا خل نہیں ہو نے دیں گے ۔ اس معاہدے کے سلسلہ میں اکثر مسلمان خوش نہ تھے کیو نکہ اس میں یہ دو دفعات توہین آمیز تھیں کہ قریش کا کو ئی مولی اگر اپنے ولی سے اجازت کے بغیر آجا ئے تو واپس کیا جا ئے گا اور اگر حضور (ص) کا کو ئی مولی بھا گ کر مکہ چلا جائے تو وہ واپس نہیں کریں گے اور دوسری دفعہ جو کہ تحریری نہیں تھی بلکہ با ہمی رضا مندی سے بطو ر شرط ِ معا ہدہ طے ہو ئی تھی کہ حضو ر (ص) اور صحا بہ کرا م اس سا ل عمرہ نہیں کریں گے ، جو قریش کی قدرے بر تری ظا ہرکرتی تھی۔ لیکن جب حضو ر (ص)نے بتا یا کہ یہ امرِ ِ ربی ہے تو سابقین تو مطمعن ہو گئے، مگر جو حا ل میں ایما ن لا ئے تھے یا جن کے ایما ن سا بقین کی منزل پر نہیں پہنچے تھے وہ رنجیدہ تھے۔ اس پر ایک درد نا ک واقعہ اور ہو گیا وہ یہ تھا کہ ابھی معا ہدے پر دستخط ہی ہو ئے تھے کے سہیل کے صاحبزادے حضرت جندل (رض) بن سہیل کسی طر ح اس کی قید سے چھوٹ کر وہا ں پہنچ گئے ۔جب سہیل نے حضرت ابو جندل (ص) کو دیکھا تو وہ مشتعل ہو گیا اور اس نے ان کے منہ پر طما نچہ ما را اور انکو گردن سے پکڑلیا،پھر زبردستی مکہ لے جا نا چا ہا جس پر صحا بہ کرا م کے تیور بدلے۔ لیکن سہیل نے فوراً حضو ر (ص) کو یا د دلا یا کہ ہما رے درمیا ن جو معا ہدہ طے پا یا ہے اس کے تحت یہ میرا حق ہے۔اس پر حضور (ص) نے فرمایا ”سہیل تم نے سچ کہا ہے یہ سن کر ابو جندل نے دہا ئی دی کہ اے ایمان والو ں کیا تم یہ پسند کرو گے کہ مجھے واپس کر دیا جا ئے اور کفا ر میرے ایما ن کو بر با د کر دیں !“اس سے مسلما نو ں میں تشویش پیدا ہو ئی۔ مگر حضور (ص) نے فر ما یا! ابو جندل (رض) تم صبر کرو اور ثواب کا خیال رکھو اللہ تمہا رے لیے اور ان مسلما نو ں کے لیے جو کہ تمہا رے سا تھ ہیں کشا دگی پیدا کر دے گا۔ہم (ص)نے اپنے اور اس قوم کے سا تھ معا ہدہ صلح کر لیا ہے ،اور ہم دو نو ں نے اس پر قا ئم رہنے کا عہد کیا ہے لہذا ہم (ص)اس کو تو ڑ نہیں سکتے۔ اس مر حلہ پرحضرت عمر (رض) کود کر حضرت ابو جندل (رض) کے پاس پہنچ گئے اور اپنی تلوار حضرت ابو جندل (رض) کے قریب کر دی بقول حضرت زہری (رض)ہم لو گو ں نے دم سا دھ لیے کہ کہیں حضرت ابو جند ل (رض)، حضرت عمر (رض) سے تلوار لیکر اپنے با پ کو قتل نہ کر دیں۔ لیکن انہو ں نے حضو ر (ص) کے حکم کا خیال کیا اور اپنے با پ سہیل کے سا تھ واپس چلے گئے ۔ اس طر ح یہ معا ہدہ پہلی مرتبہ نافذ ہو ا ۔اس معا ہدے پر بطو ر گوا ہ جن لو گو ں نے دستخط کیئے انکے نا م یہ ہیں ۔ ابو بکر ،عمر ابن ِ خطا ب، عبد الر حمٰن بن عو ف ،عبداللہ بن سہیل، سعد بن ابی وقاص، محمو د (رض) بن مسلمہ اور کفا ر کی طرف سے مکرز بن حفص جو کہ سہیل بن عمرو کے سا تھ آئے تھے اور اس وقت تک مسلما ن نہیں ہو ئے تھے ۔گو کہ ابتدا میں مسلما ن جو کہ مدینہ سے چلے تھے مورخین نے سا ت سو بتا ئی تھی لیکن جس دن یہ معا ہدہ صلح ہو ا اس دن تعداد کچھ مو رخین نے پندرہ سو بتا ئی ہے ممکن ہے کہ ابتد ائی طو ر پر جو مسلما ن مدینہ شریف سے چلے ہو ں ان کی تعداد وہی ہو اور پھر لو گ آتے رہے ہو ں اور کچھ مسلم قبا ئل را ہ میں شا مل ہو گئے ہو ں۔کچھ مور خین نے جو لو گ اس دوران مسلما ن ہو ئے ان کی تعداد ایک سو بتا ئی ہے۔ابن ِاسحاق (رح) نے لکھا ہے کہ اس کے بعد حضو ر (ص) مقام ِ حل میں جو کہ حدیبہ کی طرف سے حدودِ حرم میں داخل ہے ،اپنے خیمے سے نکل کر دا خل ہوئے(وا ضح رہے کہ مکہ کے چاروں طرف حدود ِ حرم کی نشا ن دہی کی ہو ئی ہے جس میں غیر مسلم کا دا خلہ ممنو ع ہے۔ اور ان کے فا صلے مختلف ہیں نزدیک ترین فا صلہ مدینہ والی سمت میں ہے۔ جہا ں کہ حد صرف تین کلو میٹرہے اور وہاں اب مسجد ِ عا ئشہ بنی ہو ئی یہ مقام تنعیم کہلاتا ہے۔ جسے مکہ والے اور حجاج کرام زبا ن ِ عا م میں چھو ٹا عمرہ کہتے ہیں۔ دوسری حد جدہ کے راستے پر ہے جو بیس کلو میٹر ہے اور بڑا عمرہ کہلا تی ہے۔ باقی آئندہ