15.10.2026, 03:24pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

مصطفی کمال اور ساتھی کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
26.03.2016, 12:01am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔ شمس جیلانی
 آجکل اس پر بحث چل رہی ہے؟ کہ ان کے پیچھے کون ہے اور مقاصد کیا ہیں ۔ جبکہ میں نے ابھی تک وہ حسنِ ظن کہیں نہیں دیکھا جو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے بارے میں ہونا چاہیئے؟ ایسا کیوں ہے اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں کہ ہم نے سچ بولنا چھوڑدیا ہے جس پر میں روز ہی بات کرتا ہوں ؟لہذا کوئی بھی ان کے خلوص پر یقین نہیں کر رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ اقتدار کی لڑائی ہے کسی نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی اور ہے۔ ابھی تک مجھے ایک آواز بھی ایسی نہیں ملی جو اس گروہ کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھتی ہو۔ اس سلسلہ میں اب تک پاکستانی حکومت کی جو پالیسی رہی اس میں دونوں پارٹیاں شامل ہیں ۔ کہ انہیں حکومت چلانا ہے لہذا وہ متحدہ کے لیڈر کو ناراض نہیں کر سکتے؟ بلکہ اس سے پہلے کی حکومت نے توایک وزیر کی ڈیوٹی ہی لگار کھی تھی کہ وہ لندن جہاں اسکا کارو بار اور گھر بار بھی ہے باقائدگی سے آتا جاتا رہے اور قائد کی غلط فہمیاں دور کرتا رہے کیونکہ ان دنوں وہ اتنے زود رنج ہوگئے تھے کہ بات بات پر روٹھتے رہتے تھے؟ جبکہ وہ اگر کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرلیتے تو انہیں وہ بتادیتا کہ ہر بچے کی عمر کا کچھ حصہ ایسا ہو تا جس میں ہم سنی کا دباو( Peer pressure) بہت زیادہ اثر کرتا ہے اور یہ پاکستان کی بد قسمتی تھی کہ وہ جب کراچی میں طالب علم تھے تو اسوقت فارورڈ بلاک کا طوطی بول رہا تھا جو دلوں سے خوف ِ خدا نکالنے کے کام پر مامور تھا اور وہ بہک گئے ۔یہ انہیں کہ ساتھ نہیں ہوا بلکہ ان جیسے بہت سے اس دور نے پیداکیے مگر سب اپنی عملی زندگی میں ناکام رہے۔ یہ نہیں اس دور میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بھی یہ ہی کیفیت تھی وہاں بھی اس دور میں کوئی نامور آدمی پیدا نہیں ہوسکا ۔ شروع میں الطاف بھائی بھی انہیں میں شامل تھے پھر وہ اپنے بھائی کے پاس شکاگو چلے گئے اور نہ جانے کیسے ان کے سر پر ہما بیٹھ گیا۔ اور جس طرح پہلے سنا کرتے تھے کہ بزرگوں کی نظر کیا پڑی فلاں کی کایا پلٹ گئی وہ بھی کسی حادثے سے گزرے اور شہرت اور کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔ جب الطاف بھائی کو شکاگو سے لاکر مہاجروں پر مسلط کیا گیا تو بھی کسی کو پتا نہیں تھا کہ ان کا مقصد کیا ہے ان کے پیچھے کون ہے؟ چونکہ وہ خود پہلے پیر پریشر شکار ہ چکے تھے انہوں وہی طریقہ اس دور کے بچوں کے لیے اپنا یا کہ تیتر سے تیتر کا شکار کیا جائے؟ دیکھتے ہی دیکھتے اسی ہزار فارم ان کی وفاداری کے بھر کر کراچی کے بچے اپنی تعلیم چھوڑ کر ان کی طرف راغب ہوگئے۔ کیونکہ انہیں یہ باور کرا یا گیا تھا کہ تمہارے ساتھ بڑی زیادتی ہو رہی ہے۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ تم کو جو لیڈر حکم دے اسے مانو؟ جب لوگوں میں تجسس پیدا ہوا؟ توانہوں نے اس جال سے نکلنا چاہا تو کوئی ان دیکھی طاقت ان کے ساتھیوں کو نگلنے لگی؟ اس دن سے بچے بتانے لگے کہ اس کاذمہ دار کون ہے مگر کبھی کوئی ثابت نہیں کرسکا نہ کرسکے گا؟
اس تمام معاملے کو سمجھانے کے لیے تھوڑا سا تاریخ میں مجھے پیچھے جانا پڑےگا ؟ جب تک ون یونٹ نہیں بنا تھا مہاجر اور انصار میں کوئی جھگڑا نہیں تھا، سب بھائیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ جب مشرقی پاکستان کے لو گوں نے جنکی تعداد پاکستان میں 54فیصد تھی قربانی دیکر برابری تسلیم کرلی تو اسے ان کے مساوی لانے کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت مغربی پاکستان میں ون یونٹ بنا نا پڑا ؟ لہذا صوبائی دار الحکومت لاہور بن گیا جبکہ اس زمانے میں لاہور تک کا سفر کسی کام کے لیے کرنا بڑا مشکل کام تھا ۔ کہ اسوقت غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص کندھے پر بینگی میں انڈے اٹھائے ہو ئے پیدل ساٹھ ستر میل جاتا تھا کوئٹہ بیچنے کے لیے تب کہیں چار پیسے دیکھنے کو ملتے تھے؟ اسی طرح تھر پارکر سے ایک بھوسے کی گٹھری کی شکایت اپنے وڈیرے کے خلاف کرنے اس دور میں اپنے حلقے کے ممبر اسمبلی تک آنے کے لیے اس سے زیادہ سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ موقعہ پرستوں کو موقعہ ملا کہ بے انصافی کریں ۔ جب بے انصافیاں شروع ہوئیں تو ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہوئی، مگر اس کا ذمہ دار اکثریتی صوبے کے لوگوں کو سمجھتے تھے جو بدقسمتی سے ویسٹ پاکستان کا دار الحکومت بھی تھا۔ پھر جمہوریت کا بستر ایوب خان نے لپیٹ دیا۔ وہاں ملک امیر محمد خان کی حکومت کی جو ون یونٹ کے گورنر تھے۔ ان کی ایک کابینہ بھی تھی اس میں دو ہی وزیر سندھ  سےلیے گئے جن میں ایک عبد القادر سنجرانی نواب شاہ سے اور دوسرے محمد خان جونیجو سانگھڑسے جوکہ پیر پگارا کے نمائندے تھے۔ محمد خان مغربی پاکستان ریلوے کے منسٹر تھے۔ پیر صاحب نے ایک چٹھی دیکر ایک شخص ان کے پاس نوکری کے لیے بھیجا انہوں نے اپنے پاس مہمان ٹھیرایا اور کھلایا پلایا اور جھنڈا لگی کار میں لاہور کی سیر بھی کرائی ، مگر اسکے زبانی کہلا بھیجا کہ سائیں! میں یہ ہی کچھ کر سکتا تھا وہ میں نے کردیا نوکری دینا میرے بس میں نہیں ہے؟ مختصر یہ کے بے انصافیاں بند نہیں ہوئیں اور بےچینی بڑھتی گئی اسی دوران مشرقی پاکستان الگ ہوگیا بھٹو صاحب کی حکومت آگئی ۔ اس وقت سندھ محاذ سندھ میں ونٹ یونٹ توڑنے کی تحریک چلا رہا تھا طے یہ ہوا کہ بلا تفریق سندھ کے سب باشندے سندھ محاذ میں شامل ہو جا ئیں۔مہاجروں کا ایک نمائندہ اجلاس پہلے نواب زاہد علی خان کی کوٹھی پر  حیدر آباد میں ہواجو کہ سب کی نگاہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ پھر عبد المجید سندھی کی زیر صدارت ٹھٹہ میں دوسرا بڑا اجتماع ہواجہاں مہاجروں نے سندھ محاذ میں شمولیت کا اعلان کر دیا؟ جو لوگ لڑاؤ اور حکومت کرنے کے عادی تھی انہوں نے انہیں کے برادر نسبتی نواب مظفر حسین خان پر ہاتھ رکھا اور انہوں نے اس کی ٹکر پر پنجاب پٹھان مہاجر محاذبنا لیا؟تب سندھ میں پہلی دفعہ مہاجر سندھی فسادات ہو ئے ۔ زبان کے مسئلہ کوہوا دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کی فضا زہر آلود ہوگئی ۔نواب مظفر کی زندگی نے وفا نہیں کی جلدہی وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔اور مہاجر خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے  کہ اتنے میں ضیاءالحق آگئے اور ان کے زمانے میں الطاف بھائی کو شکاگو سے لاکر راتوں رات لیڈر بنا دیا گیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے وہ کیا جو میں نے اوپر بتایا؟ ان کے نعروں میں سب سے بڑا نعرہ ان مہاجروں کو بنگلہ دیش  سےلانا تھا جو وہاں پھنسے ہوئے تھے۔ بعد میں مہاجر تحریک نواز شریف صاحب کی حلیف ہو گئی؟ اخباری خبروں کے مطابق کچھ ان میں سے پاکستان لا ئے بھی گئے، مگر سندھ نے ان کو لینے انکار کر دیا البتہ فیصل آباد میں کچھ آئے مگر وہاں بھی سخت مخالفت ہو ئی اور نواز شریف صاحب کو پیچھے ہٹنا پڑا؟ کچھ دنوں کے بعد رات گئی بات گئی کے تحت انہیں سب بھول بھال گئے اور حکومتوں پر تحریک کے راز کھلتے رہے۔ جب نواز شریف صاحب کی حکومت نے کچھ کر نا چاہا تووہ ہر بات کو جھوٹ کہتے رہے جو رٹ ہنوز جاری ہے؟
اب ایک بار پھر کھلے عام کچھ لوگ خم ٹھوک کر کہہ رہے ہیں کہ اور اقبالی بیان بھی دے رہے ہیں ۔ لیکن عوام اور حکومت دونوں انکی بات پر تحقیقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ یاتو وہ پالیسی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، جو ہمیں انگریزوں سے ورثہ میں ملی ہے؟ یا پھر کوئی بھی ان سے بگاڑنا نہیں چاہتا تھا ۔ جبکہ اس پالیسی کا نتیجہ ملک بھگت رہا ہے کہ کراچی تباہ ہوگیا، صنعتیں تنگ آکر یاتو پنجاب چلی گئیں یا ملک سے باہر چلی گئیں ۔ اور ایک عرصہ تک یہ علاقہ ہر قسم کے شر پسندوں کی جنت بنا رہا آخر میں نوبت یہاں تک پہونچی کہ لوگ! ہڑتالوں کی بہتات کی بنا پر بھوکوں مرنے لگے؟ تب کہیں جاکر راحیل شریف صاحب کو ترس آیا اور انہوں نے حکومت توجہ اس طرف مبذول کرائی۔ اور انہوں نے اس میدان میںبہت کام کیا؟ جو ابھی نا مکمل ہے ان کے بعد کیا ہوگا اللہ جانتاہے؟
 اب پوچھیں گے اس کا حل کیا ہے ؟ جو ماڈرن مسلمان پاکستان میں ہیں وہ تو ڈر کر بات نہیں کریں گے؟ مگر جس اسلام کے نام پر یہ ملک بنا ہے اور جس کے صفحہ اول پر لکھا ہوا ہے کہ یہاں حاکمیت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ہوگی ۔دوسرے اگر کوئی واقعی مسلمان ہے تو وہ یہ کہہ کر چونکہ عقیدہ کے اعتبار سے مسلمان نہیں رہ سکتا کہ اسلامی قوانیں سے کوئی قانون بہتر ہے؟ ان کے لیے قرآنی آیتوں کی شکل میں حل موجود ہے سورہ 5کی آیت نمبر34 دیکھیئے کہ " جن لوگوں نے اس سے پہلے کہ قابومیں آجائیں توبہ کرلی تو جان رکھو کہ اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے " دوسری سورہ 4کی آیت17 جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا اور پھر“ توبہ کرلی تو تمہارا پروردگا ر ان کو بخشے والا اور رحمت کرنے والا ہے ۔  سورہ4 کی آیت نمبر 146ہے .  " جنہوں توبہ کرلی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی اصلاح کرلی اور خاص اللہ کے فرمانبر دار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہونگے اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب عطا فرمائے گا" یہاں بہت سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر پھر وہی حرکتیں کرنے لگیں ہم تو کیا کریں گے؟ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے؟  سورہ نمبر 8کی آیت نمبر38  " (اے پیغمر) کفار سے کہدیجئے کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو کیے ہیں معاف کر دیئے جائیں گے، اگر پھر وہی حرکات کرنے لگیں (تو وہی سزا دی جائےگی جس کے وہ مستحق تھے) اس آیت میں بعض نکتہ چیں یہ نکتہ پیدا کر سکتے ہیں کہ یہ رعایت تو کافروں کے لیے ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام علماءاور فقیہ اسپر متفق ہیں کہ انسان جب گناہ کر تا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا بلکہ حالت ِ کفر میں ہو تاہے۔ کیونکہ اللہ کو حاضر اور ناظر (نگراں) مانتے ہو ئے کوئی گناہ کر ہی نہیں سکتا؟ اس کے لیے تھوڑی سی قانون سازی کی ضرورت ہوگی جوکہ جوکہ نواز شریف صاحب کو اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے کوئی مشکل نہیں ہے۔ ورنہ یہ سب اسی طرح مارے جاتے رہیں گے۔ جیسے پہلے والے یا جیسے وہ دو سوپولس آفیسر، نامہ نگار وغیرہ وغیرہ اور کبھی جرم ثابت نہیں ہو گا اور ملک اسی طرح تباہی کے دہانے پر کھڑا رہے گا۔ لہذا میری حقیر رائے میں ایک مرتبہ انہیں آزمالینے میں کوئی حرج نہیں ہے ،کیا پتا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان کا ضمیر بیدار کردیا ہو؟

:دیگر مضامین
(19.03.2016) عبرت سے دیکھیے مجھے عبرت نگاہ ہوں؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(13.03.2016) ہاتھ کاٹے پاؤ کاٹا پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(05.03.2016) صعّرا “ اونٹ کی ٹیڑھی گردن (٢)از ۔۔ شمس جیلانی
(27.02.2016) صعر “یا اونٹ کی طرح ٹیڑھی گرد ن۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(20.02.2016) شہید ِعلم ثاقبہ حکیم؟..... از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.02.2016) آزاد ی ِصحافت کے نئے معنی۔۔۔ از..... شمس جیلانی
(06.02.2016) لنکا میں جو بھی دیکھا وہ باون گز کا؟ از۔۔۔شمس جیلانی
(30.01.2016) حکمرانوں کی عافیت خلا پر کرنے میں ہے۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(23.01.2016) اچھے طالبان ،برے طالبان اور ان کی پہچان ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.01.2016) نیاتنازع پاکستان کس تاریخ کو بنا؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی۔ نظر ثانی شدہ
(09.01.2016) مقدس گائے کا سفر جنگلوں سے لغت تک۔۔۔از... شمس جیلانی
(02.01.2016) پوت ، کپوت اورسپوت۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(26.12.2015) یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں۔۔۔ ؟از۔۔ شمس جیلانی
(19.12.2015) دودھ کاجلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(12.12.2015) دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ن پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.12.2015) جانکنی میں کی اس نے جفا سے توبہ!۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.11.2015) عالی جی تو شہزادے تھے۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی
(21.11.2015) فوج یا الہ دین کا چرا غ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(14.11.2015) گڈ گورنینس، طرہ امتیاز ہے؟ ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(07.11.2015) قانون کے منہ پر تھپڑ؟۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں