اب دوش پہ یہ سر مجھے بیزار لگا ہے
د شمن مجھے اب قوم کا سردار لگا ہے
کہتے ہیں کہ دشمن کی کمر توڑ کے رکھ دی
یہ کیا ہے کہ پھر لاشوں کا انبار لگا ہے
سوئی ہوئی اس قوم کے سوئے ہیں محافظ
سچ تو ہے غنیم اور بھی بیدار لگا ہے
ذلت کی ہے معراج یہ نامرد قیادت
قزاق مجھے قافلہ سالار لگا ہے
قاتل میرے بچوں کے ہیں صفدر میرے حاکم
لاہور میں بھی موت کا بازار لگا ہے