پاکستان نے بھارتی نیوی اور را کے گرفتار دہشتگرد کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے تک بھارت کو قونصل رسائی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کلبھوشن یادیو بھارت کا حاضر سروس نیوی افسر اور خفیہ ایجنسی را سے وابستہ ہے ۔ جو پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے اور اس کا رضاکارانہ اعتراف بھی کرچکا ہے ۔
بھارتی ایجنسی را کے افسر کی نشاندہی پر متعدد گرفتاریاں بھی کی جا چکی ہیں
اور اس نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات جاری ہیں ۔ لہذا دہشت گردی جیسے سنگین جرم میں ملوث ہونے اور تحقیقات کے سبب بھارت کو فی الوقت قونصل رسائی نہیں دی جائے گی۔ کلبوشن جیسے اہم دہشتگرد تک قونصل رسائی سے متعلق جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کے دیگر معاہدوں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پاکستان اس امر کا بھی جائزہ لے گا کہ بھارت میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اور را کے سربراہ سمیت کن افسروں تک رسائی مانگی جائے ۔
کلبھوشن یادیو کی قونصل رسائی میں وزارت داخلہ کی اجازت کا بھی اہم کردار ہے جو پہلے اجازت دے تو پھر وزارت خارجہ رسائی پر غور کرے گی۔