پنجاب میں فوجی آپریشن پر ابتدا میں مزاحمت دکھانے والی صوبائی حکومت اب فوج سے اس معاملے پر افہام و تفہیم کی کوشش کر رہی ہے۔پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس حوالے سے جمعرات کی شام آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے جنرل ہیڈ کواٹرز میں خاموشی سے ملاقات کی۔
صوبے میں دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف فوج کے یک طرفہ آپریشن شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان اعلی سطحی ملاقات ہوئی ہےدونوں جانب سے ملاقات کی خبر جاری نہیں کی گئی لیکن سینئر سویلین اور عسکری حکام نے نجی گفتگو میں اس کی تصدیق کی۔اس ملاقات کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں وزارت خزانہ کی ایک ٹیم نے جمعہ کوجی ایچ کیو کا دورہ کیا۔
بظاہر دورے کا مقصد دفاعی بجٹ کیلئے فوج کی تجاویز حاصل کرنا تھا لیکن تما م پیش رفت پر قریبی نظر رکھنے والے ایک ذریعہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی معتمد اسحاق ڈار کا دورہ پنجاب آپریشن پر وفاقی حکومت کی جانب سے فوج کو پیغامات پہنچانے کا ایک حصہ تھا۔پیشگی اجازت لیے بغیر فوج کی جانب سے پنجاب میں کارروائی شروع کرنے پر حکومت انتہائی پریشان تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نے لاہور بم دھماکے کے متاثرین سےاظہار یکجہتی کیلئے واشنگٹن میں ایٹمی سلامتی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کی لیکن بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ-ن کے مضبوط گڑھ پنجاب میں فوجی آپریشن کی وجہ سے امریکا دورہ منسوخ کیا۔ذریعہ کے مطابق ’جنرل راحیل اور ن-لیگی رہنماؤں کے درمیان جمعرات اور جمعہ کو ہونے والی ملاقاتیں صوبے میں آپریشن جاری رکھنے کیلئے انتہائی اہم ہیں‘۔
پنجاب آپریشن پر حکومت اور فوج کے درمیان کئی مہینوں سے اختلافات موجود تھے لیکن رواں ہفتے فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ اور وزیر اطلاعات پرویز رشید کی مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اختلافات کھل کر نمایاں ہو گئے۔وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پنجاب میں اس طرح کا آپریشن شروع کرنا صوبائی حکومت کا استحقاق ہے جبکہ فوجی ترجمان کا اصرار تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اتفاق رائے سے منظور ہونے والے قومی ایکشن پلان میں شامل تھا۔