پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد صفائیوں اور تردید کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ آئس لینڈ میں زبردست عوامی احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
پانامہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔ پانامہ لیکس میں آئس لینڈ کے وزیر اعظم کے خفیہ کاروبار کی خبریں سامنےآنے کے بعد زبردست عوامی احتجاج جاری ہے۔ بائیس ہزار افراد نے وزیر اعظم ہاؤس کا گھیراؤ کر لیا اور مظاہرین وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
چین میں پانامہ لیکس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ چینی حکومت نے پانامہ لیکس سے متعلق آن لائن خبروں اور مواد کو بلاک کردیا ہے۔ پانامہ لیکس میں چینی صدر کے برادر نسبتی، خاندان کے بعض افراد کی آف شور کمپنیز کا انکشاف کیا گیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے پانامہ دستاویز کی تحقیقات کے لیے دو سابق ججوں پرمشتمل ٹیم بنا دی۔ سابق جج ایم بی شاہ اور ارجیت پسایت پر مشتمل ٹیم ٹیکس چوری کی تحقیقات کر کے پچیس اپریل تک ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی۔ روسی صدر، ایشوریہ رائے بچن سمیت متعدد ناموں نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کی ہے۔
پاناما کی کمپنی موساک فونسیکا میں نامعلوم ذرائع نے واشنگٹن میں قائم انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نامی ایک تنظیم کو کمپنی کی ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات فراہم کی تھیں، جن سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین افراد نے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے اپنا پیسہ بیرون ملک بھیج رکھا ہے۔