پاکستانی ٹیم کے ہارنے پر آئیندہ کرکٹ نہ دیکھنے کا اعلان تو ہم ہر بار کرتے ہیں- لیکن جس بری طرح ایشیا کپ میں ہار گئی تھی تو اعلان کے ساتھ دل میں توبہ بھی کر چکے تھے- کرکٹ کے بارے گفتگو سے بھی پرہیز کرنے لگے تھے- ہم اپنی توبہ پر قائم رہتے لیکن بد قسمتی دیکھئے- ورلڈکپ شروع ہوتے ہی ایک بار پھر پاکستانی ٹیم جیت گئی- جیت بھی ایسی کہ رن ریٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ گئی- پھر کیا تھا- تبصرے شروع ہو گئے- سوشل میڈیا کے دانشوروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا- انڈیا کے اوپر پریشر ہونے اور اپنے کھلاڑیوں کے فارم میں ہونے کی باتیں ہونے لگی- اپنا ایک دوست جیسے جمعہ کے علاوہ کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا- میچ کی پہلی اننگ تک پنج وقتہ نمازی بن گیا- ایک اور دوست، جس کی ساری ذندگی مایوس رہنے اور مایوس کرنے میں گذرتی ہے- آج کل وہ بھی کافی پر امید دکھائی دیتے تھے- اور تو اور اس بار تو سکندر بخت، خدا جانے اسے کرکٹ کا سکندر کس وجہ سے کہتے ہیں، وہ بھی جیت کی پیش گوئی کر رہے تھے- سو ہم نے بھی ایک بار پھر میچ دیکھنے کا ارادہ کر لیا- شرطیں لگ گئی- تبصرے ہونے لگے- افریدی سب کی جان بن گئے-
میچ سے تین دن پہلے لوگوں نے تیاریاں شروع کی تھی- کوئی سکرین نصب کر رہا تھا تو کوئی ٹی وی ٹھیک کرنے کیلئے لے جا رہا تھا- ایک دن پہلے ہم بھی جب سبز رنگ کی شڑٹیں خریدنے گئے تو باچا خان بھی ساتھ تھے- بِچارہ اپنے پیٹ کی طرف دیکھتا تو ٹی شڑٹ کا ارادہ بدل لیتا لیکن پھر جب میچ یاد آتا تو ایک اورسائز ٹرائی کرتا- عمر بھائی جس کو بلیک کلر اتنا پسند ہے کہ اس دِن بھی ہر دکاندار سے یہی پوچتا رہا بھائی کوئی ایسی شڑٹ دکھائیے جس کا کلر لَش بلیک ہو اور اس پہ کوئی ایسی نشانی ہو جس سے پاکستان سے محبت کا اظہار ہو سکے-
میچ شام 7 بجے شروع ہونا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں فاروق اس دن صبح چھ بجے کا اٹھ گیا تھاحالانکہ عام دنوں گیارہ بجے اٹھنے پر بھی پیشانی پر بارہ بج جاتے ہیں- اس دن ہم نے بہت اچھا ناشتہ کر لیا- دوپہر کو اس غرض سے کچھ نہیں کھایا کہ میچ جیتنے کے بعد ہم نے بڑے ریستوران سے کھانے کا ارادہ کر لیا تھا- شام تک تبصرے دیکھتے رہے اور بارش رک جانے کی دعائیں- دیکھو! آج ہمارے جیتنے کا دن ہے تو بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی، اسماعیل بار بار بس یہی کہتا رہا-
بارش کی وجہ سے میچ دیر سے شروع ہوا تو پاکستان کا ترانہ پڑھنے کا شرف معروف گلوکار شفقت امانت علی خان کو بخشا گیا- ترانہ سن کر پہلے تو میں ڈر گیا اور دل میں شرمندگی کا بھی احساس ہوا کہ میں آج تک قومی ترانہ غلط پڑھتا رہا ہوں لیکن خدا کا شکر ہے ٹی وی والوں نے بہت جلد آگاہ کیا کہ میرا ترانہ ٹھیک ہے شفقت بھائی ہی غلط پڑھ رہا تھا-
بد قسمتی کی ابتدا بھی ہمیشہ بدقسمتی سے ہوتی ہے- ترانے کے بعد ٹاس بھی ہماری ٹیم ہار گئی- جتنا فرق میچ اور میچ کے بارے ہمارے اندازوں میں تھا تقریبا اتنا ہے فرق پچ کنڈیشنز اور کپتان کے لگائے گئے اندازے میں تھا- میچ آخر کار شروع ہوا- ہماری ٹیم نے بلے بازی شروع کی تو گیند ایسا گھوم رہا تھا کہ کھلاڑیوں کے اوسان خطا ہو گئے- پہلے پانچ اورز تک دونوں کھلاڑی وکٹیں بچانے کی چکر میں رنز نہیں بنا سکے- پھر نئے کھلاڑی پچ کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو رہے تھے- پھر رنز کرنے لگے تو اورز ختم ہو گئے- عمر اکمل بچارے کو شاید کسی نے نہیں بتایا تھا کہ میچ اٹھارہ اوورز کا ہے ورنہ وہ ہمیشہ کی طرح اج بھی اچھا کھیل لیتے- بلے بازوں کی غلطیاں اور ایکسٹرا رنز ملا کر ہماری ٹیم کا مجموعی سکور بمشکل ایک سو بیس تک پہنچ گیا-
انڈیا کی باری شروع ہوئی تو یوں لگ رہا تھا کسی اور پچ پہ کھیل رہے ہوں- پہلے تین وکٹیں تو ہمای مرضی سے گر گئیں لیکن پھر ویرات کوہلی سیسہ پلائی دیوار بن گئے- ہدف اس نے سولہویں اوور میں حاصل کر لیا اور ایک بار پھر موقع ضائع ہو گیا- ارمان آنسوؤں میں بہ گئے- اور قوم سکندر بخت کے حوالے ہو گئی-
میچ کا حال تو ہم نے بیان کر دیا- لیکن میچ ہارنے کے بعد جو حالت ہماری ہو گئی تھی اس کا اندازہ اپ خود ہی لگا لیں تو بہتر ہوگا- ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور انڈیا سے ورلڈ کپ میں ہارنا شائد اب کرکٹ کا حصہ بن گیا ہے- ہمیں بہر حال اب کھلاڑیوں کو معاف کرنا چاہئیے کیوں کہ جس طرح کی غلطی وہ کرتے ہیں بالکل اس طرح کی ایک غلطی ہم بھی کرتے ہیں- وہ بار بار اپنے آپ اور قوم سے اچھا کھیلنے کا وعدہ کرتے ہیں اور ہم ہر بار خود سے ائندہ کرکٹ نہ دیکھنے کا وعدہ کرتے ہیں – ہم مکر جاتے ہیں تو وہ بھی مکر جاتے ہیں -