|
وکی لیکس کے بعد اب پنامہ لیکس؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
09.04.2016, 02:10am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔ شمس جیلانی
؟جس میں مالکان کے نام تک جعلی ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں جو ایمانداروں کا تناسب ہے وہ جس قدر کم ہے سب کو پتہ ہے اگر کوئی جعلی انسان اصل کی جگہ لے لے اور پورے کاروبار پر قبضہ کرلے تو؟ اس کا جواب دینے کےلیے ہمارے پاس ایک بہن کی طرح نہ “ بوا“ ہیں جو ہمیں ساری دنیا کی خبریں لا کردیں اور نہ ہی یک ٹی وی کی طرح ایسی چڑیا ہے جو مخبری کرے اورہمیں ساری خبریں لادے؟ دوسرے اس میدان میں ہمیں کوئی ذاتی تجربہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب سے ہم نے اس دنیا کی نہ پائیداری کو دیکھا خود کو مال وزر سے بے نیاز کرلیا ور ہم نے یہ شعر کہہ کر یہ باب ہی بند کردیا کہ “جب سے ہم نے مال و زر سے کنارہ کر لیا ہاتھ خالی کیا ہوا ساری پریشانی گئی “ اسی وقت سے ہم نے اپنی زندگی اتحاد بین المسلمین اور خدمت خلق کے لیے وقف کردی ۔نیز ہم نے دو چیزوں سے اجتنا ب کرنا شروع کردیا ایک “ نوٹ “ دوسرے “ ووٹ “اسکے بغیر ہم خدمت کرنے والوں میں جب سے شامل رہے۔ اس اعلان کے ساتھ کہ ہمارا وقت مفت حاضر ہے جو نوٹ اور ووٹ کے بغیر ہم سے خدمت لینا چاہے ہم حاضر ہیں؟ ورنہ ہمارا حشر بھی وہی ہوتا جیسے آجکل شوکت خانم اسپتال کو محض اس لیے سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں؟ کیونکہ اس کی بنیاد ڈالنے والے نے ہزاروں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کرکے انہیں حسرت کی موت مرنے سے بچالیا ۔ چونکہ وہ اب سیاست میں آگیا ہے لہذا شاہ کے مصاحب اس کے اس ادارے کو بھی اس کے ساتھ گھسیٹ رہے ہیں۔بغیر یہ سوچے ہوئے کہ اگر وہ ادارہ تباہ ہوگیاتو پھر ان غریبوں کا کیا ہوگا۔ کاش وہ قرآن کی سورہ احزاب میں جاکر آیات نمبر 57 اور 58 پڑھ لیتے تو اپنا بھی بھلا کرتے اور دوسروں کا بھی, کیونکہ یہ آیتیں ان کے بارے میں ہے جو نیک کاموں سے روکتے ہیں اور جھوٹے الزامات لگاکر اللہ کی نگاہ میں لعنتی اور مستحق ِعذاب بنتے ہیں؟ لہذا کسی کی پگڑی اچھالنے سے پہلے اگر کوئی مسلمان ہے تو اسکو چاہیئے کہ پہلے تحقیقات کرلےپھر کوئی لفظ زبان سے نکالے چاہیں ا میر ہو یا فقیر؟ لیکن سوال کا جواب دینا بھی ہم پر فرض ہے؟ جواب یہ ہے کہ ساہو کاری ڈنکے کے کی چوٹ پر ہوتی ہے اور چوری چھپ کر کی جاتی ہے۔ یہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا اور یہ ہی ہمارے دین نے بتایا ، سوائے راہِ خدا میں خرچ کرنے کہ وہ پوشیدہ کرنے کاحکم ہے تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ مگر ہم اس کا الٹ کرتے ہیںِ۔ رہی حوس کی کھوپڑی وہ تو کسی طرح نہیں بھرتی؟ اس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ“ اگر انسان میں سے کسی کو بھی یہ طاقت عطا کردی جائے کہ وہ کسی چیز پر پوری طرح متصرف ہوسکے تو کسی کوکچھ بھی نہ دے اور سب کچھ اپنے لیے مخصوص کرلے “ حالانکہ وہ اب جاہل بھی نہیں رہا ہے کہ یہ سب کچھ لاعلمی میں کرتا ہو، پچھلی قوموں کی تاریخ بھی اسے معلوم ہے، برے کاموں کے نتیجے بھی اسے معلوم ہیں، یہ بھی معلوم ہے کہ کوئی طاقت ایسی ہے جو کہ پورے عالم کو محیط کیے ہوئے جس کا ثبوت یہ ہے کہ کسی کی مرضی سے نہ دن کے بجائے رات ہوسکتی نہ رات کے بجائے دن ہوسکتا ہے؟ چاہیں وہ کتنی ہی دولت کا مالک ہو اور کتنے ہی وسائل کا مالک کیوں نہ ہو۔ہر ایک کا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ،مگر اس سے سبق لینے کو کوئی تیار نہیں ہے؟ خود کو بدلنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے رحم اپنے اوپر لازم فرمالیا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک لوگ بھلائی کو بھولے نہیں ہیں جیسے بل گیٹ کہ انہیں اگر اللہ نے نواز ا تو انہیں انسانیت یاد رہی اور دنیا سے اپاہجی دور کرنے کی ٹھان لی جبکہ کچھ نیک بخت مسلمانوں نے اس میں ملاوٹ اور کچھ نے رکاوٹ ڈال نے کی ٹھانی ہوئی ہے؟ حالانکہ بل گیٹ نے یہ کہیں نہ کہیں ضرور پڑھا ہوگا یا سنا ہو گا ،ہمارے علماءکی زبانی کہ ان کا وہاں کوئی حصہ نہیں ہے؟ کی تفصیل بتا = ہمیں افسوس اس پر ہے کہ ان میں اس طرف توجہ دینے والے بہت ہی کم ہیں جن کو مسلمان کہتے ہیں اور بہ زعم ِ خود اپنے آپ کو جنت کاٹھیکیدار بھی کہتے ہیں؟ جن کا بقول ان کے یہ یقین ہے کہ انہیں ایک دن اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے پیش ہو نا ہے اور جہاں ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس قسم کا یقین ہے کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ ہم پر نگراں ہے، وہ دانا ، بینا ،بصیر اور خبیر بھی ہے؟ مگر کبھی غلطی سے بھی نہیں سوچتے کہ چکر بازی وہاں کیسے چلے گی؟ اگر کوئی سوچتا بھی ہو گا، تو مولوی صاحب یہ کہہ کر اس کا خوف زائل کر دیتے ہیں کہ وہ بڑا غفور الرحیم ہے یعنی بڑارحم کرنے ا و ر معاف کرنے والا ہے۔ اور وہ اس امید پر چند دیگیں پکاکر بانٹ دیتے ہیں کہ وہ بھی خوش ہو جائےگا؟ جبکہ اسے خوش کرنے کے لیے طریقے اس نے خود ہی بتادیے ہیں ان میں شرط اول یہ ہے کہ اس کی راہ میں جو خرچ کیا جائے وہ مالِ حرام سے نہیں مالِ حلال سے ہونا چاہیے کسی ہیرپھیر سے کمائی ہوئی دولت سے نہیں؟ مگر یہاں علماء اس کی مشکل کشائی کر دیتے ہیں یہ کہہ کر چونکہ دنیا میں اب حلال کہیں ملتا ہی نہیں لہذا اگر کسی کے مال میں حلال کا غلبہ ہے تو بھی چلے گا؟ جیسے پہلے لوگ چھان بین کا اہتمام کیا کرتے تھے کسی کامال کار خیر میں قبول کر تے ہوئے ؟اب بھی کریں تو پھر کسی کا مال بھی قابل ِ قبول نہیں رہے گا اور مولوی بیچارے بے روز گار ہو جائیں گے؟ااور فلک بوس مساجد اورمدرسے بننے بند ہو جائیں گے؟ جبکہ تبلیغ کا اصول ہم نے انبیاء کرام (ع) کی حیات طیبہ سے یہ سکھا ہےکہ جہاں گناہ گاروں کی کثرت ہو وہاں خوف خدا دلاکر توبہ کی طرف راغب کرو اس پر انہیں اللہ کے انعامات کی خوشخبریاں سناؤ۔ ممکن ہے کہ انہوں اس کا الٹ پرھ لیا ہو؟ واللہ عالم جبکہ آپ ٹی وی شو پہ جائیے ہر مفتی اس پر پریشان ملے گا کہ حرام کو حلال کرنے کے لیے وہ کونسی صورت نکالے کہ دین میں کوئی گنجائش پیدا ہو جائے لہذا آپ کو ایسے ایسے مولوی ملیں گے؟کہ دین میں آسانیا ں پیدا کرہی لیتے ہیں۔ جبکہ جہاں آسانیاں پیدا کرنے کا حکم ہے وہاں اگر مائک آپ ان کے ہاتھ میں دیدیں تو ایک چھوٹی سی بات اتنی بڑی بیان کریںگے کہ نمازی جب تک نہ چلا اٹھیں یا ٹی وی پرہیں تو اینکر آڑے نہ آئیے تو پورا پروگرام ہی ایک ہی کے ہی ارشادات عالیہ پر ختم ہو جائے گا اور دوسرے عالم کو اپنی ارشادات عالیہ بیان فرمانے کا موقع ہی نہیں ملے گا؟یہ تھا ہمارے یہاں ہدایت یافتہ اورنیکوکار لوگوں کاعالم ؟ اب ان کا عالم دیکھئے جوکہ اقتدار اور مال کے پیچھے جان دیتے ہیں ان میں سے بعض تو اتنے تجربے کار ہیں کہ پھانسی کا پھندہ ان کی اکڑی ہوئی گردن کو چھوکر گزر گیا؟ مگر اس کے ساتھ ان کے دل سے خوفِ خدا بھی لے گیا؟ جب آتے ہیں وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے۔ پہلے یہ معززین کے بارے میں نہیں بلکہ عادی مجرموں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ جب جیل سے رہائی پاجاتے ہیں تو وہاں اپنا توا ،پرات دھو مانجھ کر رکھ آتے ہیں تاکہ ان کے شاگرد ان کی واپسی تک ان کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تاکہ کوئی اور ان کو گندہ نہ کردے اور ان کی پارسائی میں فرق پڑے؟ لیکن اب یہاں سیاست میں جو بھی بر سر ِاقتدارآتا ہے وہ جانے والوں کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتا تو یہ ان کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اب ایسے میں احتساب کی باتیں ، کون کرتا ہے گناہ و ثواب کی باتیں۔ یہاں ٹیپ کا بند یہ ہے کہ یاد رکھتے ہیں سب حساب و کتاب کی باتیں ۔ ایک واقف کار کل ٹی وی بتارہے تھے کہ یہ تو ابھی صرف ایک وکیل فرم کی سائڈ ہیک ہوئی ہے جبکہ اس قسم کی چارسو دنیا میں مزید موجود ہیں؟ جنہیں ایک نہ ایک دن ہیک ہو نا ہے اور دنیا کو ان مقدس چہروں کو بے نقاب دیکھنا ہے جن کا ابھی تک کوئی پردہ رکھے ہوئے ہے۔آپ کس کس کاپردہ اٹھائیں گے اور اس کے بعد تحقیقاتی کمیشن بنوائیں گے پہلے ہی الماریوں میں ایسے کمیشنوں کی فائیلیں ٹنوں کے حساب سے پڑی ہوئی ہیں،۔اگر کوئی جج اپنی اور اپنے بچوں کی جان خطرے میں ڈال کربے لاگ فیصلہ کر بھی دے تو اس پر عمل کون کرائے گا۔ عمل کرانے والے لوگ کہاں سے آئیں گے؟ پہلے زمانے کہ ایک درمند شاعر کہہ گئے تھے جنہوں نے تیرہ سوسال بعد قوم کو گل وبلبل والی عشقیہ شاعری سے اسلامی شاعری طرف متوجہ کیا تھاکہ “ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو نہ ہو خیال ،خود اپنی ہی حالت بدلنے کا؟ اب تو وہ دور ہے کہ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک اکاونٹینٹ کسی سیٹھ کے پاس ملازمت کے لیے انٹر ویو دینے گیا تو اس سے سوال پوچھا گیا کہ تم کتنے فیصدٹیکس بچا سکتے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ حضور! آپ بتا ئیں کہ آپ کتنے فیصد ٹیکس دینا چاہتے ہیں ؟ جہاں کار وبار اس پر چل رہا ہو کہ کون کتنا ٹیکس بچا کر دے سکتا ہے، ملازمت تو اسی کو ملنا ہے اور اسی طرح کاروبار چلنا ہے؟ وزیر اعظم اس مسئلہ پر دو د فعہ ٹی وی پر آچکے ہیں؟ قوم ان کے احتساب کی بات کر رہی جبکہ ان کے صدقے میں انہیں شیلڈ مل گئی جو انکے علاوہ دو ڈھائی سو پاکستانیوں کے نام اس پہرست میں شامل ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار، آگے میں کچھ نہیں کہتا ؟ کمیشن ہو تو ایسا جو کسی کی رعایت نہ کرے پہلے ملک کے اندر کے چھٹ بہیو ں کو ٹیکس ادا کرنے والوں کی فہرست میں لا یا جائے تاکہ وہ مطالبہ کریں کہ بڑوں کو بھی پکڑا جائے، پھر بڑوں پر ہاتھ ڈالا جائے تب کامیابی ہوگی ؟ اگر ایسا ہو جائے تو انکم ٹیکس محکمہ میں کوئی ملازمت کے لیے تیار نہیں ہوگا ایک شہر لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں روپیہ میں کوئی نہیں لے گا؟ ہمارے ان ہم وطنوں یہ سن کر اس بات پر حیرت ہوگی کہ لوگ سرکاری ملازمتوں میں یورپ اور امریکہ میں بہت کم جاتے ہیں کیونکہ تنخواہیں کم ہیں جبکہ نجی کمپنیوں میں تنخواہیں بہت زیادہ ہیں؟ اور اوپر کی آمدنی یہاں ہے نہیں،اس لیے جو آپ کانکلتا ہے وہ کوئی روک نہیں سکتا، ورنہ اس پر اس پارٹی کو حکومت کو سود دینا پڑیگا اور روکنے والے کی چھٹی ہو جائیگی ؟اور نہیں نکلتا ہے تو کوئی دلانہیں سکتاکہ اسمیں بھی دلانے والے کی چھٹی ہوجا ئے گی؟ جبکہ ٹیکس دینے والا بھی دینے میں جلدی کرتا ہے؟ کہ جتنی دیر کرے گا وقت کے کلاک کے ساتھ ٹیکس کا بار بھی بڑھتا رہے گا ؟ اسی طرح جرمانوں کے بھی ریٹ مختلف ہیں اگر فوراً ادا کرو تو کم اور مقدمہ بازی میں کوئی جائے اور جتنا وقت لگائے اتنا ہی زیادہ ؟
|