مولا علی علیہ السلام کا قول ھے کی آدمی پر مصیبت اسکے اعمال کےسبب آتی ھے ، یہ بات سو فیصد درست ھے ، ھمارے ملک میں ہر مسلہ ھمارے ھی سبب سے ھے بیروز گاری ، رشوت دہشت گردی کی وارداتیں ، اقربا پروری ، لوٹ مار قتل غارت عدم بر داشت خود غرضی ،جھوٹ غرض یہ کے ھر لعنت جس سے قومیں ملک تباہ و برباد ھوتے ھیں ان سب میں ھم سب برابر کے مجرم ھیں اگر یہ سب جرم عام ھیں اس ملک میں تو ھم سب ھی بلا واسطہ یا با لواسطہ ضرور ملوث ھیں کھیں خود یہ سب کرا رھے ھوتے ھیں کھیں سب ھوتا دیکھ کر خاموش ھیں
یاد رھے خاموش رھنے والا بھی جرم کرنے والے جیسا ھی ھے اگر ھم جرم ھوتا دیکھ کر چپ ھیں تو ھم نے اس کو اپنے رضا مند ھونے کا ثبوت دیا ھے - ملک میں دہشت گردی پروان چڑھی دو لاکھ معصوم جانوں کا ضیاع ھوا ھم بحیثیت قوم چپ رھے ، ملک میں رشوت کو بازار گرم رہا سب خاموش بلکہ اس رسم کو بڑھا نے میں ساتھ دینے لگے اور اپنے کاموں میں رشوت دینے یا لینے میں راہ ھموار کرنے لگے غرض کسی نے بھی احتجاج نا کیا بلکہ اس طریقہ کار کو اپنایا ، اسی طرح اگر کوئی بھی اس ملک کا شہری دہشت گردی کا شکار ھو تو سب کو درد تکلیف محسوس ھونا تھی بحیثیت قوم سب کا درد سانجھا ھوتا ھے لیکن صرف وھی لوگ ھی باہر نکلے جو متاثر تھے اس بے حسی اور لاپرواھی کا نتجہ نکلا کے مفاد پرست اور خود غرض افراد کا ٹولہ ھماری نبضیں پہچان گیا اور اپنے اپنے مفاد میں ھمیں بے جان چیز سمجھ کر استعمال کرنے لگا اگر ھم ایک احساس ایک درد ایک نام سے چلتے تو کسی کو جرات نھیں ھمیں غلام بنائے وہ چاھے ملک کے اندر سے ھمارے دشمن ھوں یا بیرونی ،
آج جو ھمارے ملک کے سب سے بڑے عہدہ دار کے بارے میں جو انکشافات ھو رھے ھیں یہ قطعا ئی غیر یقینی نھیں ھیں ، ان میں کسی غیر ملکی اخبارات سے گواھی لینے کی بھی ضرورت ت نھیں تھی اگر ھم زندہ قوم کی طرح ھوتے تو ایک ملک جس میں کئی جگہ پر سکول نھیں ھیں اگر ھیں تو وہ عمارات سے محروم ھیں اور ملک میں کافی علاقے ایسے ھیں جہان بنیادی صحت کی سہولیات نھیں ھیں ھسپتال نھیں ھیں سینکڑوں معصوم جانیں سسک سسک کر مر جاتی ھیں ، جہاں پارکوں مسجدوں سکولوں میں سیکورٹی کے انتظامات کے لئے پولیس دستیاب نھیں ھے ۔ توانائی کا بحران ھے ملکی صنعت تباھی کے دھانے پر ھے مہنگائی ٹیکس کے بھر مار ھے لوگ ایک دوسرے کو غارت کرنے پر تولے ھیں دہشت گردی سے نبٹنے کی کوئی راہ نھیں نکالی جاتی مجرموں کو سزا نھیں ھوتی بلکہ الیکشن لڑا کر معز ز ھونے کا سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ھے ، یہ سب وہ سنگین جرم ھیں جو ھمیں ھمارے بر سر اقتدار طبقہ نے دیئے ھیں اور ایک ایک شواھد کے ساتھ ھمارے سامنے ھیں ھم چپ ھیں تو یہ ھماری اپنی کم عقلی ھے ھمیں اس غفلت سے باھر نکلنے کی اشد ضرورت ھے ھم نے خود ان لوگوں کو خود پر مسلط کیا ھوا ھے اور سر پر بٹھا کر اپنے خون پسینے کی کمائی سے ان کو نقب لگانے کی اجازت دے رکھی ھے ایک ایک پاکستانی سے گزارش ھے اپنے حق کو پہچانو اپنے ملک سے محبت کا حق ادا کرو
اٹھو باہر نکلو غاصبو کو سبق سکھاؤ ان سے جان چھڑاؤ آج نئے عزم کی ضرورت ھے سب پاکستانی ھو کر اپنے ملک کا دفاع کرو - یہ لوگ ھمیں ایک ایک کر کے مار رھے ھیں اور خود اقتدار کے دولت ، مزے لوٹ رھے ھیں ، دہشت گردی میں بھی تو عام پاکستانی ھی مرتا ھے ان کے تو ایک ایک فرد پر پوری فورس آجاتی ھے حفاظت کرنے - ھمارا خون پانی بنا ھے ھمارا پیسے پر یہ خون خوار انسان کی شکل میں بھیڑیئے پل رھے ھیں ، اب وقت ھے ھم خود ھی اپنا دفاع کریں ان سے جان چھڑائیں
اب اگر دیر کی تو ھماری نسلیں بھی آزادی کی مفہوم کو نا سمجھیں گی
غلامی تو غلامی ھی ھے وہ چاھے کسی دوسرے ملک کی ھو یا افراد کی آج ھمارے ملک پر چند افراد کا قبضہ ھے وہ ھمارے سیاہ سفید کے مالک بنے ھیں اور باقی ساری قوم مفلوج بن چکی ھے - یہ بھیڑیا صفت حکمران ھمارے لئے کچھ بھی اچھا نھیں کریں گے کبھی بھی نھیں یہ صرف اپنی اپنی نسلوں کی بھلائی کے لئے باری باری آتے رھیں گے اور ھمیں زندہ در گور کر کے ایک سے ایک مسائل بھی گھیرتے رھیں گے اور ھم بھنور سے باہر نھیں نکل پائیں گے ،