پاکستان ، افغانستان اور ہندوستان میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گیے، جس کے باعث تینوں ممالک کے متاثرہ علاقوں میں شہری خوف زدہ ہوکر گھروں، دفاتر اور دیگر عمارات سے باہر نکل آئے۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 7.1 تھی جبکہ اس کا مرکز کوہ ہندو کش میں 236 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔امریکی جیولوجیکل سروے نے اس زلزلے کو 6.6 شدت کا قرار دیا جبکہ اس کی گہرائی کوہ ہندو کش میں 210 کلو میٹر بتائی گئی۔اکستان میں زلزلے کے زیادہ شدید جھٹکے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں محسوس کیے گئے، چترال، گلگت، پشاور، سوات، مردان، ایبٹ آباد کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب میں راولپنڈی، لاہور کے علاوہ آزاد کشمیر اور سندھ کے بعض علاقوں میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا۔
شنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) ، واٹر ایند پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) ، صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی اے) اور ضلعی حکومت سے نقصانات کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔
خیبر پختونخوا کی پی ڈی ایم اے کو گلگت، چترال اور صوبے میں ممکنہ نقصانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
این ڈی ایم اے نے شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ڈان نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کی گئی، البتہ اسلام آباد سے کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 6 افراد کو زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔حکام کے مطابق زلزلے کے دوران بدحواسی میں دونوں افراد بھگدڑ کے باعث زخمی ہوئے۔
ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت شمالی ریاستوں پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ، راجستان، اتر پردیش اور جموں کشمیر میں زلزلہ محسوس کیا گیا۔
زلزلہ آتے ہی شہری عمارتوں سے باہر آ گئے۔ہندوستانی نشریاتی ادارے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی دارالحکومت میں میٹرو ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔
پاکستان کے ساتھ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔