تھے معین الدین اجمیریؒ جو ولیوں کے ولی
منبعِ رُشدو ہُدیٰ ہے ان کی عملی زندگی
ہے ولایت ان کی لوگوں کے دلوں پر حکمراں
ہیچ جس کے سامنے ہے تخت و تاجِ خُسروی
عرس جو اجمیر میں جاری ہے ان کا آج کل
دیتا ہے سب کو پیامِ امن و صلح و آشتی
جوق درجوق آرہے ہیں لوگ طول و عرض سے
مطلعِ انوار ہیں ان کے فیوضِ باطنی
ہے مشامِ جاں معطر رہروانِ شوق کی
روح پرور ہے یہ گلزارِ ولایت کی کلی
ہے سفیرِ احمدِ مختارﷺ کی یہ بارگاہ
اہلِ دل کی روح کو ملتی ہے جس سے تازگی
مذہب و ملت کی ہے ہر قید سے یہ بے نیاز
ملتا ہے سب کو یہاں آکر سرورِ معنوی
ہے شرابِ معرفت میخانۂ چشتی میں عام
پھر بھی باقی ہے ابھی تک کیوں نہ جانے تشنگی
ہے تصوف سے شغف جس کو وہ ہے ان کا مرید
عالمِ روحانیت کرتا ہے اُن کی پیروی
سایہ گُستر ان کا روحانی تصرف اس پہ ہے
اُن پہ قرباں ہے متاعِ شوقِ برقیؔ اعظمی