15.10.2026, 06:10pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
صحت/سائینس
 

شریک حیات کی موت کا غم 'دل' پر بھاری پڑتا ہے: رپورٹ
17.04.2016, 09:05am , اتوار (GMT+1)

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اپنے کسی پیارے یا شریک حیات کے اچانک دنیا سے رخصت ہو جانے جیسے شدید دکھ کے واقعات آپ کے دل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اس غم سے آپ کا دل حقیقی معنوں میں پھٹ سکتا ہے۔

آہس یونیورسٹی کے محققین کہتے ہیں کہ اچانک کوئی بڑا جذباتی دھچکا جیسے شریک حیات کی موت کا صدمہ اٹھانے سے دل کی ایک بیماری' ایٹریل فیبریلیشن ' پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جب کہ دل کی اس بیماری سے بعض اوقات دل کی دھڑکنیں بند بھی ہو جاتی ہے اسے کارڈیک اریسٹ یا حرکت قلب کا بند ہو جانا کہتے ہیں۔

محققین نے اپنے مطالعے میں اچانک صدمے کے ایک عام اثر کا اندازہ لگایا ہے۔ جسے 'اردھمیاز' یعنی دل کی بے قاعدہ دھڑکنوں کی بیماری  ایٹریل فیبریلیشن یا 'اختلاج قلب'  بھی کہا جاتا ہے۔

مطالعے کے لیے ڈنمارک کے ایک تفصیلی میڈیکل نظام کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ جس میں 1995 سے 2014 کے درمیان   88,000ہزار سے زائد افراد میں پہلی مرتبہ بے قاعدہ دل کی دھڑکن کی تشخیص ہوئی تھی۔

محققین نے بعد میں  880,000 صحت مند لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ  پہلے گروپ کے لوگوں کےحالات کا موزانہ کیا ہے۔

اس مدت کے دوران دونوں گروپ میں سے تقریبا 19 فیصد لوگوں نے اپنے شریک حیات کو کھویا تھا اور دونوں گروپ میں بہت سے لوگ ایٹریل فیبریلشن میں مبتلا ہو گئے تھے۔

لیکن یہ بیماری ان لوگوں میں زیادہ دیکھی گئی جنھوں نے ابھی ابھی اپنا ساتھی کھویا تھا خاص طور پر جنھوں نے شریک حیات کی اچانک موت کا صدمہ جھیلا تھا۔

اس دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ کیا شریک حیات کی موت اچانک دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی تھی یا پھر طویل علالت کے باعث موت واقع ہوئی تھی۔

ڈنمارک میں آہس یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر سائمن گراف نے جریدہ 'اوپن ہارٹ'  میں لکھا کہ یہ خطرہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے دوگنا تھا جو  ساٹھ سال سے کم عمر تھے اور جنھوں نے اچانک اپنے صحت مند ساتھی کو کھو دیا تھا۔

ڈینش محقق سائمن گراف کے مطابق شریک حیات کی موت کے فورا بعد یعنی 8 سے 14 دنوں کے درمیان  شرکاء میں ایٹریل فیبریلیشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا تھا اور یہ لوگ کم از کم ایک سال تک اس بیماری کے بڑے خطرے میں تھے۔

محققین نے دیگر عوامل کو شامل کرنے کے بعد اندازہ لگایا کہ مجموعی طور پر دل کی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے لیے 41 فیصد زیادہ بڑھا تھا جو اپنے شریک حیات کی موت کے غم میں سوگوار تھے۔

لیکن جن لوگوں نے اچانک شریک حیات کو کھویا تھا وہ ایٹریل فیبریلیشن کے 57 فیصد خطرے میں زیادہ تھے۔

 انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شدید دباؤ نارمل دل کی دھڑکنوں میں خلل ڈالتا ہے اور سوزش کے ذمہ دار کیمیکلز کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔

مصنفین نے جریدہ میں لکھا کہ ''شریک حیات کی موت زندگی  کے سب سے غم ذدہ واقعات میں سے ہے اور یہ زیادہ تر لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور یہ صدمہ ان کی برداشت کی صلاحیت سے بڑھکر ہوتا ہے ''

انھوں  نے لکھا کہ'' کثیر آبادی کی بنیاد پر کیا جانے والے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ انسانی زندگی کا یہ بڑا غم دل کی بیماری ایٹریل فیبریلیشن کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے اور اس بیماری کا خطرہ سال بھر قائم رہتا ہے۔''

مصنفین نے متنبہ کیا کہ مطالعہ سے صدمے اور دل کی بیماری کا براہ راست تعلق ظاہر نہیں ہوا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدمہ کو عام طور پر دل کی بیماریوں ذہنی بیماری یہاں تک کے موت کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے۔

:دیگر مضامین
(13.04.2016) عام روٹین میں کافی پینے سے جگر کی بیماریوں کو روکنا ممکن ہے۔
(09.04.2016) نمک کے استعمال ميں کمي سے معدے کے کينسر سے بچاجاسکتا ہے، تحقيق
(05.04.2016) وٹامن سی کا استعمال فالج سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تحقیق
(29.03.2016) درد کا علاج دواؤں کے بجائے ذہن سے بھی ممکن ہے:نئی طبی تحقیق
(23.03.2016) ایک گھنٹےسے زیادہ موسیقی سننا نقصان دہ ہے: عالمی ادارہ صحت
(19.03.2016) سفر جل ایک پھل جو معدہ کے لیے بہترین ہے اور ہیضہ کو ختم کرتا ہے
(16.03.2016) طب امام رضا اور جدید حفظان صحت ۔ ایس ایچ بنگش
(13.03.2016) ورزش ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق
(08.03.2016) زیتون شفا ہے اور ایک معجزاتی پھل ہے ۔ از۔ رافیعہ گیلانی
(27.02.2016) خبردار: خراٹے بنا سکتے ہیں آپ کو ذیابیطس کا شکار،نئی تحقیق
(27.02.2016) بچوں کے بیڈروم میں نئے گیجٹس کی موجودگی نقصان دہ: تحقیق
(23.02.2016) دل کی پیوند کاری کے بعد 33 سال تک زندہ رہنے والا شخص چل بسا
(23.02.2016) ماں کا دودھ پینے والےبچے ذہین اور دولت مند ہوں گے
(21.02.2016) چہرے کی جھریاں ختم کرنے کے لئے گھریلو چیزوں سے تیار کردہ ماسک
(19.02.2016) آئنسٹائن کے نظرئے کی توثیق: پاکستانی نژاد سائنس داں کا کارنامہ
(16.02.2016) کھا نے میں نمک کا کم استعما ل صحت کے لئے مفید ہے
(14.02.2016) سائیکل چلانا صحت کے لئے انتہائی مفید۔ لندن میں ہونے والی تحقیق
(11.02.2016) کیا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے کینسر ہو سکتا ہے؟
(10.02.2016) کولمبیا: تین ہزار حاملہ خواتین زیکا وائرس کا شکار
(08.02.2016) 'زیادہ شکر کا استعمال موٹاپے اور دانتوں کی خرابی کا باعث'



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں