کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں شہید ہونے والے ساتوں پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ دوسری جانب رینجرز نے اورنگی ٹاؤن میں ملزمان کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کردیا۔ نماز جنازہ میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر داخلہ سہیل انور سیال، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
دوسری جانب دہشت گردی کے واقعہ کے بعد رینجرز نے اورنگی ٹاؤن گل بہار، پھول والی گلی میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
رینجرز اہلکاروں کی جانب سے مخصوص گھروں کی تلاشی لی گئی۔ پولیس کی جانب سے چار مختلف ٹیموں نے تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی جارہی ہے۔ادھر اسلحہ کی فارنزک رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔ اورنگی ٹاؤن واقعہ میں استعمال ہونے والا اسلحہ پہلی بار سال دو ہزار چودہ میں استعمال ہوا۔ سال دو ہزار پندرہ میں بھی اسی اسلحہ سے مختلف وارداتیں کی گئیں۔ اسی اسلحہ سے اقبال مارکیٹ، پاکستان بازار اور سر سید تھانوں کی حدود میں وارداتیں کی گئیں۔ اورنگی ٹاؤن میں استعمال ہونے والا اسلحہ دس سے زائد وارداتوں سے میچ کرچکا ہے۔ ایک رکن اسمبلی اور ایک پولیس اہلکار کو بھی اسی اسلحہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔