سندھ کی زرخیز زمین اپنے بہت سارے معتبر حوالوں کی بدولت خاص اھمیت کی حامل ھے ۔ یہاں کی مٹی میں عشق و سرمستی

کی دائمی مہک اھل دل کو اپنا اسیر بناتی ھے ۔ یہ صوفی سالک درویشوں کی سرزمین ھے
سندھ کی زمین و زبان سے محبت کرنے والے اھل دل کی بڑی تعداد حیدرآباد میں مقیم ھیں اور اسی وجہ سے یہ اھل الخیر و اھل علم کی محبت بھری بستی ھے
گذشتہ دنوں اپنے نجی دورہ پاکستان کے دوران میرا اپنے آبائی شہر حیدر آباد جانا ہوا اور اس بار دریافت اور انکشاف کا ایک نیا در مجھ پر وا ہوا کہ میری ملاقات سندھ کی مشہور ادبی علمی اور نشریاتی شخصیت اور سندھ کے معروف و مشاق و پختہ کار ادیب جناب محمد خان سے ھوئی جن کا ادبی نام زیب سندھی ھے
گو اس ملاقات سے قبل بھی میں زیب سندھی سے واقف تھی لیکن اس بار مجھے ان سے متعارف کرانے میں دو شخصیات کا عمل دخل تھا۔ اول لندن کی مشہور و معروف ادبی شخصیت محترم المقام جناب صفدر ھمدانی صاحب جو گذشتہ 50 سال سے علم و ادب کی خدمت کر رھے ھیں اور دوسری شخصیت کویت میں مقیم جناب شاھد حنائی کی ھے جو اپنی ادبی خدمات و سندھی ادب کو اردو میں ترجمہ کرنے کے فن میں اپنی مہارت کے باعث ایک خاص مقام کے حامل ھیں
وہ بڑی محبت سے زیب سندھی کی بیشتر خوبصورت تحریروں کو اردو کے قالب میں ڈھالتے ھیں
سندھی زبان کے اس صاحب طرز ادیب کی تحریروں و کتابوں میں اپنی سرزمین سے پیار و ایثار کرنے کادلفریب رنگ نمایاں نظر اتا ھے اپنی بے حد حساس طبعیت و تخلیقی ذھن کی بدولت زیب سندھی نے علم و قلم سے بہت مضبوط رشتہ استوار کر لیا اعلی تعلیمی مراحل طے کرکے ریڈیو و درس وتدریس کے شعبے سے منسلک ھوۓ
داستان گوئ کا ھنر و افسانہ نگاری کا رجحان بھی اسی سرزمین کا تحفہ ھے زیب سندھی نے 1974 میں اپنی پہلی کہانی ۔۔زخمی دل ۔۔ کی اشاعت کے ساتھہ ھی سندھ بھر میں افسانہ نگاری ،ڈرامہ نگاری کالم نگاری ،شاعر و بہترین مترجم کے ساتھ ریڈیو اور ٹی وی پر اپنے خوبصورت پروگرامز کی بدولت خوب شہرت پائی
علم دوست
اعلی ادبی ذوق کے حامل
ماھر تعلیم
علم پسند
علم کی ترویج میں مصروف و مشغول
زیب سندھی کی قابل ستائش قلمی خدمات کے سبھی معترف ھیں اور انکی سادگی اخلاص و علم دوستی کی بدولت لوگ انکو بہت محبت و عزت کی نظر سے دیکھتے ھیں ایک اچھا اور مہربان انسان یادگار و شاندار ادب تخلیق کر سکتا ھے
انکی کتابوں کی مسلسل اشاعت جاری ہے جو انکی زرخیز ذہن کی غمازی کرتا ہے
دیگر ادبی و علمی و قلمی سرگرمیوں کی بدولت انکی کتابوں کا ترجمہ بھی ھوا جس کو اھل نقد و نظر سے خوب داد وتحسین ملی
زیب سندھی سے اس یادگار ملاقات میں مجھے انکی سچائ سادگی و انکساری نے بہت متاثر کیا اور ان سے ملاقات میں یہ بات سچ نکلی کہ ادیب و شاعر حساس قلم کار کسی بھی باادب معاشرے کا فخر ھوتے ھیں
دینا بھر میں اپنے قلم کاروں کو عزت و محبت دینے کا رواج عام ھے لوگ کتابوں سے پیار کرتے ھیں اور کتابیں خرید کر ادیبوں سے اپنی گہری عقیدت کا آظہار کرتے ھیں ، مگر بدقسمتی سے ھمارے معاشرے میں 500 کی تعداد میں شائع ھونے والی کتابوں کو بھی خرید کر نیہں پڑھتے ھیں
زیب سندھی کی ھر کتب اھل علم و قلم سے بھرپور داد وصول کرتی ھے
زیب نے مجھے بہت احترام سے ریڈیو حیدرآباد کے ریکارڈنگ روم میں انٹرویو کے لیئے مدعو کیا اور اپنی تہزیب کے مطابق زیب سندھی نے مجھے انتہائی احترام و خلوص سے سندھ کا خوبصورت تحفہ دیا جو سندھ کی روائتی اجرک اور انکی کتب پر مشتمل تھا
زیب سندھی نے ملازمت کی ابتدا ریڈیو پاکستان سے پروڈیوسر کے طور پر کی اور تربیت کے دوران اسلام آباد میں ریڈیو کی اکیڈیمی میں انکے اساتزہ میں صفدر ھمدانی بھی شامل تھے جن سے انکا خاص لگاؤ ہے اور اپنے استاد کا ذکر کرتے ہوئے زیب سندھی واقعی زیب نشریات لگتے ہیں۔ ان سے اپنے استاد کا ذکر سن کر کون کہہ سکتا ہے کہ اس دور میں شاگرد استادوں کی عزت نہیں کرتے
زیب سندھی نے جلد ہی ریڈیو کو خیر باد کہہ کر درس و تدریس سے ناطہ جوڑا اور اسکے ساتھ ساتھ ریڈیو کے مائیک سے بھی انکا عشق بدستور جاری و ساری ہے۔
سندھی ڈرامہ نگاری میں زیب کا شمار صف اول کے ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے اور انکے ڈرامے ٹی وی ریڈیو پر بہت پسند کیئے جاتے ہیں۔