16.10.2026, 01:55pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

انہونی بات ہوگئی جو پہلے نہیں سنی۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
23.04.2016, 04:00am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی
   ہم پہلے بھی بہت سی دفعہ عرض چکے ہیں کہ پاکستان سے ہم چھ مہینے بارہ گھنٹے پیچھے اور بقیہ چھ مہینے 13 گھنٹے پیچھے رہتے ہیں ؟ اس وجہ سے دن کی خبریں رات کواوررات کی خبریں دوسرے دن صبح کو ملتی ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی ہیڈماسٹر نے کسی بچے سے پوچھا کہ بیٹا تمہارے ابّا کیا کرتے ہیں؟ یہ پہلے زمانے کی بات کہ اسوقت ٹیچروں کی تنخواہیں کم تھیں تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اساتذہ اپنے پاس پڑھنے والے بچوں سے انکے والدین کی مالی حیثیت ٹٹولا کرتے تھے اور وہ اس قسم کے سوالات کرکے اندازہ لگالیتے تھے کہ ان تلوں میں کتنا تیل ہے؟ وہ ہی نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر صاحب کو بھی ہم نے اپنے مریضوں سے آمدنی پوچھتے دیکھا اور اس سے مریض کی حیثیت کے مطابق بل بناتے دیکھا؟ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر بل اس کی حیثیت سے کم ہوگا تو اول وہ دوا کو نالی میں پھینک د ےگا اور اگر کھابھی لی تو فائدہ نہیں کریگی؟ بعد میں بھٹو صاحب آئے تمام اسکولوں اور کالجوں کو یکساں بنانے کے لیے قومی ملکیت میں لے لیا۔ جب سے اساتذہ خود کفیل ہوگئے۔ اب ان کے ذرائع اتنے ہیں کہ وہ ہر طرح سے خود کفیل ہیں اور اب اس قسم کے سوالات انہیں کرنے کی ضرورت نہیں رہی؟ یہ بہت پرانی بات ہے چونکہ بچے کاجواب بڑا دلچسپ تھا وہ ہم آپ کو سنا کر آگے بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا سر! موسم ِ گرما میں وہ آئی سی ایس ہوتے ہیں اور سرما میں پی سی ایس؟ ماسٹر صاحب جواب سن کر چونک اٹھے! مگر انکا دل  نہیں مانا کہ کسی سی ایس پی آفیسر کابچہ اوروہ عام اسکول میں پڑھے ناممکن ! انہوں نے ضمنی سوال کرڈالا کہ یہ کیسے ممکن  ہےکہ ہرسال تمہارے والد صاحب کاکیڈر بدل جاتا ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ سر ! وہ گرمیوں میں آئس کریم فروخت کرتے ہیں اس وجہ سے وہ آئس کریم سیلر کہلاتے ہیں اور سردیوں میں  اسکولوں میں آلو کے چپس فروخت کرتے ہیں لہذا پٹیٹوچپس سیلر کہلاتے ہیں۔ 

اسی طرح ہمارے یہاں نظریہ ضرورت کے تحت موسم بدلتے ہی، وقت بدل جاتا ہے، سورج چونکہ اللہ سبحانہتعالی کے حکم سے نکلتا ہے اس پر کسی کا زور نہیں چلتا نہیں اسلیے وہ کبھی دن سے ایک گھنٹہ چھنتے ہیں اورکبھی رات سے تاکہ ان کے کام کے اوقات گھٹیں نہیں؟ چونکہ پاکستان میں وقت ہر ایک پاس فالتو ہے وہ نظام الا وقات آگے پیچھے کرکے کام چلا لیتے ہیں۔مشرف صاحب نے وہاں بھی یہ تجربہ کرکے دیکھا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکا؟ یہ تھی ہم تک خبر لیٹ پہنچنے کی وجہ؟
 چونکہ ہم آج بہت خوش ہیں کہ صبح ہی صبح ایک اچھی خبر وہ بھی ایک کم انہتر سال کے بعد سنی کہ ایک نہیں بلکہ ایک کم ایک درجن فوجی افسران کا پاکستان میں احتساب ہوگیا۔ جو پاکستان بننے سے لیکر آج تک نہیں ہوا، حالانکہ ان کا بھی نہیں جنہوں نے پاکستان توڑا؟ لہذا بلا خوفِ تردید ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں ایک انہو نی بات ہوگئی ہے؟ جبکہ پاکستان بنا مسلم معاشرہ پیدا کرنے کےلئے تھا؟ اسلام نے ہمیشہ خود احتسابی پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔جسکی مثالیں حضور (ص) کی ابتدائی زندگی سے لیکر ان کے وصال اور اس کے بعد خلفائے راشدین کے دور تک ملتی ہیں۔ یہاں ہم حضور (ص) کی زندگی سے صرف دو مثالیں پیش کررہے ہیں ؟

 ایک یہودی سے انہوں (ص) نے پانچ من اور کچھ سیر کھجوریں ادھار لیں، جسے کہ وقت معینہ گزرنے کے بعد وصولی کے لیے دربار ِ رسالت میں آناپڑا اور وہ مطالبہ کرتے ہوئے ادب ملحوظ نہیں رکھ سکاا۔؟یہ صحابہ کرام کو بہت برا لگا اور اس پر بہت ناراض ہوئے ؟مگر حضور (ص) نے صحابہ کرام کے رویہ پر یہ فرماکر ناپنسدیدگی کا اظہار کیا کہ “ وہ حق پر ہے تمہارا رویہ غلط تھا؟ مزید یہ بھی کہ وہ امتیں زمین پر باقی نہیں رہتیں جس کے کمزور کو اس کے با اثر آدمیوں سے اپنا حق وصول کرنے میں دشواری پیش آئے“ تفصیل طویل ہے مختصر یہ کہ وہ بار بار پھیلتا رہا اور اس کے با وجود انہوں (ص) نے اس کے سارے مطالبات پورے کیے اور مزید احسان فرما کرکے اسےرخصت فرمایا اور ایک روایت کئے مطاق وہ خوش ہوکر اور دوسری روایت کے مطابق مسلمان ہوکر گیا؟

 جبکہ آخری واقعہ تو سب ہی کو معلوم ہے کہ حضور (ص) جب مرض موت میں مبتلا تھے تو انہوں نے احتساب کے لیے خود  (ص)کو پیش فرمایا، ایک شخص کے تین دینار نکلتے تھے وہ اسکوادا کرنے کا حکم دیا، جبکہ دوسرا شخص اپنا مقدمہ لیکرپیش ہوا کہ ایک دن حضور (ص) نے اسے کی پیٹ پر کوڑا مارا تھا جبکہ وہ پشت برہنہ تھا اور وہ اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔سب نے اسے سمجھا یامگر وہ نہیں مانا حضور (ص) نے فرمایا کہ جس طرح یہ چاہتا ہے میں اس کے لیے تیار ہوں ؟ اسکی شرط کے مطابق پشت مبارک کو برہنا کیا گیا اور اس نے وہاں کوڑا مارنے کے بجائے مہر نبوت کو چوم لیا ؟ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے بتایا کہ میں نے حضور (ص) کو ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جس کا جسم میرے (ص) جسم سے چھو جا ئے وہ بھی جنت میں جائے گا اس لیے میں نے ایسا کیا؟ رہا جنرلوں اور افسروں کامعاملہ تو وہ حضرت عمر کے دور ِ حکومت میں حضرت خالد  (رض)بن ولید کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ سب کو یاد ہوگا اور ان کانظام حکومت بھی ۔لہذا اب میں مزید تفصیل کو چھوڑتا ہوں اور وہ خبر سنااتا ہوں کہ جوکہ اب آپ کے لیے پرانی ہوگئی  ہے۔ مگر یہ پہلی انہو نی ہونے کی وجہ سے تاابد تازہ رہے گی؟ جس کی ابتدا جنرل راحیل شریف صاحب نے کی ہے ؟ جس نے ان سب کے منھ بند کر دیئے ہیں جو ان پر طنز کر رہے تھے ۔اب جو کو ئی بھی پاکستان میں ان کے کااتباع میں آگے بڑھے گا، وہ عمل ان کے کھاتے میں بھی تا قیامت لکھا جاتا رہے گا؟ جس کی مثال ہمارے یہاں نہیں تھی کہ کبھی کسی ملٹری آفیسر کو سزا دی گئی ہو جوکہ جنرل سے شروع ہوئی اور میجر پر آکر ختم ہوئی ہو؟ اب لوگوں کا وہ اعتراض ختم ہوگیا ہے اور پوری قوم اس اقدام کی تعریف کر رہی ہے کہ انہوں نے احتساب اپنے محکمہ سے شروع کیا لہذا سب اپنے اپنے محکموں سے شروع کریں اور جو سب سے بڑے ہیں وہ اپنی ذات اور اپنے خاندان شروع کریں اور خود کو احتساب کے لیے قوم کے سامنے پیش کر یں ؟ تاکہ پھر کسی کو بیت المال کو خورد برد کرنے کی جراءت نہ ہو؟اگر آپ تاریخ میں جائیں تو وہ سنہری مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسی فوج میں  جنرل اکبر خان سولجر جیسے جنرل بھی ہو گزرے ہیں جو سینیر ہونے کے باوجود خود کو اس عہدہ کا اہل نہ جان کر ریٹائر ہونے کو ترجیح دی۔ مگر بعد میں ایک سیاستدان نے اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ایک ایسے شخص کوکمانڈ رانچیف کے عہدے تک دس سینیر ترین آفیسروں پر ترجیح دیکر کمانڈر انچیف تک پہونچایا جس کے بارے میں فوج اور عوام میں بہت سی افواہیں اور غلط فہمیاں تھیں جب وہ کرنل تھے ؟ جبکہ شفاف قسم کے فوجی افسران میں سے ایک کو ایران میں سفیر بنا دیا گیا اور باقی کو اس غلط بخشی نے مجبور کردیا کہ یا تو وہ ایک جونیر کو سلوٹ کریں یا پھر استعفیٰ دیکر خودکواس ذلت سے بچا ئیں ؟ پھر اسی جنرل نے پاکستان میں جمہوریت کی بساط سمیٹ دی جس کا تسلسل ابھی تک چلتا رہا ہے کہ فوج نے کبھی سامنے آکر حکومت کی کبھی پیچھے رہ کر حکومت کی؟ اب اس کا حل ایک ہے کہ جو سب سے بڑا ہے وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرے ؟ یاکوئی بشمول سیاست داں اسے اتنامجبور کردے کہ سب کو خود احتسابی کی روش اپنا نا پڑے ؟ اور احتساب کاسلسلہ اداروں سے بعد میں پہلے اقتدارِ اعلیٰ شروع ہو؟ اس لیے کہ جہاں مقتدرِ اعلیٰ اس قدر مجبور ہو کہ وہ چوروں کی سرپرستی کرے ، رشوت خوروں کی سرپرستی کرے اور غیر ملکی ایجنٹوں کی سرپستی تو انصاف کہاں سے مہیا ہو گا ؟ جب مسلمانوں کو اسلام یہ سکھاتا ہے کہ صرف بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو برائیوں میں نہیں ؟ جس کی مثال میں نے شروع میں دی کہ ایک طرف وہ ذات تھی کہ جس کے بارے میں حکم ہے کہ انہیں (ص) اپنی جان سے بھی زیادہ چاہو ،تب مسلمان کہلانے کے مستحق ہوگے، مگر وہ  (ص)سبق دے رہے ہیں کہ اگر ایسا کوئی معاملہ ہو جیسا کہ بھول چوک  سےمیرے ساتھ پیش آیا تو بھی میرا نہیں حقدار کا ساتھ دو؟ لہذا جو مقتدرِ اعلیٰ اور ان کے خاندان سے احتساب کرنے کی بات کر رہے ہیں وہ حق پر ہیں، اس لیے کہ قبلہ ٹھیک ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے اور قبلہ ہی غلط ہے تو سب کچھ غلط ہے؟دوسری میں نے سیاسی مثال پیش کی پاکستان کے ابتدائی دور کی اگر ابتدا اسکی سیا سی مصلحت سے نہوتی تو آج یہ صورت حال یہ نہ ہو تی کہ جس کے بھی  “پیرے اٹھاو “ ( کھوجی کے ذریعہ کھوج لگانا)وہ وزیر مشیر اور اقتدار اعلیٰ تک جاتے ہیں ۔

تھانے بکتے ہیں ٹیبلیںروزانہ کی بنیاد پر ٹھیکے پر دی جاتی ہیں ، ڈاکووں سے ساجھے ہیں ،اکا دکا م اپنے دشمنو ں کو راہ سے ہٹا نے کےلوگ لیتے رہتے ہیں ؟ اکثرمقتدرِ اعلیٰ عوام کی مرضی سے نہیں اوروں کی مرضی سے آتے ہیں؟ کبھی پڑوسییوں کی مرضی آتے ہیں کبھی دور دراز ملکوں کے شاہوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں؟ ایسے میں ملک کامفاد کون دیکھے اور کیسے دیکھے ؟ تازہ مثال ہمارے سامنے ہے کہ صرف ایک بڑے آدمی کو پکڑا گیا ۔ اور ایک خاتون پکڑی گئیں جن کے مقدمات رواجی عدالتوں میں نہیں بلکہ خصوصی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اسمیں اتنے ہتھکنڈے استعمال گئے کہ کمانڈر اچیف کا دور ختم ہونے کو آگیا مگر ایک کو بھی سزا نہیں مل سکی جبکہ اسی کمانڈر چیف نے کچھ اپنے ساتھیوں کو ابھی اور کچھ کو پہلے سزا دیکر دکھا دی ؟ اس میں بہت سا سبق ہے پوری قوم کے لیے۔بجا ئے دستور کی دُہائی دینے کہ کوئی کچھ کرنا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے؟

:دیگر مضامین
(16.04.2016) صراط مستقیم سے کجروی کی طرف مراجعت۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(09.04.2016) وکی لیکس کے بعد اب پنامہ لیکس؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(03.04.2016) ان میں سچا کو ن ہے اور جھوٹا کون ہے؟از ۔۔۔شمس جیلانی
(26.03.2016) مصطفی کمال اور ساتھی کس سلوک کے مستحق ہیں؟ ۔۔۔از ۔۔شمس جیلانی
(19.03.2016) عبرت سے دیکھیے مجھے عبرت نگاہ ہوں؟ از ۔۔۔شمس جیلانی
(13.03.2016) ہاتھ کاٹے پاؤ کاٹا پھر بھی سر باقی رہا۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(05.03.2016) صعّرا “ اونٹ کی ٹیڑھی گردن (٢)از ۔۔ شمس جیلانی
(27.02.2016) صعر “یا اونٹ کی طرح ٹیڑھی گرد ن۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(20.02.2016) شہید ِعلم ثاقبہ حکیم؟..... از۔۔۔ شمس جیلانی
(13.02.2016) آزاد ی ِصحافت کے نئے معنی۔۔۔ از..... شمس جیلانی
(06.02.2016) لنکا میں جو بھی دیکھا وہ باون گز کا؟ از۔۔۔شمس جیلانی
(30.01.2016) حکمرانوں کی عافیت خلا پر کرنے میں ہے۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی
(23.01.2016) اچھے طالبان ،برے طالبان اور ان کی پہچان ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(20.01.2016) نیاتنازع پاکستان کس تاریخ کو بنا؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی۔ نظر ثانی شدہ
(09.01.2016) مقدس گائے کا سفر جنگلوں سے لغت تک۔۔۔از... شمس جیلانی
(02.01.2016) پوت ، کپوت اورسپوت۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(26.12.2015) یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں۔۔۔ ؟از۔۔ شمس جیلانی
(19.12.2015) دودھ کاجلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(12.12.2015) دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ن پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.12.2015) جانکنی میں کی اس نے جفا سے توبہ!۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں