گزشتہ قسط میں ہم یہا ں تک پہو نچے تھے کہ اس روز حضو ر (ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پر چم عنایت فر ما یا اور وہ بھی اس پیشنگو ئی کے سا تھ کے یہ وہ ہے جو خیبر فتح کر یگا۔ اور انہوں نے بھی طلبی پر اس کے با وجود اسلحہ زیب تن کر نے میں دیر نہیں کی کہ وہ آشوب ِ چشم میں مبتلا تھے اور اس زما نہ کی لڑا ئی دست بدست ہو تی تھی۔ تسلیم و رضا میں یہ ہی ان کی انفرادیت تھی جو انہیں سب سے ممتاز کر تی تھی ۔لہذا اللہ تعالیٰ انہیں کیسے اس طرح میدان ِ کا رزار میں بیمارجا نے دیتا۔جو اپنے عام بندوں کو کسی حالت میں نہیں بھو لتا تو پھرعلی کرم اللہ وجہہ جیسا بندہ۔ لہذا یہا ں بھی معجزہ رونماہو اکہ حضو ر (ص) نے اپنا لعا ب دہن انکی دو نو ں آنکھو ں میں ڈا لدیا ،اور نہ وہ صرف بھلے چنگے ہو گئے۔ بلکہ بقول ان کے اس کے بعد انہیں آشو ب ِچشم کی تکلیف دو با رہ زندگی بھر لا حق نہیں ہو ئی ۔لیکن اس سے پہلے ہم ایک حبشی غلام کا ذکر کر رہے تھے ۔کہ حضور (ص) نے اس سے بشرطِ ایمان و خلوص جنت اور رحمت کا وعدہ کیا تھا اور وہ بعد میں لڑ تے ہو ئے شہید ہو گیا۔ اس پرحضور (ص) نے فرما یا بلا شبہ یہ جنتی ہے ۔ اس طر ح حضو ر (ص)کی یہ پیشنگو ئی پو ری ہو گئی اور وہ اپنے خلو ص کی بنا پر منصب ِ شہا دت سے سرفرازہو ا ۔اس کے بر عکس ایک اور یہودی بھی اسی دوران مسلمان ہوا ۔ جو کہ اس جنگ میں بڑی بہا دری سے لڑا اوربری طر ح زخمی ہو گیا ۔اس کے با رے میں حضور (ص)نے فر ما یا کہ یہ شخص دو زخی ہے ۔لو گو ں کو تعجب ہوا لہذا انہو ں نے یہ راز جا ننے کے لیے اس کی نگرا نی شروع کر دی ،لیکن اس کا ایمان ابھی وہا ں تک نہیں پہو نچا تھا کہ راضی بہ ر ضا رہتا ۔لہذا تکلیف سے تنگ آکر اس نے خو دکشی کر لی، اس کے بعد وہی لوگ حضور (ص)کے پا س آئے اور کل ما جرا سنا یا تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”کو ئی غیر مو من جنت میں نہیں جا ئے گا الا یہ کہ اللہ تعا لیٰ کبھی کبھی کسی فا سق اور فا جر سے بھی اشا عتِ دین کا کام لے لیتا ہے “۔ (اس میں ان لو گو ں کے لیے سبق ہے جو ہر ایک کو جنت یا دو زخ بانٹتے پھرتے ہیں ۔ اس لیے کہ جنت صرف پر خلو ص ایمان پر منحصر ہے اور وہ بھی ہر طر ح مکمل ہونہ کے آدھا تہا ئی اور اسے صرف اللہ تعا لیٰ ہی جا نتا ہے (مو لف ) ۔ یہ عام طور سے مشہو ر ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قلعہ خیبر فتح کیا ۔مگر دلچسپ با ت یہ ہے کہ قلعہ خیبر نا م کا کو ئی قلعہ تھا ہی نہیں۔ خیبر نا م تھا ایک علا قے کا جس میں متعدد قلعے تھے ۔جو کہ ہر قبیلہ یا سردار نے اپنے کنبہ یا ذیلی قبیلے کے لیئے بنا رکھے تھے ۔اوراس طر ح یہ پو را علا قہ متعدد قلعوں اورچھوٹی گڑھیو ں میں بٹا ہوا تھا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بنی اسرا ئیل شروع ہی سے با رہ قبا ئل میں بٹے ہو ئے تھے ۔لہذا وہ ایک دوسرے کے سا تھ رہنا تو بڑی با ت ہے ایک چشمے سے پا نی بھی پینا پسند نہیں کر تے تھے ۔اسی لیے اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے حضرت مو سیٰ (ع) کو حکم دیا کہ وہ چٹا ن پر اپنا عصاء ما ریں۔جس سے با رہ چشمے جا ری ہو گئے ۔اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا چشمہ الگ مقر رکرلیا ۔ فتح فلسطیں کے بعد کچھ عرصے تو یہ متحد رہے ۔ اس کے بعد آپس میں جنگ و جدا ل کا دور ایک عرصہ تک رہا اور آخر میں حضرت یعقوب (ع) کے بڑے صا حبزا دے یہودا کی اولا د نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جو کہ ان کی نا م کی مناسبت سے یہو دی (عربی زبان میں) کہلا ئے اور انہو ں نے تورات کو توایک طرف رکھد یا ۔اس کے بجا ئے تلمو د مرتب کی جس نے تو را ت کی جگہ لے لی۔اسی لیے قرآن نے ہمیشہ اصل امت ِموسیٰ (ع) کے لیے بنی اسرا ئیل کالقب استما ل کیا ہے۔ صرف ایک دو جگہ یہو دی کا لفظ استما ل ہوا ہے جو تعریف میں نہیں ہے ،بلکہ مذمت میں ہے ۔ کیو نکہ بنی اسرا ئیل جب تک بنی اسرا ئیل تھے، اس وقت تک وہ تھو ڑا یا بہت تو رات پر عا مل تھے۔ اس کے بعد ان کے ربا ئیو ں نے اصل شریعت مو سوی کو چھو ڑ کر یہ نئی فقہ کی کتا ب مرتب کر لی جس سے شریعت ِ مو سوی پر ان کی اجا رہ داری قائم ہو گئی اور جو کہ “جو ڈ ازم “یا یہو دیت کی اساس ہے ۔اس وضا حت کے بعد آپ سمجھ گئے ہو نگے کہ وہ ایک قلعہ میں کیو ں نہیں رہتے تھے۔ لہذا خیبر کا علا قہ انہوں نے کئی پٹیوں میں با نٹ رکھا تھا جن کے الگ نا م تھے ایک پٹی میں پا نچ قلعے تھے ۔جن کے نا م تھے حصن ِ نا عم ، حصن ِ صعب بن معا ذ،حصن ِ قلہ (زبیر ) ، حصن ِ ابی اور دوسرے ریجن میں یہ تین قلعہ تھے جن کے نا م تھے حصن ِ قمو ص ، حصن ِ وطیح اور حصن ِ سلا لم ۔ پہلے تین قلعے جس علاقے میں واقع تھے نطا ت کہلا تا تھا ۔ اس میں پہلے تین قلعہ ہی شامل تھے۔ اس کے بعد کا علا قہ شق کہلا تا تھا جس میں دو قلعے تھے اور تیسرا ریجن کتیبہ کہلا تا تھا جس میں با قی تین قلعے تھے۔ لیکن اس میں سے قلعہ نا عم سب سے پہلے پڑتا تھا اور سب سے مضبو ط سمجھا جا تا تھا ۔لہذا یہ ہی پہلا نشا نہ تھا جس کی مضبو طی پر ان کو بہت نا ز تھااور یہ سب سے پہلے واقع تھا۔ اس لیے با ب ِ خیبر کہلا تا تھا ۔ اور جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اس پر پہلے دن حضرت ابو بکر (رض) کو بھیجا گیا مگر قلعہ فتح نہ ہو سکا اس کے بعد دو سرے دن حضرت عمر (رض) کو بھیجا گیا ۔لیکن اس دن بھی کا میا بی نہ ہو ئی ۔تب حضور (ص) نے فتح کی خو شخبری کے سا تھ حضرت علی کرم اللہ وجہ کو بھیجا اور ہدا یت دی کہ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دیں اور اگر نہ ما نیں تو حملہ کر دیا جائے۔لہذا حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اس پر عمل کیا۔ لیکن انہو ں نے بجا ئے اسلام قبول کر نے کے مضحکہ اڑا یا کہ ہما ری کتا ب میں تو یہ کہیں لکھا ہوا نہیں ہے کہ اس نا م کا کو ئی آدمی اس قلعہ کو فتح کریگا۔جب ان کا سردار مرحب جو کہ ایک ہزار سواروں کے برابر سمجھا جا تا تھا اور اس کا بھا ئی یا سر دو نو ں مارے جا چکے، تو ان کے با قی سا تھی بھاگ کھڑے ہو ئے اور انہو ں نے دروا زہ بند کر لیا ۔لیکن حضرت علی کرم االلہ اسقدر جو ش میں تھے کہ قلعہ کا دروا زہ ایک جھٹکے میں اکھیڑ لیا ۔اس طرح اسلا می فو ج قلعے میں دا خل ہو گئی اور وہ قلعہ فتح ہو گیا جس کے با رے میں ان کا خیال تھا کہ نا قا بل ِ تسخیر ہے ۔یہا ں دروازے کے با رے میں بھی اختلا ف ہے ۔کچھ مور خین نے لکھا ہے کہ انکے سا تھ جو آٹھ آدمی تھے ان میں سے ایک کا بیا ن ہے کہ ہم آٹھوں نے ملکر اسے اٹھا نا چا ہا تو ہم سے نہیں ہلا۔ ایک اور مورخ نے لکھا ہے کہ چا لیس آدمیو ں نے مل کر اٹھا نا چا ہا ،مگر وہ نہ ہلا اور ایک دوسرے مور خ نے لکھا ہے کہ وہ ستر آدمیو ں سے نہیں اٹھا یا گیا۔ بہر حال اس پر سب متفق ہیں کہ دروازہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے ہا تھ ہی سے اکھا ڑا اور یہ ہی فتح کا باعث ہوا ( واللہ عا لم )۔ حصن ِ نا عم چو نکہ فو جی اہمیت کا قلعہ تھا ۔اس سے ان کی ہمت تو ٹو ٹ گئی اور کا فی لو گ قید بھی ہو ئے۔ مگر اس سے مسلما نو ں کو را شن وغیرہ نہیں ملا جس کی ان کو اشد ضرورت تھی ۔لہذا دوسرے دن حضور (ص) نے ۔حضرت خبا ب (رض)بن منذر کی قیا دت میں لشکرحصن ِ صعب بن معا ذ کی طرف بھیجا وہ تین دن تک اس کا محا صرہ کیے رہے ۔مگر قلعہ فتح نہ ہو سکا۔تیسرے روز حضور (ص) نےاس قلعہ کی فتح کے لیے خصو صی دعا فرمائی ۔اور اللہ تعا لیٰ نے اس دعا کی بر کت سے حضرت خبیب (رض) کو فتحیا ب کیا ۔مور خین نے لکھا ہے کہ خیبر میں اس سے زیا دہ مالدار کو ئی قلعہ نہ تھا ۔جس سے مسلما نو ں کو اسقدر ما ل و غلہ اور چر بی ملی ہو ۔اس کے علاوہ کچھ دبابے اور منجنیقیں بھی ہا تھ لگیں ۔مسلمان جو بھو ک سے نڈھا ل تھے جانوررذبح کیئے اور ہا نڈیا ں چڑھا دیں اور کئی دن بعد پہلی مرتبہ سیر ہو کر کھا نا کھا یا ۔اس کے بعد تیسرا مضبو ط قلعہ تھا حصن ِ قلُہ جس پر حضور (ص) نے حضرت زبیر (رض) کو بھیجا اور انہو ں نے اس کا محاصرہ کر لیا جو کہ پہا ڑ کی چو ٹی پر وا قع تھا اور اس تک پہنچنے کا راستہ بھی انتہا ئی دشوار گزار تھا۔ عجب اتفا ق ہے کہ اس کا بھی مسلما ن تین دن تک محا صرہ کیئے رہے مگر کا میا بی کی صو رت پیدا نہ ہو ئی، تیسرے دن اللہ نے اہل ِ قلعہ میں سے ایک کے دل میں کچھ ہدا یت ڈا لدی اور اس نے حضور (ص) کو آکر بتا یا کہ اگر آپ ایک سا ل بھی ان کا محا صرہ کیئے رہیں گے تو ان کے پاس خورا ک کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ یہ فتح نہیں ہو سکے گا۔ لہذا آپ ان کے ذخیرہ آب پر قبضہ کرلیں،اوران کا پا نی بند کر دیں جو کہ قلعہ کی پشت پر ہے ۔یہ رات کو نکل کر اس سے پا نی بھر لیتے ہیں ۔ اس کے سوا چو نکہ کو ئی چا رہ نہ تھا لہذا حضور (ص) نے پا نی بند کرنے کی اجا زت دیدی ۔اور اس طر ح یہ قلعہ بھی فتح ہو گیا ۔چو نکہ یہ حضرت زبیر (رض) کے ہاتھو ں فتح ہوا تھا اس لیے بعد میں اس کا نا م حصن ِزبیر پڑگیا ۔اس کے بعد حضرت ابو دجا نہ (رض) سماک بن فرشتہ کی قیا دت میں مسلما نو ں نے قلعہ ابی کا محا صرہ کر لیا اور با لآ خر وہ قلعہ بھی فتح ہو گیا۔ اس طر ح یہ پوری ریجن یکے بعد دیگرے مسلما نو ں نے فتح کر لی جو ان کا سب سے مضبو ط علا قہ سمجھا جا تا تھا ۔ باقی آئندہ