16.10.2026, 06:39am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔
امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
 
عالمی خبریں
 

ساٹھ ملکوں کے صدور اور وزرائے اعظم، اور 130 سے زائد ممالک کے درجنوں اہل کاروں نےموسمیاتی تبدیلی کے معاہدے پر دستخط کیے
23.04.2016, 08:55am , ہفتہ (GMT+1)

عالمی رہنماؤں نے جمعے کے دِن اقوام متحدہ میں ایک تاریخی اقدام کیا، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی لانا اور ایک حد تک اُس سے پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کا انتظام کرنا ہے۔

ساٹھ ملکوں کے صدور اور وزرائے اعظم، اور ساتھ ہی 130 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے درجنوں اہل کار نیویارک میں جمع ہوئے، جہاں اُنھوں نے دسمبر میں موسمیاتی تبدیلی پر پیرس میں ہونے والے معاہدے پر دستخط کیے۔

دستخطی تقریب سے پہلے اپنے کلمات میں، امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے  سمجھوتے کو سراہتے ہوئے اِسے ’’طاقتور اقدام‘‘ قرار دیا۔

بقول اُن کے، ’’اس سمجھوتے کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سے کس نوعیت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اِس کا قوی ہونا دنیا کو ایک اہم پیغام  کا حامل ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ جدت کی جانب ایک پُراثر پیغام، ساجھے داری پر مبنی سرگرمی، سرمائے کی فراہمی اور حکومتوں کی جانب سے فیصلوں کا اقدام ہے۔ یہ وہ سب کچھ ہے جس کے لیے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ توانائی کے میدان میں نئے مستقبل کی تشریح کی گئی ہے، ایسا مستقبل جسے پہلے ہی سے وضاحت کردی گئی ہے، لیکن اِسے دریافت کیا جانا ابھی باقی ہے‘‘۔

کیری نے کہا کہ امریکہ اس معاہدے پر دستخط کا منتظر ہے اور بین الاقوامی برادری  پر زور دیا کہ وہ اس کی پیروری کرے۔

سمجھوتے سے کیا مراد ہے؟

اس سمجھوتے کی مدد سے عالمی درجہٴ حرارت کو دو ڈگری سیلشئیس نیچے لانا ہے۔ اس کے ذریعے ایک واضح حکمتِ عملی بیان کردی گئی ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جائے گی اور کرہٴ ارض کو بڑھتی ہوئی حدت کا شکار ہونے سے بچانا ہے۔

دنیا کے سربراہان نے پیرس میں سمجھوتے کی تفاصیل طے کردی ہیں، جمعے کے روز نیویارک میں اس پر دستخط کرکے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے پیرس کے معاہدے کو سراہتے ہوئے، اِسے موسمیاتی تبدیلی پر دنیا کے عزم کے اظہار کا ’’ایک اہم موڑ‘‘ قرار دیا۔

اپنے کلمات میں، حالیہ دِنوں، اُنھوں نے کہا کہ ’’پہلی بار دنیا کے تمام ملک گیسوں کے اخراج کو ترک کرنے، مسئلے سے نمٹنے کی کاوش کو مضبوط بنانے اور سب کے بھلے کے لیے ایک مشترکہ عمل میں شریک ہونے پر آمادہ ہیں۔ پیرس میں حکومتوں نے یکسو ہو کر مشترکہ عمل پر رضامندی کا اظہار کیا، مل کر ہی کچھ حاصل ہوسکتا ہے، اکیلے قدم اٹھانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا‘‘۔

ایک نیا آغاز


اس سمجھوتے پر 30 دِن کے اندر عمل درآمد شروع ہوگا، جب 55 ممالک یا تو اس کی توثیق کریں گے یا پھر اقوام متحدہ کے سربراہ کے پاس اس پر عمل درآمد کی حکمت عملی پیش کردیں گے۔  یہ 55 ملک ایسے ہیں جو گیسوں کے عالمی اخراج میں کم از کم 55 فی صد کے ذمے دار ہیں۔

ہدف کے حصول کی تاریخ 2020ء ہے، لیکن اگر کافی ممالک اس کی توثیق کردیں گے، تو اہل کاروں کے مطابق، سمجھوتے پر بہت جلد عمل درآمد ممکن ہوگا، اس سال یا 2017ء کے اوائل تک۔

چین اور امریکہ، جو دنیا میں گرین گیس کے اخراج کے 40 فی صد کے ذمہ دار ہیں، تقریب میں اُن کی نمائندگی تھی۔ وہ اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے رہے ہیں، جس کا مقصد معاہدے پر جلد عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

:دیگر مضامین
(23.04.2016) نائجیریا کی فوج شیعہ شہریوں کو ہلاک کرنے کی مرتکب ہوئی، ایمنسٹی
(23.04.2016) نئی دہلی: بھارتی ریاست اروناچل پردیش میں لینڈ سلائیڈنگ، 16 افراد ہلاک
(22.04.2016) اسرائیلی آبادکاری کے خلاف فلسطینی مجوزہ قرارداد مؤخر
(22.04.2016) صدر براک اوباما نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں تعاون کے لیے یورپی اتحادیوں سے قریبی تعلق رکھے۔
(22.04.2016) ترکی میں آج ہوئے ایک بم حملے میں تین فوجی مارے گئے ہیں۔
(22.04.2016) امریکی صدر براک اوباما نے الریاض میں خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے
(22.04.2016)  ایکواڈور میں سات اعشاریہ آٹھ شد کے زلزلے کے بعد آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری ہے
(22.04.2016) صدر شی جنپنگ کو ملک کے’’کمانڈر انچیف‘‘ کا نیا عہدہ دیا گیا ہے
(21.04.2016) میکسیکو کی آئل ریفائنری میں دھماکے سے 3 افراد ہلاک اور 136 زخمی
(20.04.2016) بحیرہ روم میں کشتی ڈوبنے سے 500 مہاجرین کی ہلاکت کا خدشہ، اقوام متحدہ
(20.04.2016) جوہری تعزیرات میں نرمی کا معاملہ، کیری ظریف متوقع ملاقات
(20.04.2016) واشنگٹن:اوباما کا پوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ،شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال
(20.04.2016) داعش کی یورپ کے سیاحتی مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کا انکشاف
(19.04.2016) روس افغان طالبان رابطے، روسی سفارت کاری کا دوہرا معیار، افغانستان میں روس نے طالبان باغیوں کے گروپ کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھا دیے ہیں
(19.04.2016) کابل میں خودکش کار بم دھماکہ، 24 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
(19.04.2016) دنیا کے مختلف ملکوں میں بارش نے تباہی مچا دی، افغانستان میں31 افراد ہلاک
(18.04.2016) عراق میں پیر کے روز پارلیمنٹ کا ایک اہم اجلاس۔ اسپیکر سلیم_الجبوری کی برطرفی اور نئی حکومت کی تشکیل کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
(18.04.2016) ایکواڈور میں 7.8 شدت کے زلزلہ، ہلاکتوں کی تعداد 272 ہوگئی
(18.04.2016) سعودی عرب نے امریکا کو اپنے 750ارب ڈالر کے اثاثے بیچنے کی دھمکی دیدی
(17.04.2016) ایکواڈور میں ہفتے کے روز شدید زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 238 افراد ہلاک



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں