اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ انیس سو سینتالیس سے تحقیقات بالکل قبول نہیں ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن صرف وزیر اعظم اور اس کے خاندان کی تحقیقات کرے ۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا اپنے چمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن کے ذریعے وزیر اعظم اور اس کے خاندان کی چھان بین اپوزیشن کا متفقہ مطالبہ تھا ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن صرف وزیر اعظم اور اس کے خاندان کی تحقیقات کریں۔ باقی سب کیلئے الگ سا کمیشن بنے وہ چاہے انیس سو سینتالیس سے کیوں نہ ہو
۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو لکھا گیا خط اپوزیشن کے مطالبے اور خواہشات کے مطابق نہیں، جبکہ اسحاق ڈار صاحب نے کہا تھا کہ اپوزیشن کی خواہشات پر خط لکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اور اپنے بچوں کے غلط اثاثے ظاہر کرنے پر وزیر اعظم نا اہل ہو سکتے ہیں۔ میاں صاحب سے پوچھتے ہیں کہ جلسے پی ٹی آئی ، پی پی پی کے خلاف کریں گے یا اپنے خلاف کریں گے ۔خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کا دوسرا خطاب ان کے خوف کی علامت ہے اور اخلاقی طور پر وہ کمزور پوزیشن پر ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس دو مئی کو ہو گا۔