ڈاکووں کے سردار نے چیخ چیخ کے اپنے دوسرے ساتھیوں کو خبردار کیا ۔ اسے چھوڑو اس کا سارا مال واپس کرو ۔اس سے معافی مانگو ۔اس سے معافی مانگو۔ ساتھیوں نے تجسس سے پوچھا کہ کیوں؟ ڈاکو نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ کمبختو! جب پولیس مقابلے میں مارے جاؤ گے، جب تمہارے قریبی رشتہ دار بھی لاشیں لینے سے انکار کر دیں گے، جب اپنے بھی تدفین نہیں کریں گے تو تب یہی آدمی انسانیت کی خاطر آگے بڑھے گا اور تدفین کا بندوبست کرے گا۔ اوئے! یہ عبدالستار ایدھی ہے۔
یہ اس دور کا قصہ ہے کہ جب چوروں اور ڈاکوؤں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ کم سہی مگر ان میں بھی غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تھی۔ تب معاشرے میں تھوڑی بہت انسانیت باقی تھی۔ جبکہ حال تو جنگل سے بھی گیا گزرا ہے۔ یہ تو بس ایک اندھیر نگری ہے، اندھیر نگری۔ جہاں فلاحی ادارے تک لوٹے جا رہے ہیں۔ ۔ لیکن وقت وقت کی بات ہوتی ہے اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ حکمرانوں سے لیکر ڈاکووں تک سب نے اپنا طریقہ بدل لیا ہے ۔ جب وقت نے کروٹ لی تو خبر ایسی سنی ۔۔۔
کراچی کے علاقے میٹھادر میں مسلح افراد معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو یرغمال بنا کر دو کروڑ روپے نقد اور 5 کلو سونا لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ میٹھادر کے علاقے میں معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی رہائش گاہ اور دفتر میں 8 سے زائد ملزمان داخل ہوئے ۔ عبدالستار ایدھی اس وقت سورہے تھے ۔ ملزمان نے عبدالستار کو اٹھایا اور تجوریوں کی چابیاں لے لیں ۔ ملزمان چابیوں سے وہاں موجود تمام تجوریوں سے آدھے گھنٹے تک لوٹ مار میں مصروف رہے ۔ ملزمان دو کروڑ روپے نقد اور 5 کلو سونا دیگر قیمتی اشیا لے کر فرار ہوگئے ۔ افسوس صد افسوس یہ ایک ایدھی نہیں لٹا بلکہ اس جنگل نما معاشرے سے انسانیت کی آخری سانس لٹی اور لٹ رہی ہے۔
عبدالستار ایدھی المعروف مولانا ایدھی خدمت خلق کے شعبہ میں پاکستان اور دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں، جو پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے صدر ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی بیوی محترمہ بلقیس ایدھی بلقیس ایدھی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں۔ دونوں کو 1986ء میں عوامی خدمات کے شعبہ میں رامون ماگسے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بچپن میں جب انکی ماں انکوسکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیےرکھ لیتے تھے ۔ گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کےذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی بن گئی ۔
میرے ایک دوست جو کراچی میں مقیم ہیں ۔ آج کل کچھ زیادہ ہی پریشان ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبدالستار ایدھی کی وجہ سے دوسری زندگی ملی ہے ۔ لیکن میں اس کے احسان کا بدلہ لاکھ چاہوں تو نہیں چکا سکتا ۔ وہ ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں اس کے دونوں گردے ناکارہ ہوچکے ہیں لیکن میں اس کو یہ احساس تک نہیں دلا سکتا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔وہ شخص جس نے سالہا سال اپنی زندگی کو دوسروں کی خاطر داو پہ لگایا۔ وہ جس نے انسانیت کو محبت کا احساس دلانے کی خاطر اپنی پوری زندگی پاکستان کے سڑکوں پہ گرم دھوپ کا لبادہ اوڑھ کے گزاری آج ہسپتال میں بے یارو مدد گار بوسیدہ چھت کو گھور کے محبت بھرے لفظوں کا مختاج ہے ۔ہمارے محترم وزیراعظم جس نے اس ملک کی بہت "خدمت" کی ہے شائد زکام کے علاج کے لئے پچھلے دنوں برطانیہ گئے تھے لیکن ایدھی صاحب کو شائد اس ملک کے ہسپتالوں سے بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی اس کو اس ملک کے لوگوں سے ہے۔
سیاستدانوں کو اپنی شہ خرچیوں سے اتنی بھی فرصت نہیں کہ ایک دو لمحوں کے لئے ایدھی صاحب کی تیمارداری کرے ۔ خدمات ایسے ہوتے ہیں جو ایدھی کے حصے میں آئی ہیں ۔ میرے خیال میں پاکستان کے حکمرانوں اور تھنک ٹینکس کو بیٹھ کے یہ حکومت کی بھاگ ڈور ایدھی کو دینی چاہیے کیونکہ جہاں سے میں دیکھتا ہوں پاکستان کی پوری تاریخ میں اس جیسا سادہ لوح اور درویش صفت انسان جس کی نیت میں زرہ برابر فتور نہیں اور جس کی پوری زندگی خدمت خلق میں گزری نہیں گزرا ۔
آج ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس 600 سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں، جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئئ ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے ہیں اور ایدھی فاؤنڈیشن کی حادثات پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں ۔ ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور سکولکھولے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ فاونڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔ ایدھی مراکز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ایدھی مرکز کے باہر بچہ گاڑی کا اہتمام ہے تا کہ جو عورت بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اپنے بچے کو یہاں چھوڑ کر جا سکے۔ اس بچے کو ایدھی فاونڈشن اپنے یتیم خانہ میں پناہ دیتی ہے اور اسکو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ ایدھی کا تو ایک مقصد تھا جس کی خاطر اس نے اپنی پوری زندگی گزاری ۔ 1997ء گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس ہے۔
ایدھی بذات خود بغیر چھٹی کیے طویل ترین عرصہ تک کام کرنے کے عالمی ریکارڈ کے حامل ہیں۔ اور ریکارڈ بننے کے بعد بھی ابھی تک انہوں نے چھٹی نہیں لی۔ ہمیں بحیثیت قوم سوچنا چاہیے کہ ہم نے ان کی خدمات کا کیا صلہ دیا ۔
کیا ہم نے اس کے لئے دو لفظوں کی دعا مانگی ہے؟
کیا ہم نے اخلاقی طور پر اس پہ ٖفخر محسوس کی ہے ۔ ؟
صدر نے بل گیٹس کی خدمات کی وجہ سے کہا تھا "we are the nation of Bill gates" کیا ہم سر اٹھا کے کہہ سکتے ہیں کہ ہاں ایدھی بھی ہم میں سے ایک ہے؟
کہیں ہم گناہ کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟