|
یہ وبال ِ شخصیت پرستی۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
30.04.2016, 01:01am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔ شمس جیلانی
آج دو چیزیں پڑھنے کا اتفااق ہوا۔ ایک توخبر تھی کہ ایک یونیورسٹی کے مہمان ِ خصوصی چار گھنٹے لیٹ پہونچے اور دوسری ایک تحریر تھی کہ ایک ادارہ جس کے لوگ جوکل تک بڑے مقدس سمجھے جاتے تھے وہ بھی پیسے بنا رہے ہیں خداکرے کہ یہ بات غلط ہو اور قوم کی امیدوں کو ٹھیس نہ پہونچے؟جبکہ ہمارے عرضِ پاک میں یہ دونوں چیزیں عام ہیں۔ پھر بھی ا نہیں ایسی کوئی نہ کوئی مجبوری حائل ہوتی ہے کہ لوگ مہمان خصوصی بنائے بغیر بعض نہیں آتے ؟اور وہ بھی خاص طور سے تعلیمی اداروں میں؟ جہاں کہ اگر بنانا بہت ہی ضروری ہو اور بنائے بغیر کام نہ چلتا ہو تو کم از کم اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ جو مہمانِ خصوصی بنایا جارہا ہے وہ س کا اہلِ بھی ہواور ان مضامین کو بھی سمجھتا ہے جو اس تعلیمی ادارے میں پڑھائے جاتے ہیں؟ نیز انتظامیہ کو مہمان ِ خصوصی کے مزاج سے بھی واقف ہونا چاہیے؟ اور اس کے اوقات کار سے بھی کہ وہ کتنے بجے سوکر اٹھتا ہے اور کب ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے؟ کب اس کے ہوش میں واپس آتا ہے؟ یہ باتیں اس کے نوکر چاکروں کی مٹھی گرم کے معلوم کی جا سکتی ہیں ؟ پھر انتطار کی سزا بچوں کو نہیں بھگتنی پڑے گی؟ بلکہ اس کے لیے کوڈ آف کنڈیکٹ بنا لینا چاہیے کہ تاکہ لوگوں کو اپنے ذوق کے مطابق مہمانِ خصوصی منتخب کرنے میں آسانی رہے۔ اور حاضریں محفل بھی آنرایبل مہمان ِ خصوصی کے انتظار کرنے کی سزا بھگتنے میں کوفت نہ محسوس کریں؟ اور طعام کا بھی معقول نتظام ہون چاہیے یعنی سلوپری وغیرہ سب کے لیےاور بچیوں کے کھٹی مٹھی چیزیں وغیرہ جس سے حاضرین شغل فرماتے رہیں ؟ جب ہم وہاں تھے تو رواج یہ تھا کہ مہمان ِ خصوصی کو ایک گھنٹہ لیٹ وقت دیتے تھے اور عام لوگوں کو ایک گھنٹہ جلدی آنے کی تاکید کرتے تھے۔اب ملک اور بھی ترقی کر گیا ہے اور اسی وجہ سے وقفہ انتطار طول پکڑگیا ہے۔ عوام چارگھنٹے لیٹ پہونچتے ہیں اور مہمانِ خصوصی بھی اسی حساب سےاپنا پروگرام بناتے ہیں۔ لہذا جو جلد باز اور وقت کے پابند ہیں وہ اپنی غلط روی کی سزا بھگتنےکےلیے تیار رہیں؟ یہ 1957 کی بات ہے کہ ہمیں غلطی سے ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے بطور مہمان ِ خصوصی مدعو کرلیا؟ ہم اس رات اس خوشی میں ٹھیک سے سوئے بھی نہیں اور سوچتے رہے کہ ہمیں یہ کہنا ہے اور وہ کہنا ہے؟حالانکہ ہمیں جو وقت دیا گیا تھا وہ چار بجے شام تھا؟ مگر ہم صبح ہی سے تیار ہوگئے ۔اور جب چار بجے پہونچے تو دیکھا کہ ماسٹر صاحب اپنی نگرانی میں جھنڈیاں لگوارہے ہیں جو ہمیں دیکھ کر پریشان ہو گئے اوراپنا اتنا اہم کام چھوڑ کر ان کو ہمیں لے جاکر اپنے دفتر میں بٹھایا اور وہ ہماری اس حرکت پر خوش ہونے کہ بجائے کچھ شاکی سے نظر آئے جو چہرے سے نظر آرہا تھا کہ آپ وقت پر کیوں پہونچ گئے؟ کیونکہ انہوں نے فرمایا کہ جب سامعین آجاتے تو ہم آپ کو فون کردیتے ؟ اب آپ کو انتطار کی زحمت اٹھانا ہوگی۔ ہمارا وہ دن کچھ اچھانہیں گزرا چونکہ ابتدا غلط ہوئی تھی ؟چونکے ہمیں ہمیشہ سے اسلام سے دلچسپی ہے لہ ذا اسلم ہمار وڑھنا بچھوناہے، مگر خرابی یہ ہے کہ ہم بظاہر مذہبی آدمی دکھائی نہیں دیتے؟ جب ہماری تقریر ختم ہوئی تو جو صاحب ہماری تقریر بہت غور سے سن رہے تھے اور ہمیں امید تھی کہ ہمیں داد بھی سب سے زیادہ انہیں سے ملے گی ؟ انہوں نے داد تو واقعی دی، مگر چونکہ بظاہر ہم مسلمان نہیں لگ رہے تھے؟ لہذا انہوں نے یہ کہہ کر سب پر پانی پھیر دیا کہ بیٹا “آپ نے باتیں تو بڑی اچھیں کیں! اگر داڑھی رکھ لیتے اور کرتا شلوار میں ہوتے تو کتنا اچھا ہو تا“ پھر ہمیں خود بھی ایک بار بعد میں غلط بخشی کا شکار ہونا پڑا جسکو آپ ا یک قسط وار مضمون کی شکل میں مہنیوں پڑھتے رہے، جو یہ تھا کہ ہمارے ایک کرم فر ما نے ہماری اہک کتاب کے لیے جو کہ حضور (ص) کی سیرت پر تھی ایک مشہور شاعر کو مہمان ِ خصوصی بنا دیا وہاں وہ شگوفے پھوٹے جو بیان سے باہر ہیں۔ چونکہ واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہے لہذا وہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا؟ یہ وہ وقت تھا کہ بھٹو صاحب ابھی پاکستان میں نئے نئے وارد ہوئے تھے اور برسرِ اقتدار نہیں آئے تھے؟ تمام حکمراں بمع قوانین اس روش پر چل رہے تھے جو انگریزوں سے ورثے میں ملی تھی کہ بہت سی جگہ توقومی لباس میں داخلہ ہی ناممکن تھا؟خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے بر سرِ اقدار آکرقوم کو ایک قومی لباس دیا ۔ ورنہ ابھی تک وہی چل رہا ہو تا، دوسرا تازیانہ ہمیں اس وقت لگا کے عوام کے لیٹ آنے کی وجہ سے ہماری لکھی ہوئی تقریر لمبی ہونے کی وجہ سے اس بچے ہوئے وقت میں سموئی نہیں جاسکتی تھی لہذا اسکی وجہ سے تیز بولنا پڑا تو لائوڈ اسپیکر نے ہمارا ساتھ دینابند کردیا، اس لیے لوگ سمجھ نہیں سکے۔ جبکہ ہمارے سامنے پھر امتحان تھا کہ مغرب کا وقت قریب آرہا تھااور ہمیں خود کو اچھا مسلمان بھی ثابت کرنے کے لیے اذان سے پہلے ختم کرنا تھا ؟ جس پر بچوں نے چلتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ “ سر آپ کی تقریر تو بہت اچھی تھی مگر لاوڈ اسپیکر خراب تھا“ یہ ہم نے اپنے مہمان ِ خصوصی ہونے کا یک تجربہ بیان کیا؟ اب ہم دوسرے مہمان خصوصیوں کی ایک دو باتیں بیان کر کے بات ختم کرتے ہیںِ۔ بھٹو صاحب انقلابی آدمی تھے لہذا انہوں نے اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ کس عہدے پر کیسا آدمی چہائیے اس لیے سب سے پہلےا نہوں نے یہ سی ایس پی، پی ایس پی کا چکر ختم کیا ؟ جو پہلے حکمرانوں کی خامیاں اکثرا پوری کردیا کرتا تھا، کیونکہ تقریر کا ڈرافٹ اور ہر قسم کا مسودہ وہ تیار کر کےدیتے تھے؟ چونکہ نو زائیدہ لیڈروں سے یہ سہولت چھین لی گئی اور معیار خوش آمد رکھا گیا تو عجیب عجیب لطیفے وجود میں آئے۔ ایسے میں کسی کو نہ جانے کیا سوجھی یا شاید تشخیص غلط ہوئی جیسے کہ اکثر عطائیوںسے ہوجاتی ہے کہ انہوں بچوں کے امتحان میں رعایتی نمبر ختم کر دیئے ؟ طالب علموں کے ایک وفد نے گورنر کے سامنے اس کی شکایت پیش کی تو آنر ایبل گورنر نے جواب میں کہا کہ ہم دوسو فیصد نمبر بڑھادیں گے اور بچوں کے فلک شگاف قہقہے سنا ئی دیے؟ اب آئیے کچھ باتیں اس تضاد کے بارے میں ہوجائیں کہ یہ کیا وجہ ہےکہ ہمارے یہاں جانے والے کل میں جو فرشتے کہلاتے ہیں وہ آنے کل کو نظروں سے گر جاتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود نہیں بدلنا چاہتے اوروں کو بدلنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جبکہ کہلاتے ہم مسلمان ہیں؟ حالانکہ ہادی اسلام (ص) نے پہلے خود عمل کرکے دکھایا پھر کہیں جاکے اوروں کو دعوت دی، اس سے جو مشینری پیدا ہوئی اس نے اسلامی نظام قائم کیا؟ مگر ہم لٹھ لیکر اسلام نافذ کر نے پر لگے ہوئے ہیں؟ اس پر میں وہ پرانا لطیفہ دہرا دیتا ہوں جو آپ نے بہت بار سنا ہے کہ ایک صاحب ایک غیر مسلم پر بندوق تان کر کھڑے ہوگئے اور کہنے تم کلمہ پڑھو ؟بیچارہ جان بچانے کو آمادہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ خان صاحب پہلے آپ پڑھ کر سنا ئیں تو میں دہرادونگا ؟ کہنے لگے وہ تو مجھے بھی نہیں آتا، تم پڑھو؟ یہ ہمارے یہاں آجکل عام پریکٹس ہے کہ خود نہ سیکھتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں جو اعمال ہیں وہ اسلام سے کوسوں دور ہیں مگر ہم دوسروں کومسلمان بنانے پر لگے ہیں؟ جبکہ جبر اً کسی کو مسلمان بنانااسلام میں منع ہے۔اس لیے کہ جبر کبھی پائیدر نہیں ہوتا؟ اور خوشی سے کوئی چاہے کہ مسلمان ہوں جاؤ ںوہ ہمارے پنے پیش کردہ نمونے کی وجہ سے اس میں اپنے لیے کوئی کشش نہیں پاتے نہ دین میں نہ دنیا میں لہذا اس طرح دین کا نقصان ہورہا ہے؟ برصغیر میں ا س کی مثال صرف مولانا مودودی مرحوم نے پیش کی ،مگر وہ پاکستان تک کئی سالوں میں صرف بیاسی مسلمان ایسے بناسکے، جبکہ پاکستان میں بھی کافی عرصہ انہوں نے اپنی روش وہی رکھی اور فراہمی کا عالم بھی وہی رہا؟ حتیٰ کہ انہیں سزا ئے موت سنا دی گئی۔ اس کےبعد شاید ان کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے سیاست میں سیااستدانوں کی طرح حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ؟اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سےپرانے ساتھی انہیں چھوڑ گئے؟کیونکہ وہ اس نئی کھیپ کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے؟ وہ اس خیال کے حامی تھے کہ چاہیں پوری عمر گزر جائے مگر جب تک پوری طرح کوئی مسلمان نہ ہو جائے اسوقت وہ اسلام کے کام کا نہیں ہے۔ جبکہ بعد میں کارو بارِ جماعت متاثرین اور متفقین کے ہاتھوں چلنے لگا اور جماعت کا وہ معیار نہیں رہا اور پہلی بار انگلیاں اٹھنے لگیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جبکہ تک ہم اسوہ حسنہ (ص) اختیار نہ کریں ہم ووہ مشنری تیار نہیں کرسکتے جو بےداغ ہو اس میں ہم صرف دین کو بد نامی کا باعث ہو نگے؟ دو میں سےایک صورت ہوگی یاتو شدت پسندی یا پھر ماڈرن ازم جبکہ اسلام صرف اسوہ حسنہ (ص) میں پنہاں ہے اس کی ا س کے سو١ کوئی شکل نہیں ہے؟ ورنہ یہ ہی ہوتا رہے گاکہ جسے آج کل ہے کہ آج کافرشتہ کل معیار پر پورا نہ اتر نے کی وجہ سے کل کو لوگ اس سے شاکی ہو جائیں گے ؟ کیون !کہ ہم خود کو بدلنا نہیں چاہتے ہیں مگر دوسروں سے یہ امید رکھتے ہیں وہ فرشرتے بن کر دکھائیں جبکہ وہ ہمارے جیسے بھی نہیں ہیں بلکہہم سے بھی کچھ آگے ہیں؟ اس کی مثال آپ اس جیسے سمجھ لیجئے کہ ہم چھوٹے اور بڑے پتھروں کو سے رولیں تو جو بڑا ہوگا وہی ہاتھ میں آئے گا ۔ اسکا حل یہ ہے کہ پہلے ہمیں خود ا چھا بننا پڑےگا پھر جاکر ان اچھوں میں کچھ رولیں گے تو اچھے سامنے آئیں گے ایسے جوکہ قیادت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے قیادت کی ذمہ داری اٹھانے سے بھاگیں گے جسے کہ صحابہ کرام (رض)تھے؟
|