لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیربلوچ نے کراچی سے متعلق حساس معلومات ایرانی خفیہ ایجنسی کو دینے کا اعتراف کرلیا۔
عزیر بلوچ نے لیاری گینگ وار کے 14کمانڈر وں کے بیرون ملک فرار اور کروڑوں روپے کی غیر قانونی آمدنی بیوی کے غیرملکی اکاؤنٹ میں رکھنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔
عزیر بلوچ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے باوجود سب کا صفایا نہیں ہوا، لیاری گینگ وار کے 14اہم کمانڈر جنوبی افریقہ، عمان، قطر اور ایران فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی میں جو اعترافات کیے ہیں ان میں کہا ہے کہ ایران کی انٹیلی جنس ایجنسی سے اس کے قریبی روابط تھے اور اسے کراچی سے متعلق حساس معلومات فراہم کیں، کالعدم پیپلزامن کمیٹی کی بنیاد 2008ءمیں رکھی اور 7ایس ایچ اوز سمیت 8پولیس اہلکار پیپلزامن کمیٹی کیلئے کام کرتے تھے۔
ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ بھتے سے وصول ہونے والے کروڑوں روپے بیوی کے غیرملکی بینک اکاؤنٹ میں ہیں جبکہ اُس نے دبئی میں بھی کروڑوں روپے غیر قانونی طور پر منتقل کئے ہیں۔
عزیربلوچ نے جے آئی ٹی میں بتایا کہ بھتے کے تمام معاملات گینگ وار کا استاد تاجو دیکھتا تھا۔ عزیر بلوچ نے198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا جن میں سے159 افراد کو لسانی بنیادوں پر قتل کیا گیا۔