16.10.2026, 09:56pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
  تصویر میں خبر

مشقوں میں شرکت,روسی فوجی پاکستان پہنچ گئے



 
مضامین/تجزیات
 

مزدوروں کے عالمی دن پر  بھی مزدوروں کو مزدوری کرنی پڑتی ہے 
01.05.2016, 08:00am , اتوار (GMT+1)

عالمی اخبار
یکم مئی ہر سال مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا مقصد امریکہ کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کویاد کرنا ہے ۔یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا ۔اس دن امریکہ کے محنت کشوں نے مکمل ہڑتال کی ۔تین مئی کو اس سلسلے میں شکاگو میں منعقد مزدوروں کے احتجاجی جلسے پر حملہ ہوا جس میں چار مزدور شہید ہوئے۔اس بر بریت کے خلاف محنت کش احتجاجی مظاہرے کے لئے جمع ہوئے پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لئے محنت کشوں پر تشدد کیا اسی دوران بم دھماکے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوا تو پولیس نے مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں بے شمار مزدور شہید ہوئے اور درجنوں کی تعداد میں زخمی ہوگئے تھے ۔ 

اس موقع پر سرمایہ داروں نے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر کے پھانسیاں دی حالانکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہیں ۔انہوں نے مزدور تحریک کے لئے شہادت دے کر سرمایہ دارانہ نظام کا انصاف اور بر بریت واضح کر دی ۔ان شہید ہونے والے رہنماؤں نے کہا ۔ ’’تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو لیکن ہماری آواز نہیں دباسکتے ‘‘ اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر میں محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار حاصل کئے ۔

یوم مزدور کے موقع پر دنیا بھر میں لاکھوں محنت کشوں نے جلوس اور جلسے منعقد ہوتے ہیں جس میں مزدوروں کے حقوق کی حفاظت، انہیں حاصل مراعات میں اضافے اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے مطالبات کیے جاتے ہیں ۔ 

افسوس کا مقام ہے کہ ایسے پریشان حال مزدوروں کی تعداد ہمارے ملک میں بہت زیادہ ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں مزدوروں کا استحصال نہ ہوتا ہو، پھر بھی وہ خاموشی کے ساتھ اپنا کام پورا کرتے ہیں۔ آزاد ہندوستان میں بندھوا مزدوروں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور ان کے لئے ’یومِ مزدور‘ کیا اہمیت رکھتاہے، اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں۔اکثر مقامات پر یکم مئی کے روز مزدوروں کو ’کو لہو کے بیل‘ کی طرح کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو ’یومِ مزدور‘پرسوا لیہ نشان ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور افسوس کا مقام بھی کہ جو دن مزدوروں کے لئے مخصوص کر دیا گیا اس دن بھی انہیں ایک لمحہ کے لئے سکون میسر نہیں۔ ایک طرف جہاں دِہاڑی مزدوروں کو یہ فکر ہوتی ہے کہ کام نہیں کریں گے تو گھر میں چولہا کیسے جلے گا وہیں مہینے میں تنخواہ پانے والے مزدور ایک دن کی تنخواہ کٹنے سے خوفزدہ رہتے ہیں اور یکم مئی کو بھی کام پر چلے جاتے ہیں۔

آج صورت حال یہ ہے کہ ریاستی سطح پر یکم مئی کو کئی مقامات پر چھٹی ہوتی ہے، بڑے بڑے اجلاس ہوتے ہیں اور سمینار کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے لیکن اس کا فائدہ ضرورت مند مزدوروں تک قطعی نہیں پہنچ پاتا ہے۔ نہ تو وہ چھٹی کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی طرح کے فلاحی منصوبوں سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار کے ذریعہ مزدوروں کے لئے شروع کئے گئے منصوبے ا بھی تک تو ’ڈھول کا پول‘ ہی ثابت ہوتے رہے ہیں۔

کچھ مزدور تو اپنے حقوق سے نا آشنا ہیں لیکن جو معلومات رکھتے ہیں وہ اس لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے کہ مالک ناراض ہو کر انہیں نوکری سے نہ نکال دے ۔ مزدوروں کی آواز اٹھانے کے لئے کئی ادارے بھی ہیں لیکن یہ گزرے زمانے کی بات ہو گئی ہے کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ مزدوروں کے مفاد کی بات کریں ۔ زیادہ تر ٹریڈ یونینوں میں تو یہی دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے لیڈران بدعنوان سیاسی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ مزدور لیڈران اسٹیج پر تو بآواز بلند مزدوروں کے مفاد کی بات کرتے ہیں لیکن تنہائی میں کمپنی یا کارخانہ مالکان سے سانٹھ گانٹھ کر کے مزدوروں کی امیدوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔

:دیگر مضامین
(29.04.2016) رینجرزمجرموں اور پولیس پیسے کے پیچھے ۔از:‌پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
(28.04.2016) پانامہ لیکس کے پیچھے کون ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے
(22.04.2016) صدر اوباما کے دورے سے ایران کو فائدہ پہنچے گا!
(20.04.2016) اوباما ایک مختلف سعودی عرب کا دورہ کیوں کررہے ہیں؟
(18.04.2016)  چھوٹو گینگ اور جنوبی پنجاب کے ڈیرے ۔۔۔ از؛ محمدثقلین رضا‎ 
(15.04.2016) کیا پاناما پیپرز کامیاب اور روایتی میڈیا ناکام ہوا؟
(13.04.2016) میچ کا آنکھوں دیکھا حال،  ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ۔از؛ شاہ خالد ۔ سوات ، پاکستان
(12.04.2016) پانامہ لیکس اور اصل حکمرانی ۔۔۔۔ از؛ شبیر احمد ۔ لاہور ، پاکستان 
(01.04.2016) دلاسہ ہم کو دینے کا تماشہ خوب کرتے ہو.از؛ شبیر احمد ، لاہور ، پاکستان  
(24.03.2016) ایک ہی سکے کے دو رُخ ۔از؛ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
(22.03.2016) خوش آمدید ۔۔۔ امن کے شہر میں از؛  نذر حافی ، ایران 
(18.01.2016) اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال  ملک بھر کا آئینہ ہے ۔ از۔زبیر منور
(11.01.2016) ریڈیو پاکستان جو کبھی ایک تربیت گاہ تھی ۔ از۔ زبیر منور
(30.12.2015) پاکستان ٹی وی کے بانی اسلم اظہر، جو اب ہم میں نہیں رہے
(09.11.2015) شاعر مشرق علامہ محمد اقبال 9 / نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں تولد ہوئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی   
  مزید ++
  صفدر ھمٰدانی    
  مزید ++
  ماہ پارہ صفدر   
  مزید ++
  ڈاکٹر نگہت نسیم   
  مزید ++
  زرقا مفتی   
  مزید ++
  سیدہ زائرہ عابدی۰بجو   
  مزید ++
  محمد احمد ترازی   
  مزید ++
  محمد عظیم اعظم   
  مزید ++
  عالم آرا   
  مزید ++
  سیدہ رافیعہ گیلانی   
  مزید ++
  شاہین اشرف علی   
  مزید ++
  اظہرالحق نسیم   
  مزید ++
  فرخندہ رضوی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں