شہر بھر میں آج پھر سینہ زنی کا شور تھا
آج پھر سارے پرندے اڑ گئے اشجار سے
اس طرح ہر اک روایت شہر کی بدلی گئی
اب علاج درد پوچھا جائے ہے بیمار سے
سائے سے ڈر کر امیر شہر جب مرنے لگے
قتل پھر کیونکر کیا جائے اُسے تلوار سے
شاہوں کے دربار کی اللہ رے بدعنوانیاں
خوں غریبوں کا نچوڑا خنجروں کی دھار سے
سائلِ بد بخت کس کے در پہ دے دستک کہ جب
منصف اعلیٰ کو ڈر ہو سایہء دیوار سے
ہتھکڑی سے کیا زباں بھی روک سکتا ہے کوئیِ
اک سوالِ بے ضرر اس ملک کی سرکار سے
بیچ دے منبر سے جو نامِ خُدا نامِ رسول
مجھ سا بے دیں لاکھ درجے خوب اُس دیں دار سے
کل کا دن ہو گا ہمارا ہے نویدِ آفتاب
اس لیئے ہم سر کٹا کر بھی ہیں اب سرشار سے
اس حکومت کو بھلا صفدر حکومت کیا کہیں
جو حکومت خوف کھا جائے فقط اقرار سے