پاکستان کے نامور فلسفی، دانشور اور روزنامہ جنگ کراچی کے سابق مدیر سید محمد تقی کی تاریخ پیدائش 2 مئی 1917ء ہے۔

سید محمد تقی امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر رئیس امروہوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی تصانیف میں تاریخ و کائنات: میرا نظریہ، پراسرار کائنات، منطق، فلسفہ اور تاریخ، نہج البلاغہ کا تصور الوہیت اور روح اور فلسفہ کے نام شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے کارل مارکس کی مشہور تصنیف داس کیپٹال کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ ان کا شمار پاکستان کے صف اوّل کے فلسفیوں اور دانشوروں میں ہوتا تھا۔
25جون 1999ء کو سید محمد تقی کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
---------------------------------------------------------------------
مولانا عبدالستار خان نیازی کی وفات
معروف سیاستدان، عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915ء کو اٹک پنوالا تحصیل عیسیٰ خیل ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے تھے۔ عیسیٰ خیل سے میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے دینی تعلیم کے حصول کے لئے اشاعت اسلام کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ اس کالج سے منشی فاضل کرنے کے بعد 1940ء میں ایم اے کیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور پنجاب مسلم فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے۔ بعدازاں وہ پنجاب مسلم لیگ کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز ہوئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی اور صوبائی کونسل کے رکن بھی بنے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے حسین شہید سہروردی کی پاکستان عوامی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1946ء اور 1951ء میں وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1953ء میں انہوں نے تحریک تحفظ ختم نبوت میں فعال کردار ادا کیا جس پر انہیں مارشل لاء کی ایک فوجی عدالت نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ سزائے موت سنائی۔ بعدازاں ان دونوں رہنمائوں کی یہ سزا 14 سال قید بامشقت میں تبدیل ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور اس کے سیکریٹری جنرل اور مرکزی صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء اور 1990ء کے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1994ء سے 1999ء تک سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ اسی دوران انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔
٭2 مئی 2001ء کو معروف سیاستدان، عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی میانوالی میں وفات پاگئے۔
مولانا عبدالستار خان نیازی مدرسہ و جامع مسجد انجمن فلاح المسلمین، روکڑی موڑ، میانوالی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں
---------------------------------------------------------------
واہ آرڈیننس فیکٹری کی تعمیر کا آغاز
قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان میں ایک ایسے کارخانے کی ضرورت محسوس ہورہی تھی جہاں اسلحہ سازی کی جاسکے اور ملک کو اسلحہ سازی کی صنعت میں خودکفیل کیا جاسکے۔ 2 مئی 1949ء وہ یادگار دن تھا جب واہ کینٹ کے علاقے میں ایک اسلحہ ساز فیکٹری کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ تعمیر تقریباً ڈھائی سال میں مکمل ہوئی اور 28 دسمبر 1951ء کو پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کی اس پہلی آرڈی ننس فیکٹری کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے موجودہ غیر یقینی حالات کے پیش نظر پاکستان کے دفاع کو بہت اہمیت حاصل ہے اسی لیے مسلح افواج کی دیکھ بھال اور ان کے لیے بہترین اسلحے کی فراہمی کو دوسرے تمام کاموں پر فوقیت دی گئی ہے۔
پاکستان آرڈی ننس فیکٹری، پاکستان کی دفاعی ضروریات پورا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کررہی ہے اور یوں پاکستان کی تعمیر و ترقی کا ایک روشن مینارہ بن چکی ہے