راچی میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پرعدالت نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کیس میں پولیس کی نااہلی ثابت ہوچکی ہے، انسپکٹر جہانزیب نوکری کے قابل نہیں ، کیس خراب کررہا ہے۔
سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ جج ویسٹ کی عدالت میں ہوئی۔ سماعت کے دوران اے آئی جی لیگل مظہر علوی نے مقدمے کی 214صفحات پر مشتمل جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی ۔
عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر انسپکٹر جہانزیب کے پیش نہ ہونے پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ جے آئی ٹی کے حقائق سے عدالت کو آگاہ کیا جائے جس پر اے آئی جی لیگل نے بتایا کہ مقدمے کی تفتیش ایس ایس پی انوسٹی گیشن اختر فاروق کے حوالے کی گئی ہے۔
عدالت نے ایس ایس پی کی جانب سے پیش کی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ لینے سے انکار کردیا اور ریمارکس دئیے کہ جے آئی ٹی رپورٹ تفتیشی افسر سے طلب کی تھی جو آپ جمع کرارہے ہیں وہ عدالت میں ہے۔
سماعت میں پولیس نے ایم کیوایم کے مفرور ملزم منصور کی عدم گرفتاری سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے ساتھ مکمل تحریری رپورٹ پیش کی جائے۔
تفتیشی افسر دو پیشیوں سے منصور کی گرفتاری سے متعلق عدالت کو گمراہ کررہا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے اہل افسر کو مقرر کیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کے پولیس کا حال دنیا نے دیکھ لیا ہے اوراب عدالت کچھ کریگی۔
عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ملزم ایم کیوایم کے کارکن منصور کے ایک بارپھرناقابل ضمانت ورنٹ گرفتاری جاری کیے اور حکم دیا کہ متعلقہ ایس پی ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرے۔ عدالت نے سماعت مقدمے کی سماعت 28مئی تک ملتوی کردی۔