16.10.2026, 05:13am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
امریکا نے الزام عاید کیا ہے کہ اسد حکومت حلب اور دوسرے شہروں میں انسانی امداد فراہم کرنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
کویت کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ ملک کی سیکورٹی کو نشانہ بنانے کے مقصد سے تیار کیے گئے تین منصوبوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے
 
مشرق وسطیٰ/افریقہ
 

غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی صہیونی مہم دوبارہ شروع
03.05.2016, 08:02am , منگل (GMT+1)

مرکز اطلاعات فلسطین 
اسرائیل میں ایک بار پھر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کو صہیونی ریاست کا مستقل حصہ بنانے کی مذموم مہم شروع ہو گئی ہے۔ یہ مہم ماضی میں بھی اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] میں شروع کی گئی تھی مگر بعد ازاں اسے باوجوہ روک دیا گیا تھا۔

حال ہی میں اسرائیل کے ایک سرکردہ یہودی لیڈر’شیلا الدار‘ نے انکشاف کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں جلد ہی ایک بل پیش کیا جانا ہے جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ ارکان پارلیمنٹ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنانے کے لیے قانون سازی کریں۔

اسرائیل کے عبرانی اخبار’’معاریف‘‘ نے شیلا الدار کا بیان نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں ایسے کئی ارکان موجود ہیں جو مغربی کنارے کو اسرائیل کا اٹوٹ انگ قرار دینے کا خیال رکھتے ہیں اور وہ اپنے اس نظریے کو عملی شکل میں ڈھانے کے لیے قانون سازی کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

اسرائیل کی حکمراں جماعت ’’لیکوڈ‘‘ سے تعلق رکھنے والے رکن کنیسٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی ارکان پارلیمنٹ اور وزراء سے بھی اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو یہودی ریاست کا حصہ بنانے کے لیے قانون سازی کے عمل میں حصہ لیں گے۔ ان کے ساتھ شدت پسند مذہبی سیاسی جماعت’’جیوش ہوم‘‘ کے ارکان کنیسٹ بھی شامل ہیں اور وہ سب مل کر جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کریں گے جس میں غرب اردن کو صہیونی ریاست کا حصہ بنایا جائے گا۔

عبرانی اخبار کا کہنا ہے کہ شیلا الدار اور اس کے حامیوں کو اسرائیل کے نائب وزیردفاع اور جیوش ہوم کے لیڈر ایلی بن ڈھان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اخباری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ارکان کنیسٹ کی تجویز یہ ہے کہ مغربی کنارے کے ’سیکٹر C‘ کا علاقہ اسرائیل میں شامل کرلیا جائے کیونکہ یہ بھی غرب اردن کے کل رقبے کا 60 فی صد ہے۔

معاریف کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے سیکٹر سی میں چار لاکھ یہودی اور 70 ہزار عرب شہری آباد ہیں۔ اس سیکٹر کو اسرائیل میں ضم کیے جانے کے بعد عرب آبادی کے سامنے دوآپشنز رکھے جائیں گے۔ وہ چاہیں تو اسرائیل کی شہرت اختیار کریں اور اپنی علاقوں میں ٹھہرے رہے ہیں۔ اگر وہ اسرائیلی شہریت پر راضی نہ ہوں تو انہیں متبادل علاقوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

:دیگر مضامین
(02.05.2016) فلسطینی اسیرسامی جنازرہ کی صہیونی جیل میں بھوک ہڑتال کے دو ماہ مکمل
(01.05.2016) گرفتاریوں سے حماس کی عوامی مقبولیت میں اور بھی اضافہ ہوگا۔
(30.04.2016) اسلامک بلاک کی کامیابی مزاحمتی قوتوں کے حق میں عوام کا ریفرنڈم ہے:مشعل
(29.04.2016) اسرائیلی جرائم پر عالمی خاموشی نے فلسطینی خون ارزاں کردیا: حماس
(28.04.2016) وادی گولان کو اسرائیل کا اٹوٹ انگ قرار دینے کا جواز نہیں: سلامتی کونسل
(27.04.2016) اسرائیلی حکام کی ہٹ دھرمی، فلسطینی اسیرات کو وکلاء سے ملنے سے روک دیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں