اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کا اصل نام فاروق احمد تھا اور وہ 4 مئی 1922ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے بدایوں سے ہی تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کے جریدے آہنگ سے منسلک ہوگئے۔ محشر بدایونی کا شمار پاکستان کے ممتاز شعرا میں ہوتا تھا۔ غزل ان کی محبوب صنف سخن تھی۔ ان کی تصانیف میں شہر نوا، غزل دریا، گردش کوزہ، فصل فردا، چراغ ہم نوا، حرف ثنا، شاعر نامہ، سائنس نامہ اور بین باجے کے نام شامل ہیں۔
٭9 نومبر 1994ء کو اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اختر شیرانی کی پیدائش
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اردو کے معروف شاعر جناب اختر شیرانی 4 مئی1905ء کو ریاست ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔
اختر شیرانی اردو کے نامور محقق حافظ محمود خان شیرانی کے فرزند تھے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں بسر ہوا۔ وہ اردو کے کئی ادبی جرائد کے مدیر رہے۔ انہیں شاعر رومان بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں اخترستان، شعرستان، شہناز، جہاں ریحانہ رہتی ہے، صبح بہار، طیور آوارہ اور لالۂ طور کے نام سرفہرست ہیں۔
٭9 ستمبر 1948ء کو جناب اختر شیرانی لاہور میں وفات پاگئے۔
اختر شیرانی لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ان کی قبر کا کتبہ پاکستان کے مشہور خطاط صوفی خورشید عالم خورشید رقم کی خطاطی کا شاہکار ہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
شوکت تھانوی کی وفات
پاکستان کے اردو کے نامور مزاح نگار‘ شاعر اور صحافی جناب شوکت تھانوی کی تاریخ پیدائش 2 فروری 1904ء ہے۔
جناب شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا اور وہ بندرابن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے تھے۔آبائی وطن تھانہ بھون ضلع مظفر نگر تھا اور اسی نسبت سے تھانوی کہلاتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک لکھنو میں مقیم رہے جہاں انہوں نے مزاح نگاری‘ شاعری اور صحافت کے میدانوں میں جھنڈے گاڑے۔ 1930ء میں نیرنگ خیال کے سالنامے میں ان کا مشہور مزاحیہ افسانہ ‘‘ سودیشی ریل‘‘ شائع ہوا جس کے بعد ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہونے لگا۔
قیام پاکستان کے بعد جناب شوکت تھانوی پاکستان منتقل ہوگئے اور پہلے کراچی اور پھر راولپنڈی میں مقیم ہوئے جہاں وہ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے مدیر مقرر ہوئے تھے۔روزنامہ جنگ میں ان کے کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ اور پہاڑ تلے بھی قارئین میں بے حد مقبول تھے۔
جناب شوکت تھانوی کی تصانیف میں موج تبسم‘ بحر تبسم‘ دنیائے تبسم‘برق تبسم، سیلاب تبسم‘ سودیشی ریل‘ قاعدہ بے قاعدہ‘ نیلوفر‘ جوڑ توڑ‘ سنی سنائی‘ خدانخواستہ‘ بارخاطر ، ان کی خودنوشت سوانح ’’مابدولت‘‘ اور خاکوں کا مجموعہ شیش محل شامل ہیں۔
شوکت تھانوی4 مئی 1963ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور وہیں حضرت میاں میر کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
----------------------------------------------------------------
ٹیپو سلطان کی شہادت
---------------------------------------------------------------
ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کا اصل نام فتح علی خان تھا اور وہ 20 نومبر 1750ء کو پیدا ہوئے تھے ۔ان کے والد حیدر علی نے18 ویں صدی کے اوائل میں جنوبی ہند میں سلطنت میسور کے نام سے ایک بڑی سلطنت قائم کی تھی جس کا صدر مقام سرنگا پٹم تھا۔ حیدر علی پہلی شخصیت تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ وہ اپنی وفات کے بعد اپنے فرزند ٹیپو سلطان کے لیے دو ورثے چھوڑ کر رخصت ہوئے، ایک تاج و تخت اور دوسرا انگریزوں کے خطرے کا انسداد۔ ٹیپو سلطان نے دونوں ورثے جوانمردی سے سنبھالے۔ انہوں نے انگریزوں سے دو زبردست لڑائیاں لڑیں مگر اپنوں کی غداری اور مرہٹوں کی امداد سے انگریزوں نے ٹیپو سلطان کے خلاف کامیابی حاصل کرلی۔ 4 مئی 1799ء کو یہ بہادر شخص میدان جنگ میں لڑتا ہوا شہید ہوگیا۔
ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریز رفتہ رفتہ پورے ہندوستان پر قابض ہوگئے تاہم ٹیپو سلطان نے آزادی کی جس آگ کو روشن کیا تھا وہ برابر سلگتی رہی اور ڈیڑھ سو سال بعد انگریزوں کو ہندوستان سے رخصت ہونا پڑا۔
ٹیپو سلطان کا مشہور قول تھا: گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے اپنے اس قول کو سچ کر دکھایا۔
*4 مئی 1799ء ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کی تاریخ شہادت ہے۔
----------------------------------------------------------------