وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پاناما لیکس کی تحقیقات پر اتحادی جماعتوں کواعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ جامع ٹی او آر بن چکے ہیں، اب اپوزیشن کی ہٹ دھرمی سمجھ سے بالا تر ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس میں پانامالیکس کی تحقیقات کےمعاملے پر تفصیلی غورکیاگیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اورقانونی وآئینی ٹیم نے اپوزیشن کے مجوزہ ٹی او آر سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔
زاہد حامد نےکہاکہ حکومتی ٹی او آرز ہر لحاظ سے جامع اور بہتر ہیں،اپوزیشن نے کئی نکات نکال دیے ہیں، اس کے باوجود اپوزیشن کے مجوزہ ٹی او آر پرغور کیاجا سکتا ہے، حکومتی ٹیم بناکر بات چیت بھی کی جا سکتی ہے ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کاکہناتھاکہ اپوزیشن کے مطالبے پر ہی جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا، جامع ٹی او آر بھی چیف جسٹس پاکستان کو بھجوائے، اب اپوزیشن کا اپنے ٹی او آر منوانے کامطالبہ سمجھ سے بالا تر اور حیران کن ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ خود کو اور اپنے خاندان کوپہلے ہی احتساب کے لیے پیش کرچکے ہیں، شروعات بھی خود سے کرنے کی پیشکش کی، ہاتھ صاف ہیں اور نیت بھی۔
ذرائع کاکہناہےکہ بعض وفاقی وزرا نے اپوزیشن کے رویے پربرہمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ پہلے وزیر اعظم کے خاندان کا احتساب کرنے کا مطالبہ متعصبانہ ہے، سب کا برابری کی بنیاد پر احتساب ہونا چاہیئے، اپوزیشن کے مجوزہ ٹی او آر کچھ اپنوں کو بچانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ حکومت موجودہ صورت حال پر اتحادی اور ہم خیال جماعتوں کو اعتماد میں لے گی