ڈاکٹر عاصم اور دیگر ملزمان پر چار سوباسٹھ ارب روپے کا کرپشن کیس کی سماعت احتساب عدالت میں ہوئی ڈاکٹر عاصم اور دیگر پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ ملزمان کا صحت جرم سے انکار۔احتساب عدالت نے سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین ، سید صفدر حسین ، محمد اعجاز چوہدری اور اطہر حسین پر چار سو باسٹھ ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی۔
فرد جرم میں زمینوں پر ناجائز اور فراڈ کے ضمن میں ساڑھے نو ارب روپے، منی لانڈرنگ کے ذریعے تین ارب روپے اور کھاد کے کوٹے میں ساڑھے چار سو ارب روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے
۔ڈاکٹر عاصم حسین سمیت چاروں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔ نیب نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عاصم نے مشترکہ مفادات کونسل کوغلط معلومات فراہم کیں، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے پر گیس کی مصنوعی قلت سے یوریاکی قیمتوں پراثرپڑا اور یوریاکی قیمت فی بوری آٹھ سو پچاس سےبڑھ کراٹھارہ سو تیس روپے تک پہنچی، جبکہ سابق صدرکے ڈی ایل بی صفدرحسین کی مددسےٹھیکا حاصل کیا گیا
۔نیب کے مطابق ڈاکٹر آصم نے دو ہزار بارہ سے دوہزار تیرہ تک قومی خزانے کو ساٹھے چار سو ارب روپے کانقصان پہنچایا، جبکہ ضیاءالدین اسپتال کےقیام کیلیے بھی غیرقانونی طورپرزمین حاصل کی۔ احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ راحیل شاہنواز کو طلب کرلیا ہے۔