واقف کاروں اور بہی خواہوں کو پتہ تھا کہ حکمران خاندان پر بجلی گرنے والی ہے؟ اور وہ اس کی تیاری میں لگے ہوئے تھے جبکہ حزب اختلاف اپنی پارٹی کے دڑاڑوں میں سیمنٹ بھرنے پر لگی ہوئی تھی یازخموں کو چاٹ رہی تھی اس لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی ۔ اس کے برعکس حکومت نے شاید ان وہ پیر تسمہ پا سے مشورے کے لیے یاد کرلیا جو تاسیس ِپاکستان سے اس قسم کے مشورے دینے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جو اس قانون خالق بھی ہیں جو ایسے موقعوں پر ہمیشہ بلامتیاز فوجی اور جمہوری آمروں کے کام آتے رہے ہیں۔
انہوں نے ہی انہیں بھی راستہ دکھا دیا کہ تم سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن بنانے کا اعلان کردو؟ کیونکہ یہ بارہا کا آزمودہ نسخہ ہے۔ جس سے سانپ بھی مرجاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ اس کی افادیت بناپر چھپن کا آئین تو ایوب خان توڑدیا مگر اس کو باسٹھ کے آئین میںتحفظ دیدیا تھا جو کہ سب آئین توڑنے والوں باقی رکھا اور ابھی تک چلا آرہا ۔ یہ عوام کے لیے وہی کام کر تا ہے جو لولی پاپ بچے کے لیے ؟ جب چیخے اس کے منہ میں لولی پاپ دیدو وہ نہ صرف خاموش ہوجائے گابلکہ منھ میںجب تک اس کی مٹھاس محسوس کریگا چپ بھی رہے گا۔ کیونکہ یہ شروع دن سے ہی بڑی کامیابی سے چلتا آرہا تھا اس لیے اسے ٣٧٩١ کے آئین میں بھی سیانوں کے مشورے باقی رکھا گیا ؟اور بھٹو صاحب نے بھی حمود الرحمٰن کمیشن بنا کرا س کی فادیت سے فائدہ اٹھا یا کہ ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی جنہوں نے پاکستان توڑا تھا۔ اگر وہ چاہتے تو اسوقت توڑنے والوں کو سزا دے سکتے تھے کیونکہ انہیں یہ فخر حاصل تھا کہ انہوں نے ایک دن میں یہ کہکر ٥٢ میجر جنرل نکا ل دیے تھے کہ ً یہ سب فوجی وڈیرے ہیں ان کے گاو¿ں کے گاو¿ ںفوج میں ہیں جن میں ان بیچاروں کا کوئی قصور اگر تھا تو ان کے اجداد کے انہوں نے یا ان کے بڑوں ر ہائش کے لیے وہ علاقہ کیوں پسند کیا جو سولجر لینڈ کہلاتا ہے ۔ جنہیں ہندوستان کی تاریخ سے تھوڑی سی بھی دلچسپی ہے وہ جانتے ہیں ،جو حصہ اب پاکستان کہلاتا ہے اس میں کچھ علاقے ایسے ہیں جنکی پشتیں فوج میں گزریں کیونکہ اس علاقے کی زمین زرخیز نہیں تھی اوروہ ہمیشہ سے صرف فوج کے لیے سولجر پیدا کرنے کے کام آتے تھے اور اس لیے سولجر لینڈ کہلاتے ہیں۔
لوگ ہمیشہ کی طرح اس ا مید پر بیٹھے رہے کہ اس کا ابکی نتیجہ ضرور نکلے گا جو نکلا بھی؟ تاخیر سے سہی اس کی رپورٹ آبھی گئی مگر اسے بھٹو صاحب اپنی کرسی کی گدی کے نیچے رکھ کربیٹھ گئے جیسے اکثر عدالتوں میں ہیڈ کلرک کسی انتہائی اہم فائل کو اپنی کرسی کی گدی نیچے دبا کر بیٹھ جاتا ہے اوراُدھر اپیل کا وقت نکلتے دیکھ کر اسے حسب مرضی نیازی چراغی مل جاتی ہے۔ اگر نہ ملے،تو وہ باہر نہیں آتی کیونکہ یہ کسی کے خیا ل میں بھی نہیں ہوتا کہ ہیڈ کلرک صاحب اپنی گدی کے نیچے اسے دبائے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ کسی کی جرات ہی نہیں ہوسکتی کہ کسی صاحب اختیار کی چاہیں وہ ہیڈ کلرک ہی کیوںنہ ہو؟ کہ کہے ً سر اٹھیے میں آپکی کرسی کی گدی کے نیچے فائل تلاش کرنا چاہتا ہوں؟ لیکن موجودہ حکمرانوں نے اندازہ غلط لگایا اور وہ جلدی میں شاید اس پر غور نہیں کرسکے کہ اب میڈیا وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ میڈیا ان کی تمام باتوں سے باخبر ہے اور سارا کچا چٹھا کھول دیگا؟ لہذاا بھی کمیشن بننے کا وعدہ ہی ہوا تھا کہ اس نے عوام اور حزب ِ اختلاف دونوں خبردار کردیا کہ اگر اس کو مان لیا تو انتظار کے لمحے اتنے طویل ہو جائیں گے کہ کم ز کم سو نہیں تو ستر سال تو ضرور لگیں گے جتنی پاکستان کی عمر ہے؟ جبکہ اس سے پہلے جب بھی اس قانون کے تحت کمیشن بنا تو وہ بظاہر لا محدود اختیارات کا مالک ہوا کرتا تھا۔اب اسے مزید بے کار کردیا گیا تھا کہ وہ ٹرمس آف ریفرینس کے ساتھ تھا ؟ جس کے معنی یہ تھے کہ یہ تحقیقات میں بھی اپنے د ائرہ ختیار میں رہے گا۔ لہذااپوزیشن کے کان کھڑے ہوگئے وہ ہتھے سے اکھڑ گئی کہ وہ پرانے کھلونے سے کھیلنے دینے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ وہ نئے ٹرمس آف ریفرینس کے ساتھ نیا قانون مانگ رہی ہے؟ یہ تو تھی قانونی داو¿ں پیچ کی صورت ِ حال۔ مگر دوسری طرف بھی کچی گولیاں کھیلنے والے نو آموز کھلاڑی نہیں ہیں ، انہوں نے حزب ِ اختلاف کی صفوں میں اپنے آدمی پہلے ہی داخل کیے ہوئے تھے جو اس میں بخوبی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسرے ماشا اللہ پانامہ لیکس کے مارے دونوں طرف ہیں اور اپنی گردن دوسرے کے ہاتھ میں بھلا کون دیتا ہے؟ لہذا دونوں کھلاڑی میدان میں کود پڑے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالتے پھر رہے ہیں اور محاورے تک بھی بے جوڑ استعمال کر رہے ہیں ًجیسے کہ یہ منھ اور مسور کی دال؟ حالانکہ انہیں یہ کہنا چاہیئے تھا کہ وہ جانتے ہیں ان کا واسطہ کس سے پڑا ہے ۔سو سنار کی اور ایک لوہار کی چو کافی ہے۔
اوروں کی تو خیر ہے جیسے وہ ویسے یہ؟ مگر ہم نے ایک مولانا کویہ فرماتے ہوئے حیرت سے سنا کہ علاءدین کے جن کی طرح کہہ رہے تھے کہ بس سرکار حکم کریں ہم آپ کے مخالف کے گھر کی اینٹیں تک غائب کردیں گے؟ یہ وہ صاحب ہیں جو اکیلے نہیں ہیں بلکہ ایک جماعت کے سربراہ ہیں اور اسلامی مدرسوں کیا ا یک چین رکھتے ہیں ۔ ان کی نظروں سے یہ آیت ضرور گزری ہوگی کہ جس میں ہدایت ہے کہ ً مسلمان صرف بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کریں برائی میں نہیں ًوہ گھر کے بھیدی ہیں اور انہیں اپنے ممدوح کی تمام خوبیاں بھی معلوم ہیں، وہ دھوکا نہیں کھا سکتے ان کا یہ کہنا ہمیں بہت ہی عجیب لگا؟ جب کے ہم نے بھی پڑھا ہے کہ ایک مسلمان کا مال عزت اور آبرو دوسرے پر حرام ہے لہذ ا ہمیں پتہ نہیں کہ آقا کے دوست کے دشمن کا گھر مسمار کر کے اس کی اینٹیں وہ رکھیں گے کہاںکیونکہ وہ کچی اینٹیں توہیں نہیں جن کو وہ کسی نالے میں ڈال کر اور اس پر قبضہ کرکے زرعی آراضی بنا کر بیٹھ جائیں ۔ جبکہ ہمارے علماءکا یہ عالم ہے تو قوم کو دین کا علم کون سکھائے گا؟ اور سیدھا راستہ کون بتا ئے گا؟
ہم بھی انتظار میں ہیں اور آپ بھی انتظار کیجئے کہ اگلے ہفتہ تک اور کیاکیا عالم ِ وجود میں آتا ہے۔ اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا مانگتے رہیے۔